چین میں روس یوکرین بحران پر انڈین مؤقف کی تعریف: کیا دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آنے والی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, پدماجا وینکٹارامن
- عہدہ, چائنا سپیشلسٹ
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں یوکرین کے معاملے میں انڈیا کے ’آزاد‘ موقف کی تعریفیں کی جا رہی ہیں اور چین کا میڈیا انڈیا کی آزاد خارجہ پالیسی کا دفاع کرتا نظر آتا ہے۔
چین کے ذرائع ابلاغ میں اس نکتے کو اجاگر کیا جا رہا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے پر چین اور انڈیا کی یکساں پالیسی دونوں ملکوں کے تعلقات میں گرمجوشی لانے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
2020 میں انڈین اور چینی افواج میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ زی 25 مارچ کو انڈیا کے دو روزہ دورے پر پہنچے تھے جو لداخ میں ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بعد کسی اعلیٰ چینی عہدیدار کا انڈیا کا پہلا دورہ تھا۔
البتہ انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے چینی ہم منصب سے بات چیت کے بعد پریس کو بتایا تھا کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات کو سرحدوں پر تناؤ سے الگ کر کے نہیں دیکھتے۔
انڈیا کا مؤقف رہا ہے کہ سرحدوں پر تناؤ کی صورتحال میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو معمول پر نہیں لایا جا سکتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین یوکرین پر اپنے مبہم مؤقف کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یوکرین کے حوالے سے انڈیا کے موقف کو اجاگر کرتا رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین خارجہ پالیسی کی تعریف
مغربی ممالک کی جانب سے چین پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کرے اور اس بحران کو ختم کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
ایسے ماحول میں چین کے سرکاری ذرائع میں انڈیا کے ساتھ دوستی کا اظہار کیا جا رہا ہے جو روس کی مذمت نہ کرنے کی وجہ سے سفارتی طور پر بہت احتیاط سے چل رہا ہے۔
چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے 16 مارچ کی ایک رپورٹ میں لکھا کہ یوکرین کی صورتحال نے انڈیا کو مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے اور ’باوقار مؤقف‘ کو اپنانے پر مجبور کیا۔
اسی طرح چینی میڈیا انڈیا کے روس سے تیل خریدنےکے فیصلے کا دفاع کر رہا ہے اور امریکہ سمیت مغربی ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انڈیا کے جائز اقدام پر شور نہ مچائیں۔
چینی وزیر خارجہ وانگ زی کے دورہ انڈیا کے بعد گلوبل ٹائمز میں چھپنے والے ایک اداریے میں لکھا گیا کہ یوکرین بحران نے انڈیا اور چین کے مشترکہ مفادات کو ظاہر کیا۔
چین کے سرکاری ٹی وی چینلز پر بھی انڈیا اور چین کے مشترکہ مؤقف کی ترویج کی گئی۔
وانگ زی نے انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ادول کے ساتھ ملاقات میں یوکرین کا براہ راست حوالہ دیے بغیر کہا کہ جب انڈیا اور چین یک زباں ہو کر بولیں گے تو دنیا انھیں سنے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کواڈ کو نقصان پہنچانے کے لیے یوکرین بحران کا ’استعمال‘
چینی ذرائع ابلاغ میں یوکرین بحران پر انڈیا کی پالیسی کی تعریف کرنے کے ساتھ یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ انڈیا چار ملکی کواڈ اتحاد میں شمولیت کے اپنے فیصلے کا از سر نو جائزہ لے۔
حالیہ ہفتوں میں چین کے ذرائع ابلاغ میں ایسے تبصرے شائع ہوئے ہیں جن میں انڈیا کے سوا کواڈ اتحاد کے بقیہ تین ممبران امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کو یوکرین کی صورتحال پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
گلوبل ٹائمز نے لکھا کہ جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدا اپنے دورہ انڈیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کو یوکرین کی صورتحال پر اپنا مؤقف بدلنے پر رضامند نہیں کر پائے۔
گلوبل ٹائمز نے سنگووا یونیورسٹی کے نیشنل سٹریٹجی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کے حوالے سے لکھا کہ انڈیا نے امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کی طرح روس پر پابندیاں عائد نہیں کیں، جس نے کواڈ اتحاد کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
یہ بھی پڑھیے
سرکاری اخبار چائنہ ڈیلی نے 24 مارچ کے اداریے میں صدر جو بائیڈن کے اس بیان پر تنقید کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ یوکرین کے معاملے پر انڈیا قدرے متزلزل ہے۔
اس کے علاوہ گلوبل ٹائمز میں آسٹریلوی میڈیا کی جانب سے یوکرین کے بحران پر انڈین پالیسی کی تنقید پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اخبار نے لکھا کہ مودی حکومت امریکہ کے سامنے اتنی جھکی ہوئی نہیں، جتنی آسٹریلیا کی حکومت ہے۔ اخبار نے یہ بھی لکھا کہ انڈیا میں ٹھنڈے دماغ کے ساتھ اپنے قومی مفادات اور تزویراتی اہداف پر غور کیا جا رہا ہے۔
انڈین تجزیہ کار بھی محسوس کرتے ہیں کہ چین شاید یوکرین کے بحران سے فائدہ اٹھا کر چار ملکی اتحاد کواڈ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ڈنمارک میں انڈیا کے سابق سفیر یوگیش گپتا نے ہانگ کانگ کے آزاد اخبار ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کو بتایا کہ وانگ زی یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا انڈیا امریکہ سے دور ہو کر چین اور روس کے ساتھ مل کر ایسا گروپ بنا سکتا ہے جس سے کواڈ اتحاد کمزور ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا چین انڈیا تعلقات میں بہتری آنے والی ہے؟
چین کے سرکاری میڈیا میں یوکرین اور روس کے معاملے پر انڈیا کے مؤقف کی تعریفیں اور چینی وزیر خارجہ کا دلی کا اچانک دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ممکنہ بہتری کا ایک واضح اشارہ ہے۔
چینی میڈیا میں وزیراعظم نریندری مودی کے چین میں فضائی حادثے پر اظہار ہمدردی کے پیغام کا بھی نوٹس لیا گیا ہے۔
ان سب اشاروں کے باوجود انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے چینی ہم منصب سے دلی میں ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ سرحدوں پر کشیدگی کے ماحول میں دونوں ملکوں کے تعلقات کی بحالی ممکن نہیں۔
چین کے کچھ مبصرین دونوں ملکوں کے تعلقات کی بہتری کے حوالے سے مشکلات کا بھی ذکر کر رہے ہیں۔
شنگھائی انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیز سے منسلک سکالر لیئو زونگی نے گوانچہ نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ ’انڈیا اور امریکہ کے روس کے حوالے سے خیالات بلکل مختلف ہیں لیکن چین کے حوالے سے اُن کے خیالات میں مکمل ہم آہنگی ہے۔‘
کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ ایسے وقت میں جب مغرب میں یوکرین کے بحران کے حوالے سے چین کے رویے کو بہت غور سے دیکھا جا رہا ہے ، چین یوکرین پر انڈیا کے مؤقف کو اجاگر کرتا رہے گا۔
شنگھائی انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل سٹڈیز کے زاؤ گانچنگ نے چینی وزیر خارجہ کے انڈیا کے دورے سے پہلے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو بتایا تھا کہ دنیا اس وقت انتہائی نازک موڑ پر ہے اور انڈیا سمیت جنوبی ایشیائی ممالک نے یوکرین کے بحران پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
زاؤ گانچنگ نے کہا کہ ’اس معاملے پر چین کو اُن کی حمایت کی ضرورت ہے۔‘







