جنسی تعلق میں صرف ’ہاں‘ کا مطلب ہی ’ہاں‘ ہوتا ہے، سپین میں ریپ سے متعلق نیا قانون

ریپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس نئے قانون کے تحت رضامندی کے بغیر کوئی بھی جنسی عمل اب حملہ تصور کیا جائے گا

سپین کی پارلیمنٹ نے ایک ایسے قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت جنسی تشدد کا شکار ہونے والے افراد کو حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ چلانے میں آسانی ہو گی۔

اس قانون کے تحت جنسی عمل میں رضامندی کے عنصر کو اجاگر کرنے میں آسانی ہو گی۔ یہ مہم چھ سال قبل ہونے والے ایک گینگ ریپ کے مقدمے کے قانونی اور سماجی پہلؤوں میں مسائل سامنے آنے کے بعد چلائی گئی تھی۔

سپین کی پارلیمان میں ’صرف ہاں کا مطلب ہاں‘ نامی اس جنسی تعلق کی آزادی کے قانون کو واضح اکثریت سے منظور کیا گیا۔

اس قانون کے نافذ العمل ہونے سے پہلے اسے سینیٹ سے منظور کروانا ضروری ہے۔ اس قانون کی تیاری اور منظور کروانے میں اہم کردار ادا کرنے والی سپین کی وزیر برائے مساوات آئرین مونٹیرو کا کہنا تھا کہ ’بلآخر اب ہمارے ملک میں جنسی تعلق کی آزادی کا حق حاصل ہو گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم تشدد کے بدلے آزادی لے رہے ہیں اور ہم خوف کو خواہش میں تبدیل کرنے جا رہے ہیں۔ آج سے، سپین تمام خواتین کے لیے ایک آزاد اور محفوظ ملک ہے۔‘

اس قانونی کا مطلب ہے کہ اب جنسی تشدد کا نشانے بننے والی خواتین یا افراد کو یہ ثابت نہیں کرنا پڑے گا کہ انھیں جبری طور پر جنسی حملے کا نشانہ بنایا گیا اور یہ کہ انھوں نے اس پر مزاحمت کی تھی یا نہیں۔ اب ان کی رضامندی کے بنا کوئی بھی جنسی عمل جنسی حملہ تصور ہو گا اور قابل گرفت ہو گا۔

اس قانونی بل میں یہ درج کیا گیا ہے کہ ’کسی بھی جنسی عمل میں رضامندی صرف اس وقت تصور کی جائے گی جب اس بارے میں فرد کی ہاں کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہو۔‘

سپین کی وزیر برائے مساوات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسپین کی وزیر برائے مساوات آئرین مونٹیرو کا کہنا تھا کہ ’بلآخر اب ہمارے ملک میں جنسی تعلق کی آزادی کا حق حاصل ہو گا‘

ڈر اور خوف سے مفلوج

سپین کی پیڈرو سانچیز کی بائیں بازو کی مخلوط حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی یہ ترمیم بڑی حد تک نام نہاد مناڈا یا ’وولف پیک‘ کیس کی وجہ سے سامنے آئی۔ اس کیس میں شہر میں ہونے والے بل رن فیسٹیول کے دوران پانچ افراد نے پامپلونا شہر میں ایک 18 برس کی لڑکی کا اجتمائی ریپ کیا تھا۔

ان تمام افراد پر مقدمہ چلا اور یہ جنسی تشدد کے مرتکب پائے گئے تھے اور انھیں نو سال قید کی سزا سنائی گئی۔ لیکن عدالت نے مجرموں کو ریپ کے جرم کا مرتکب نہیں پایا کیونکہ اس واقعے میں تشدد اور دھمکی کا استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

اس کیس میں رضامندی کا مسئلہ کلیدی تھا اور ملزمان کی قانونی ٹیم نے اصرار کیا تھا کہ متاثرہ لڑکی نے واقعے کے دوران کبھی بھی ’نہیں‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔

اس خاتون کا کہنا تھا کہ واقعے کے دوران وہ خوف سے مفلوج ہو گئی تھیں۔

اس فیصلے کے بعد زبردست سماجی ردعمل سامنے آیا تھا اور ملک میں اس کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے تھے جبکہ چند سیاست دانوں نے بھی اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

سنہ 2019 میں، سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے، پانچ ملزمان کو ریپ کا مجرم قرار دیا تھا اور ان کی سزا کو بڑھا کر 15 سال کر دیا تھا۔

سپین میں 2021 میں کل 2,143 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ اور تاریخی لحاظ سے سب سے زیادہ تعداد ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، سات دیگر یورپی ممالک میں 2018 سے رضامندی پر مبنی ریپ کا قانون موجود ہے۔ ان میں ڈنمارک، کروشیا، یونان، مالٹا، سویڈن، آئس لینڈ اور سلووینیا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم، سپین کی انتہائی دائیں بازو کی ووکس پارٹی اور قدامت پسند پاپولر پارٹی نے اس نئے قانون کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ناقابل عمل ہے۔

سپین

،تصویر کا ذریعہiStock

،تصویر کا کیپشناس قانون کا مطلب ہے کہ متاثرین کو جنسی حملے کا شکار ہونے کے بعد اب یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ انھیں تشدد یا دھمکی کا سامنا کرنا پڑا

ووکس پارٹی کی رہنما کارلا ٹوسکانو نے کہا ہے کہ جب آپ سسٹم کو بغیر ثبوت کے کسی عورت پر یقین کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو یہ ایک بہت ہی خطرناک ہتھیار بن جاتا ہے جسے کوئی بھی عورت جھوٹ کا استعمال کر کے بدلہ لینے یا کسی بے گناہ کی زندگی تباہ کرنے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’بہت سے معاملات میں مرد کے لیے رضامندی ثابت کرنا ناممکن ہے۔‘

یہ نیا قانون ریپ کا شکار ہونے والوں کے لیے زیادہ مدد فراہم کرنے کے لیے بھی مددگار ثابت ہو گا۔ اس میں جنسی تشدد کی تعریف کو بھی وسیع کیا گیا ہے، مثال کے طور پر کسی عوامی جگہ پر ہراساں کرنا اور کسی شخص کو ناپسندیدہ ’جنسی یا جنس پرستانہ اظہار، طرز عمل یا تجویز‘ کے ذریعے ذلیل کرنے کے عمل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ ایسے اشتہارات پر بھی پابندی عائد کرتا ہے جو صنفی دقیانوسی تصورات کو تقویت دیتے ہیں یا جنھیں جسم فروشی کو فروغ دینے کے لیے دیکھا جاتا ہے۔

قانون سازی کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد ’جنسی استحصال، جسم فروشی اور فحش نگاری سے منسلک ہر قسم کی خدمات کے مطالبے کو مسترد کرنا ہے جو جنسی تشدد کو معمول بناتی ہے۔‘

اس قانون میں نوجوان مجرموں کو جنسی رویے اور مساوات پر تعلیم اور آگہی کی تعلیم و تربیت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سپین میں نابالغ افراد کی طرف سے حالیہ جنسی حملوں میں اضافے کے بعد تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، اس ماہ کے شروع میں پانچ نوعمر لڑکوں کو دو لڑکیوں کے مبینہ ریپ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔