اومیکرون: پانچ ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ، کرسمس پر مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ

،تصویر کا ذریعہEPA
اتوار کو دنیا بھر میں مزید 1300 پروازیں منسوخ کر دی گئی جس کے باعث کرسمس کے تہوار اور نئے سال کی آمد کے موقع پر سفر کرنے والے مسافروں کی مشکلات کا خاتمہ نظر نہیں آ رہا۔
پروازوں کی نگرانی اور ان کے ڈیٹا کو جمع کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ایویئر کے مطابق 24 سے 26 دسمبر تک دنیا بھر میں 5700 پروازیں مسنوخ ہو چکی ہیں۔
معلومات کے مطابق چینی اور امریکی فضائی کمپنیاں ان منسوخیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں اور خدشہ ہے کہ پیر کو مزید پراوزیں منسوخ ہو سکتی ہیں۔
کمپنیوں نے ان حالات کا ذمہ دار کووڈ کی نئی قسم اومیکرون کو ٹھہرایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پروازیں اس لیے منسوخ کی جا رہی ہیں کیونکہ فضائی عملے میں شامل افراد یا تو کووڈ سے متاثر ہو گئے ہیں یا ان کو قرنطینہ کرنا پڑ رہا ہے۔
ابتدائی تحقیق کے مطابق اومیکرون قسم میں شدت اتنی نہیں ہے لیکن ماہرین اس کی منتقلی کی رفتار سے پریشان ہیں۔
فلائٹ ایوئیر کے مطابق امریکی ائیرپورٹس سے 450 پروازیں منسوخ ہوئی ہیں جن میں ڈیلٹا، یونائیٹڈ اور جیٹ بلیو سب سے زیادہ متاثر ہونے والی فضائی کمپنیاں ہیں۔
یونائیٹڈ ائیرلائنز اس بات کی تنبیہ دے چکی تھی کہ اومیکرون قسم کے تیزی سے پھیلنے سے ان کا 'فضائی عملہ براہ راست متاثر ہو رہا ہے' اور کہا کہ وہ متاثرہ مسافروں سے بھی پرواز سے قبل رابطہ کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کووڈ کی اومیکرون قسم اب امریکہ میں سب سے زیادہ پھیل چکی ہے۔
لیکن دوسری جانب ڈیٹا کے مطابق پروازوں کی منسوخی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمپنی چین کی چائنا ایسٹرن ہے جس کی اتوار کو 350 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔
صرف چین کے شمالی شہر ژیان کے ائیرپورٹ میں 100 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔
چینی حکام نے ژیان شہر کے ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ شہریوں کو گھر پر رہنے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ کووڈ کی پھیلنے والی نئی وبا کا سامنا کر سکیں۔
لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پر بھی اتوار کو اب تک 56 پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں اب تک 54 لاکھ افراد کورونا وائرس کی وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 28 کروڑ افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ہفتے کو کیا ہوا؟
یورپ بھر میں کورونا وائرس کی اومیکرون قسم کے متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے باعث لاکھوں لوگ ایک مرتبہ پھر کرسمس کے موقع پر سفر میں دشواریوں اور سماجی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
کئی ممالک میں ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ سخت حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
فضائی کمپنیوں نے پروازوں کی منسوخی کی وجہ صحت مند فضائی عملے کی قلت کو بتایا ہے۔ سنیچر کو تقریباً 2300 پروازیں جبکہ جمعہ کو 2400 پروازیں منسوخ ہوئی۔
سنیچر کو امریکی ہوائی اڈوں سے آٹھ سو سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں۔
اٹلی، سپین اور یونان نے ایک مرتبہ پھر گھر سے باہر ماسک پہننا لازم قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب سپین کے شمالی خطے کاتالونیہ نے رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ نیدرلینڈز پہلے ہی کڑے لاک ڈاؤن کی زد میں ہے۔
بھلے ہی ابتدائی تجزیوں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ اومیکرون کووڈ کی دوسری اقسام کے مقابلے میں تشویش ناک حد تک بیمار نہیں کر رہا ہے تاہم سائنسدانوں کو اس کے پھیلنے کی رفتار ضرور تشویش میں مبتلا کر رہی ہے۔
جمعرات کو بھی برطانیہ، فرانس اور اٹلی میں ریکارڈ تعداد میں نئے مریض سامنے آئے۔
امریکہ میں اومیکرون کے مریضوں کی تعداد ڈیلٹا قسم کے حالیہ متاثرین سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور ہسپتال تیزی سے بھرتے جا رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف مشیگن کی ایسوسی ایٹ پروفیسر انٹرنل میڈیسن ڈاکٹر ہالی پریسکوٹ نے اخبار دی نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ 'جب ہمارے پاس کروڑوں کی تعداد میں لوگ بیمار ہوں، سب ایک ہی وقت میں، تو ہسپتال بھرنے کے لیے ان کی بہت بڑی شرح کی ضرورت نہیں ہوتی۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
اسی طرح امریکہ کے اعلیٰ ترین ماہرِ متعدی امراض ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے رواں ہفتے کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ کرسمس کے موقعے پر سفر سے مکمل طور پر ویکسینیٹڈ افراد بھی اس سے بیمار پڑ سکتے ہیں۔
جمعے کو امریکی ایئرلائنز نے کہا کہ وہ پہلے ہی اپنے عملے کے ارکان کے بڑی تعداد میں کووڈ سے متاثر ہونے اور سماجی دوری اختیار کرنے کے باعث سٹاف کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز نے کہا کہ اومیکرون متاثرین کی تعداد میں اضافے کا 'ہمارے فلائٹ عملے اور ہمارے آپریشنز چلانے والے عملے پر براہِ راست اثر پڑا ہے۔'
ایئرلائن نے مزید کہا کہ وہ پروازوں کی منسوخی سے متاثر ہونے والے مسافروں کو ایئرپورٹ آنے سے پہلے ہی مطلع کر رہے ہیں۔
ویب سائٹ فلائٹ اویئر کے مطابق دنیا بھر میں اب تک ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ آٹھ افریقی ممالک پر اومیکرون کے خدشے کے باعث عائد کردہ پابندیاں 31 دسمبر کو اٹھا لی جائیں گی۔


واضح رہے کہ 29 نومبر سے جنوبی افریقہ، بوٹسوانا، زمبابوے، نمیبیا، لیسوتھو، ایسواتینی، موزمبیق اور ملاوی سے آنے والے مسافروں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
برطانیہ میں جہاں ہڑتال کے باعث کرسمس اور سالِ نو کے موقعے پر ٹرین کا سفر ویسے ہی خلل پذیر رہے گا، وہاں وزیرِ اعظم بورس جانسن نے اپنے کرسمس پیغام میں لوگوں کو 'بھائی چارے کی روح' کے تحت کورونا ویکسین کا بوسٹر شاٹ لگوانے کی ترغیب دی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اُنھوں نے کہا: 'ویسے تو تحفے خریدنے کا وقت اب تقریباً نکلا جا رہا ہے مگر آپ اپنے خاندان اور پورے ملک کے لیے ایک زبردست کام اب بھی کر سکتے ہیں، وہ یہ کہ ویکسین لگوائیں، چاہے یہ پہلی خوراک ہو، دوسری یا پھر بوسٹر۔'
کورونا وائرس کے باعث اب تک دنیا بھر میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق 53 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 27 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ افراد اس مرض سے متاثر ہوئے۔
بیت اللحم، جہاں مسیحی عقیدے کے مطابق یسوع مسیح کی پیدائش ہوئی، وہاں آدھی رات کو دعائیہ تقریب منعقد ہو گی مگر عوام کے بغیر، جو یہاں ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوا کرتے تھے۔
رومن کیتھولک مسیحیوں کے عالمی پیشوا پوپ فرانسس بھی نصف شب کو ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز بیسیلیکا میں دعائیں کروائیں گے۔










