دریائے چترال میں طغیانی سے اپر چترال میں سیاح اور مکین کن مشکلات کا شکار ہیں؟

چترال

،تصویر کا ذریعہShakial Hussain

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’اپنے دوستوں کے ہمراہ محدود بجٹ کے ساتھ اپر چترال کیمپنگ کرنے پہنچے تھے۔ دو دن تک خوب تفریح کی مگر اب ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ واپسی کے راستے بند ہیں۔ ساری تفریح غارت ہو چکی ہے۔‘

یہ کہنا ہے اسلام آباد کے عبدالرؤف کا جو اپنے سات دوستوں کے ہمراہ اتوار کو تفریح کے بعد صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی پہنچے تو انھیں بتایا گیا کہ اپر چترال کے ریشن کے مقام پر دریائے چترال کے بہاؤ میں اچانک اضافے کے باعث کٹاؤ سے روڈ اور زمینیں دریا برد ہو چکی ہیں۔

اس وقت، اپر چترال کا لوئر چترال اور باقی ملک سے راستہ کٹ چکا ہے۔ البتہ شندور کے راستے گلگت کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔

عبدالرؤف کا کہنا تھا کہ ’گلگت تک پہنچے کے لیے تقریباً 400 کلو میٹر سفر بتایا جا رہا ہے۔ روڈ کی حالت بھی اتنی اچھی نہیں ہے۔ اگر ہم اس راستے پر سفر کریں تو یہ کوئی دو دن کا راستہ بن جائے گا۔

’جس کے بعد ہم نے اپنے والدین کو صورتحال بتا کر مزید پیسوں کا مطالبہ کیا ہے کہ اگر ہمیں بونی میں رکنا پڑے تو ہم ہوٹل میں قیام وغیرہ کر سکیں۔‘

عبدالرؤف کو تو اب واپسی کی فکر ہے۔ مگر کئی سیاح ایسے بھی ہیں جو دور دراز کے علاقوں سے سفر کر کے چترال پہنچے اور ان میں سے کئی اپر چترال کے راستے سے گلگت جانا چاہتے تھے۔ مگر اب وہ اس طرف سفر نہیں کر پا رہے ہیں۔

عبداسلام اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی سے چترال پہنچے ہیں۔ ان کا پروگرام شندور اپر چترال کے راستے سے گلگت جانے کا تھا۔ مگر اب وہ چترال ہی سے واپس جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اور میرے خاندان والے مایوس ہیں۔ ہم لوگوں نے ہزاروں روپے خرچ کیے ہیں۔ منصوبہ بندی کے مطابق دورہ مکمل نہ ہونے کا افسوس ہے۔‘

انتظامیہ کیا کہتی ہے؟

CHITRAL

،تصویر کا ذریعہShakial Hussain

،تصویر کا کیپشنانتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے مگر اب اس سے کسی اور آبادی کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ وہ اونچائی پر واقع ہیں۔ لگتا ہے کہ پندرہ اگست تک پانی کا بہاؤ زیادہ رہے گا اس کے بعد کم ہونے کا امکان ہے۔

ڈپٹی کمشنر اپر چترال شاہ سعود کے مطابق دریائے چترال میں پانی کا بڑا ذریعہ گلیشیئر ہیں۔ سردیوں میں اس دریا میں پانی بہت کم ہوتا ہے۔ گرمیوں میں جب گلیشیئر پگھلتے ہیں تو دریائے چترال میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہے۔

شاہ سعود کے مطابق گذشتہ چند دنوں سے گرمی زیادہ پڑ رہی تھی جس وجہ سے گلیشیئر بھی زیادہ پگھلے اور دریائے چترال میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے کم از کم ایک کلومیٹر کے علاقے میں روڈ اور زمینیں کٹائی ہونے سے دریا برد ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اپر چترال کا راستہ بند ہے۔ متبادل روڈ کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔

’ایچ ایچ اے اور انتظامیہ کے لوگ 24 گھنٹے کام کریں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد متبادل روڈ کا انتظام کر کے اپر چترال کا راستہ بحال کر دیا جائے۔‘

چترال

،تصویر کا ذریعہShakial Hussain

شاہ سعود کا کہنا تھا کہ ’یہ تقریباً وہی مقام ہے جہاں پر گذشتہ سال سیلابی ریلا آیا تھا۔ جس کے نتیجے میں پل اور واپڈا کی تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔ اس وقت کٹاؤ اس مقام سے کوئی آدھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہو رہا ہے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’پہلے ہی سے احتیاطی تدابیر کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ جو سیاح پھنسے ہوئے ہیں ان کی معلومات حاصل کی جارہی ہیں اور ان کا خیال رکھا جائے گا۔‘

پورا علاقہ متاثر ہے

شاہ سعود کے مطابق ریشن کے مقام پر پانی کے کٹاؤ سے چھ گھر متاثر ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس منتقل ہو چکے ہیں جہاں پر ان کو امدادی سامان پہنچا دیا گیا ہے۔ علاقے میں خیمے وغیرہ بھی پہنچا دیے گئے ہیں۔

چترال

،تصویر کا ذریعہShakial Hussain

،تصویر کا کیپشن’کئی کام بند ہونے سے مزدوروں کا روزگار بھی متاثر ہوا ہے۔ اگر دو، تین دن اور یہ ہی صورتحال رہی تو خوراک کی قلت کا بھی خدشہ ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے مگر اب اس سے کسی اور آبادی کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ وہ اونچائی پر واقع ہیں۔ لگتا ہے کہ 15 اگست تک پانی کا بہاؤ زیادہ رہے گا اس کے بعد کم ہونے کا امکان ہے۔

بجلی کے کھمبوں کو نقصان پہنچنے سے علاقے میں بجلی بھی بند ہے۔ اس پر بھی واپڈا کے اہلکار دن رات کام کر رہے ہیں۔

بونی کے رہائشی یونیورسٹی آف چترال کے شعبہ پبلک ریلیشن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر شکیل حسین کے مطابق پورا علاقہ محصور ہو کر رہ گیا ہے۔ اپر چترال کے علاقے میں ضرورت کا سامان اور خوراک وغیرہ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر پہنچائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صرف اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ اپر چترال میں بہت زیادہ تعمیراتی کام ہو رہے ہیں۔ ایک دن راستہ بند ہونے سے علاقے میں سیمنٹ اور سریا کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ کئی کام بند ہونے سے مزدوروں کا روزگار بھی متاثر ہوا ہے۔ اگر دو، تین دن اور یہ ہی صورتحال رہی تو خوراک کی قلت کا بھی خدشہ ہے۔‘

بونی ہی کے رہائشی عبدالرفیع کا کہنا تھا کہ ہمارے علاقے کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری اور ملازمتیں کرنے لوئر چترال جاتے ہیں۔

’یہ لوگ دیہاڑی دار ہوتے ہیں۔ اگر یہ لوگ لوئر چترال نہ جا سکے تو ان کے گھروں کے چولہے جلنا بند ہو جائیں گے۔‘

چترال

،تصویر کا ذریعہShakial Hussain

،تصویر کا کیپشنبونی میں بیسٹ ویسڑن گیسٹ ہاوس کے مالک انصاف الامین کا کہنا تھا کہ پہلے کورونا کی وجہ سے کاروبار ٹھپ تھا۔ اب روڈ بند ہونے سے آنے والے دنوں کی تمام بکنگز کینسل ہو چکی ہیں۔

شکیل حسین کا کہنا تھا کہ خود میرے لیے اپنی ملازمت پر پہنچا مشکل ہو چکا ہے۔

بونی میں بیسٹ ویسڑن گیسٹ ہاوس کے مالک انصاف الامین کا کہنا تھا کہ پہلے کورونا کی وجہ سے کاروبار ٹھپ تھا۔ اب روڈ بند ہونے سے آنے والے دنوں کی تمام بکنگز کینسل ہو چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ایڈوانس بھی واپس کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی سیاح اب لوئر چترال سے واپس جارہے ہیں یا اب وہاں زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔

وہ بتانے لگے کہ ہماری صورتحال تو بہت خراب ہوتی جارہی ہے اور بجلی کی بندش کے باعث خریدی گئی خوراک بھی خراب ہو رہی ہے۔