لائبیریا کے نوجوان ٹیکسی ڈرائیور کی ایمانداری جس نے ان کی زندگی بدل دی

ایمانوئل ٹولو

لائبیریا کے ایمانوئل ٹولو کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی جدید افسانے سے کم نہیں۔ آسمانی نیلے شرٹ اور گہرے نیلے شارٹس والے سکول یونیفارم میں ملبوس 19 سالہ نوجوان اپنے سے کم از کم چھ سال چھوٹے بچوں سے بھری کلاس میں منفرد نظر آتے ہیں۔

تاہم پہلے ایک بار پرائمری سکول چھوڑنے والے یہ طالب علم پھر سے سکول میں داخل ہونے کے باعث خوش ہیں۔

گذشتہ سال وہ ایک موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر روزی کمانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، جب انھیں سڑک کے کنارے پلاسٹک کے تھیلے میں کوئی 50 ہزار امریکی ڈالر کی مالیت کی رقم ملی تھی۔ یہ رقم ڈالر اور لائبیریا کی کرنسی میں تھی۔

یہ اتنی رقم تھی جو ان کی زندگی بدل سکتی تھی اور وہ اسے باآسانی اپنے پاس رکھ سکتے تھے، لیکن انھوں نے اسے اپنی چچی کے پاس امانت کے طور پر رکھا دیا اور جب اس رقم کے حقدار نے قومی ریڈیو پر نقد رقم تلاش کرنے میں مدد کی اپیل کی تو ایمانوئل سامنے آئے۔

کچھ لوگوں نے ان کی ایمانداری کا مذاق اڑایا اور کچھ نے کہا کہ وہ غربت میں ہی زندگی بسر کرتا ہوا مر جائے گا۔ لیکن ان کے اس عمل نے نہ صرف انھیں بہت سے انعامات دلوائے بلکہ لائبیریا کے سب سے معزز سکولوں میں سے ایک رِکس انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کروایا۔

ملک کے صدر جارج ویا نے انھیں 10 ہزار ڈالر بطور انعام دیے اور ایک مقامی میڈیا کے مالک نے بھی انھیں نقد رقم دی، جس میں سے کچھ رقم ناظرین اور سامعین کی طرف سے عطیہ کی گئی تھی۔

جو سڑک کنارے ملنے والی رقم کے اصل مالک تھے انھوں نے بھی ایمانوئل کو 1,500 ڈالر مالیت کا سامان عطیہ کیا۔

ان کے لیے ان سب کے علاوہ اور شاید سب سے اہم انعام یہ رہا کہ امریکہ کے ایک کالج نے انھیں ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مکمل سکالرشپ کی پیشکش کی ہے۔

ایمانوئل ٹولو

'تعلیمی ادارے کے نظم و ضبط سے لطف اندوز'

یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے انھوں نے رِکس انسٹیٹیوٹ پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ یہ ایک ایسا بورڈنگ سکول ہے جسے 135 سال قبل لائبیرین معاشرے کی اشرافیہ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ ان کا تعلق آزاد کردہ غلاموں سے تھا انھوں نے ہی ملک کی بنیاد رکھی تھی۔

اس کی دو منزلہ عمارتیں بحر اوقیانوس کے ساحل سے چھ کلومیرٹر دور ایک خوبصورت، سرسبز کیمپس میں نظر آتی ہیں۔

ایمانوئل نے ہنستے ہوئے اور اپنی قمیض کے کالر کو چھوتے ہوئے کہا: 'مجھے سکول میں مزا آ رہا ہے، اس لیے نہیں کہ رِکس کا بڑا نام ہے بلکہ اس کے تعلیمی اور اخلاقی ڈسپلین کی وجہ سے۔‘

دیہی پس منظر سے تعلق رکھنے والے بہت سے غریب لائبیریا کے بچوں کی طرح ہی انھوں نے نو سال کی عمر میں سکول چھوڑ دیا تاکہ اپنے خاندان کی مدد کے لیے کچھ پیسہ کما سکیں۔

انھوں نے اپنے والد کے ایک حادثے میں ڈوب کے مرنے کے بعد سکول چھوڑا اور اپنی چچی کے ساتھ رہنے لگے۔

وہ دو سال بعد ہی موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیور بن گئے۔ تعلیم سے اتنے لمبے عرصے تک دور رہنے کے بعد انھیں سکول میں بہت زیادہ اضافی مدد کی ضرورت ہے۔

ایمانوئل کی مرکزی کلاس ٹیچر تمبا بنگبیور نے بی بی سی کو بتایا: 'جب ایمانوئل نے چھٹی جماعت کی کلاس میں پہلی بار شمولیت اختیار کی تو وہ خود کو قدرے کمتر محسوس کر رہا تھا، وہ کلاس روم میں اپنی بات نہیں رکھ سکتا تھا۔ لیکن ہم نے روز بروز اس پر محنت کی۔

یہ بھی پڑھیے

'تعلیمی طور پر اس کی بنیاد کمزور تھی، لہٰذا ہم نے اسے ایک خصوصی پروگرام میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ اس سے اس کی مدد ہو رہی ہے۔'

اب اس کے سامنے سیکنڈری سکول کے چھ سال باقی ہیں اور جب وہ سیکنڈری سکول سے فارغ التحصیل ہوں گے تو ان کی عمر 25 سال ہو گی۔ تاہم انھیں اپنے ہم جماعت کے ساتھ عمر کے فرق پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ انھیں 'دوستانہ' کہتے ہیں۔

ایمانوئل بورڈنگ سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ڈارمیٹری کی زندگی اچھی ہے کیونکہ یہ کسی دن خود سے جینا سیکھنے کا ایک طریقہ ہے۔‘

مستقبل کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ یونیورسٹی میں اکاؤنٹنگ کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ’ملک کے پیسے کے استعمال میں رہنمائی کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔‘

ایک ایسے ملک میں ان کی دانشمندی اور ایمانداری کو مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں بدعنوانی کے الزامات عام ہیں اور حکام پر اکثر ریاستی وسائل چوری کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

لائبریا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

'ایماندار ہونا اچھا ہے'

جس طرح سے کچھ لوگوں نے رقم واپس کرنے پر ان کا مذاق اڑایا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’وہ اپنی مالی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے فنڈز کا استعمال کر سکتے تھے 'لیکن اب مجھے جو موقع ملا ہے وہ اس صورت میں کبھی نہ مل سکتا تھا۔‘

ایمانوئل نے ملنے والے انعامات پر خدا کا شکر ادا کیا اور کہا کہ وہ ’اپنے والدین کے شکر گزار ہیں جنھوں نے مجھے ایماندار بننا سکھایا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ 'اور تمام نوجوانوں کے لیے میرا پیغام ہے: ایماندار ہونا اچھا ہے؛ جو آپ کا نہیں ہے اسے نہ لیں۔'

رِکس سکول کے اساتذہ ایمانوئل کے وہاں ہونے کی تعریف کرتے ہیں۔ وہ چیلسی فٹبال ٹیم کے مداح ہیں اور اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ فٹبال کھیلتے ہیں۔

مسٹر بنگ بیور نے چیلسی کے اس مداح کے بارے میں کہا: 'نہ صرف ہم نے حال ہی میں ایک اسکول کے طور پر اس کی ایمانداری سے فائدہ اٹھایا ہے، بلکہ وہ سکول کی فٹبال ٹیم کے لیے دوسرا گول کیپر بھی ہے۔'

ایمانوئل کے ہم جماعت بھی اس کا وہاں پر استقبال کرتے ہیں۔

11 سالہ بیتھلین کیلی نے اسے ’بہترین دوست کہا جس کے ساتھ ہم شیئر کرتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال کرنا ہمیں پسند ہے کیونکہ وہ خاموش طبیعت ہے اور زیادہ بات نہیں کرتا ہے۔ [وہ] وفادار، قابل احترام اور سچا ہے۔‘

12سالہ کیلب کوپر کلاس میں اور ہاسٹل میں اپنے طرز عمل کے لیے ایمانوئل کی تعریف کرتے ہیں۔ کیلب نے ہنستے ہوئے کہا: 'وہ دوستوں سے چوری نہیں کرتا۔

'اگر ایمانوئل کو کوئی ایسی چیز ملتی ہے جو اس کی نہیں ہوتی ہے، تو وہ استاد کو اس کی اطلاع دیتا ہے۔ اگر استاد آس پاس نہیں ہے، تو وہ اسے ان کی میز پر رکھ دیتا ہے۔'

ایمانوئل نے موٹرسائیکل ٹیکسی ڈرائیور کی جو زندگی پیچھے چھوڑی اس سے تعلق رکھنے والوں کو اس کی زندگی سے کوئی زیادہ رشک نہیں۔

ان میں سے ایک 30 سالہ لارنس فلیمنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے نویں جماعت میں ہی سکول چھوڑ دیا تھا اور انھوں نے ایمانوئل کی کہانی کو قریب سے دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک اچھی بات ہے کہ ایمانوئل واپس سکول چلا گیا ہے، ہم اس کے لیے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔‘

منروویا کے مغرب میں بریور وِل کے مصروف چوراہے پر اپنی چینی ساختہ باکسر موٹرسائیکل کے پاس کھڑے ہو کر اس نے ایک نصیحت کی۔

’اسے اپنے مستقبل اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے سکول میں رہنے دیں۔۔۔ اب اس کے پاس ایک موقع ہے جو ہم میں سے کچھ کے پاس نہیں ہے۔‘