روس یوکرین تنازع: برطانیہ میں روس کی کتنی کمپنیوں اور امیر شخصیات نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین بحران کے سنگین ہونے کے بعد برطانیہ نے آخر کار پانچ روسی بینکوں اور تین شخصیات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ صدر پوتن کئی ماہ تک روسی فوج کی جانب سے یوکرین پر حملے کے دعووں کی تردید کرتے رہے لیکن اب انھوں نے اپنے فوجی دستے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول دو خطوں میں بھیج دیے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان دستوں کا مقصد 'امن قائم رکھنا ہے'۔
مغربی ممالک نے روس کے اس موقف کو رد کیا ہے اور کئی مغربی ممالک کی جانب سے روس پر پابندیوں سے متعلق اعلانات متوقع ہیں۔
برطانوی وزیراعظم نے پانچ بینکوں کے علاوہ تین ارب پتی افراد پر بھی پابندیاں لگائی ہیں جن میں گنیڈی تمشینکو، بورس روٹنبرگ اور ایگور روٹنبرگ شامل ہیں۔
ان افراد کے برطانیہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور ان پر برطانیہ آنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ وزیراعظم بورس جانسن کے مطابق تمام برطانوی شہریوں پر پابندی ہوگی کہ وہ ان افراد اور بینکوں سے کسی قسم کا لین دین نہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں یہ پابندیاں لگائی گئی ہیں اور مزید پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ کی آخری لمحے تک بحران کا سفارتی حل نکالنے کی کوشش ہوگی۔
برطانیہ میں کتنی روسی دولت موجود ہے؟
روس اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی امیر شخصیات اور کمپنیاں برطانیہ کی مالیاتی اور پراپرٹی مارکیٹ میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرمایہ کاری کرتی رہی ہیں تاہم انسدادِ بدعنوانی کے بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے برطانیہ میں پانچ ارب پاؤنڈ مالیت کی ایسی پراپرٹی کی نشاندہی کی ہے جو ان کے مطابق ’مشکوک دولت‘ سے خریدی گئی اور اس کا پانچواں حصہ روس سے آیا۔
محکمہ داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ’روسی یا روس سے منسلک مشکوک دولت کی ایک بڑی تعداد‘ دیکھنے کو ملی ہے اور یہ سرمایہ عام طور پر مہنگی جائیدادوں، گاڑیوں، سکول فیس اور کبھی کبھار ثقافت کے لیے کام کرنے والے اداروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس سے کچھ افراد کو اپنی ’ساکھ بحال کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جہاں تک بات پراپرٹی کی ہے تو ضروری نہیں کہ اسے کوئی فرد ہی خریدے بلکہ کوئی کمپنی بھی خرید سکتی ہے، اس لیے اس سے متعلق معلومات ڈھونڈنا آسان نہیں ہوتا۔ انگلینڈ اور ویلز کے اوورسیز کمپنی اونرشپ ڈیٹا بیس کے مطابق 94 ہزار پراپرٹیوں میں سے صرف چار روسی کمپنیوں کی ملکیت بتائی گئی ہیں۔
تاہم یہ ممکن ہے کہ روسی شہری مزید پراپرٹی کے مالک بھی ہوں اور انھوں نے اس کی ملکیت برٹش ورجن آئی لینڈز جیسی جگہوں پر موجود آف شور کمپنیوں کے ذریعے حاصل کی ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اکتوبر سنہ 2021 میں پینڈورا پیپرز نامی ایک کروڑ 20 لاکھ دستاویزات پر مبنی لیک کے بعد ان کمپنیوں کی وسعت کا اندازہ ہوا تھا۔
ان دستاویزات کے ذریعے چھپائی گئی دولت، ٹیکس چوری اور چند ایک صورتوں میں دنیا کے طاقتور ترین افراد کی جانب سے منی لانڈرنگ کے شواہد بھی سامنے آئے تھے۔
محققین نے ایسی 700 آف شور کمپنیوں کی نشاندہی کی تھی جو برطانیہ میں پراپرٹی کی مالک تھیں اور ان کو یہ معلوم ہوا کہ ان میں سے پانچ فیصد روسی شہریوں کی ملکیت میں ہیں۔
ایک مثال الیکسی چیپا کی ہے جو ایک روسی سیاستدان اور کاروباری شخصیت ہیں۔ انھوں نے سنہ 2011 میں ایک آف شور کمپنی کے ذریعے ہالینڈ پارک میں 10 کمروں پر محیط ایک بنگلہ خریدا تھا، جسے گذشتہ برس دو کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ میں بیچا گیا۔
ان کے ترجمان کے مطابق اس کی خریداری کے دوران اس وقت کے اعتبار سے تمام قواعد پر عمل کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی سرمایہ کاروں کے لیے برطانیہ اتنی پرکشش جگہ کیوں؟
ایک طویل عرصے سے لندن امیر روسیوں کے آباد ہونے کے لیے ایک مقبول شہر رہا ہے۔ برطانیہ کا سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص ’گولڈن ویزا‘ جسے ٹیئر ون ویزا سکیم بھی کہتے ہیں، یہاں 20 لاکھ پاؤنڈ یا اس سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والوں کو برطانیہ میں رہائش بھی فراہم کی جاتی ہے اور ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی ملک میں آ کر ان کے ساتھ ٹھہر سکتے ہیں۔
اس ویزا پر آئے افراد بعد میں برطانیہ کی مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ ایسا وہ کتنی جلدی کر سکتے ہیں اس کا دارومدار ان کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری کے حجم پر ہوتا ہے۔
- اگر وہ ایک کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کریں تو دو سال
- پچاس لاکھ پاونڈ کی سرمایہ کاری پر تین سال
- 20 لاکھ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری پر پانچ سال کا انتظار کرنا ہو گا
سنہ 2008 میں اس سکیم کے متعارف کروائے جانے کے بعد سے محکمہ داخلہ کی جانب سے روسی شہریوں کو 14،516 ایسے ویزے دیے گئے ہیں۔
روسی کمپنیاں لندن کے بازارِ حصص میں شیئرز کی فروخت سے بھی بڑی رقوم کما چکی ہیں۔
توانائی کے شعبے سے منسلک کمپنی (ای این پلس گروپ) بھی ایسی ہی کمپنیوں میں سے ایک تھی۔ جب اس کمپنی کے شیئرز ابتدا میں فروخت کیے گئے تو اس کے مالک اولیگ ڈیریپاسکا تھے جو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے معاون رہ چکے ہیں۔
برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز کی سنہ 2018 کی رپورٹ میں حکومت سے اس خلا کو پر کرنے کا کہا گیا تھا تاکہ ’پابندیوں کے ذریعے ای این پلس جیسی کمپنیوں کو لندن سٹاک ایکسچینج میں شیئر فروخت کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت نے اب تک کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟
سنہ 2018 میں برطانوی حکومت نے ایک ایسا نظام متعارف کروایا تھا جس کے تحت کسی شخص کو مجرم ثابت کرنے سے قبل ہی اس کی پراپرٹی ضبط کی جا سکتی ہے۔
مشکوک دولت سے متعلق بنائے گئے نظام (یو ڈبلیو او) کے تحت اس فرد کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اس کے پاس مذکورہ پراپرٹی خریدنے کے لیے رقم کہاں سے آئی۔ تاہم یہ نظام صرف چار مرتبہ استعمال کیا گیا اور صرف ایک مرتبہ ہی اس کے نتیجے میں پراپرٹی ضبط کی گئی۔
حکومت کی جانب سے سنہ 2016 میں کہا گیا تھا کہ وہ منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات اٹھانے کا منصوبہ رکھتی ہے اور ایسا برطانیہ میں ان مالکان کا ریکارڈ رکھنے سے ممکن ہو سکے گا جو اس پراپرٹی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اس منصوبے کے بارے میں سنہ 2019 میں ملکہ کی تقریر میں بھی بات کی گئی تھی لیکن حکومت کی جانب سے تاحال اس بارے میں قانون سازی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔
برطانیہ کی حکومت نے حالیہ پابندیوں سے پہلے اعلان کیا تھا کہ اگر روس نے یوکرین کے خلاف کارروائی کی تو اس کی جانب سے روس پر موجودہ پابندیوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ برطانیہ کے دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ نئے قوانین کے ذریعے برطانیہ کو ’امریکہ اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر اثاثے منجمد کرنے اور سفری پابندیاں لگانے میں مدد ملے گی۔‘
برطانیہ کے دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس دوران ایسے افراد جن کا براہ راست کریملن سے تعلق ہے ان کو نشانہ بنایا جائے گا ان کے برطانیہ میں موجود اثاثے منجمد کیے جائیں گے اور ان کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی ہو گی اور وہ کسی بھی برطانوی کمپنی کے ساتھ کاروبار نہیں کر پائیں گے۔












