وزیراعظم عمران خان اور صدر پوتن کی ملاقات، قربتوں کا اندازہ میز کی لمبائی سے

،تصویر کا ذریعہTWITTER
ایک صارف نے ٹوئٹر پر پاکستانی عوام سے سوال کیا ’ادھر جنگ لگی ہے تم لوگوں کی سوچ میزوں سے آگے نہیں بڑھ رہی۔۔۔‘
روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا ہے۔ کورونا سے جنگ لڑتے لڑتے دنیا میں تیسری عالمی جنگ کا طبل بجنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اِدھر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ جنگ کی خبروں کے درمیان میزوں کا ذکر کیوں ہو رہا ہے۔
تو قصہ یہ ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم دو روزہ دورے پر اس وقت روس میں موجود ہیں۔ بدھ کو وہ جب روس پہنچے تو ہوائی اڈے پر ریڈ کارپٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور جمعرات کو ان کی صدر پوتن سے ملاقات ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@KremlinRussia_E
روس اور یوکرین کے تنازعے میں وزیراعظم عمران خان کیا کریں گے، روس کا ساتھ دیں گے یا نہیں، ٹوئٹر پر یہ بحث اس وقت اس میز پر جا اٹکی ہے جو صدر پوتن اور عمران خان کے درمیان ملاقات کے دوران رکھی گئی تھی۔
لیکن سوشل میڈیا پر یہ میز زیر بحث کیوں ہے؟
ہوا یہ کہ گذشتہ دنوں صدر پوتن نے روس اور ایران سمیت جن بھی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں وہ ایک بڑی میز کے گرد بیٹھ کر کئی میٹر کے فاصلے سے کی گئیں لیکن عمران خان کے وہ قریب بیٹھے دکھائی دیے۔
مخدوم شہاب الدین نامی صارف نے طنزاً لکھا ’عمران خان کے لیے کورونا کا کوئی پروٹوکول نہیں۔ پوتن کی جانب سے واضح پیغام‘۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
لیکن انھیں جواب میں صارف سلمان خان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کی خبر کا لنک شیئر کیا اور ساتھ مشورہ دیا کہ انھیں اسے پڑھنے کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جس خبر کا حوالہ دیا گیا تھا اس کے مطابق فرانسیسی صدر میخواں نے صدر پوتن سے ملاقات کے لیے کریملن کی جانب سے روسی کورونا ٹیسٹ کروانے سے انکار کیا تھا۔ روئٹرز کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ اس ٹیسٹ سے انکار کی وجہ یہ خدشہ تھا کہ کہیں اس ٹیسٹ کے ذریعے روس میخواں کا ڈی این اے نہ حاصل کرلے۔
نتیجتاً یہ ہوا کہ ماسکو میں یوکرین کے بحران پر ہونے والی تفصیلی بات چیت کے دوران میخواں کو روسی لیڈر سے فاصلے پر رکھا گیا۔
خیال رہے کہ یہ ملاقات 11 فروری کو ہوئی تھی۔
کریملن کے ترجمان نے اس وقت کہا تھا کہ ٹیسٹ نہ کروانے پر ہمیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن اس کا مطلب ہوگا 6 میٹر یعنی 20 فٹ کا فاصلہ اور اس کی وجہ روسی صدر کی صحت کا تحفظ بتائی گئی۔
کچھ ایسا ہی فاصلہ ہمیں دونوں رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر دیکھنے کو بھی ملا۔
اب جب لمبے ٹیبل کے دو اطراف بیٹھے پوتن اور میخواں کی تصاویر دکھائی دیں تو اس پر سوشل میڈیا پر جہاں طنزو مزاح دیکھنے کو ملا وہیں سفارتکاروں کی جانب سے بھی کہا گیا کہ شاید یہ صدر پوتن کی جانب سے ایک سفارتی پیغام بھی تھا۔
اب اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور صدر پوتن کے درمیان ملاقات کے موقع پر دونوں کے درمیان کم فاصلے اور ایک چھوٹی میز کو دیکھتے ہوئے کسی نے کہا کہ شاید یہ اس لیے کہ پوتن عمران کو پسند کرتے ہیں تو کسی نے کہا کہ شاید عمران اپنا ڈی این اے دینے کو راضی ہوں۔
صحافی سلمان مسعود نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دیگر رہنماؤں کی طرح لمبے ٹیبل کے گرد بیٹھنے کے بجائے پوتن اور عمران چھوٹی میز کے گرد بیٹھے۔ انھوں نے اسے ’اہم‘ قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
صحافی اہتشام الحق نے لکھا کہ مغرب میں بہت سے لوگ واقعی تشویش میں ہوں گے کہ وزیراعظم عمران خان کے لیے لمبی ٹیبل کیوں نہیں رکھی گئی۔ لیکن جہاں بہت سے لوگوں نے اس کی وجہ کورونا ٹیسٹ بتائی وہیں ہابیل لودھی نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہ معاملہ ہے کہ دوست کو قریب اور دشمن کو قریب تر رکھو۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
ایک صارف نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ روسی انٹیلیجنس ایجنسی ’کے جی بی‘ نے پوتن کو رپورٹ دی ہے کہ خان جھکنے والا ہے اور نہ بکنے والا...چونکہ موجودہ حالات کی وجہ سے پوتن کو مورل سپورٹ کی ضرورت ہے اس لیے پوتن نے خان کو ساتھ والی کرسی پر بٹھایا۔۔۔ یہاں دنیا میں ہر کوئی مطلبی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
بعض صارفین عمران خان کی پوتن سے ’قربت‘ کو پاکستان کی معاشی صورتحال سے بھی جوڑ رہے ہیں۔
ایسے صارفین بھی ہیں جو مذاق کے علاوہ پاکستان کی اشد ضروریات کا حوالہ بھی دے رہے ہیں۔ جیسے نوید جواد نے لکھا ’روس فری میں تیل دے رہا ہے کہ نہیں!؟‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
لیکن ایک صارف نے کہا شاید کرسیاں اس لیے قریب رکھی تھیں کیونکہ پوتن عمران کے کان میں کہنا چاہتے تھے، ’تم گھر چلے جاؤ، مجھے اس وقت اور بھی اہم کام کرنے ہیں۔‘
لیکن نوید انجمن نامی صارف کے ٹوئٹر ہینڈل سے یہ پیغام سامنے آیا کہ ’چن سجنا وے نیڑے نیڑے ہو‘ نورجہاں نے انہی دونوں کے لیے گایا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
روس یوکرین تنازعے میں پاکستان کا کیا فیصلہ ہوگا یہ دیکھنا ابھی باقی ہے لیکن سرحد پار انڈیا سے کرن سنگھ نے لکھا ’دنیا پاکستان پر پابندیاں لگائے گی۔‘
شاید وہ کرسیاں قریب ہونے کو اس بات سے تعبیر کر چکے ہیں کہ پاکستان روس کا حامی ہے اور شاید وہ اپنے تئیں پاکستان کو خبردار کر رہے ہیں۔











