برطانیہ: بوسٹر ویکسینیشن کے باوجود اومی کرون وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ

،تصویر کا ذریعہPA Media
- مصنف, ڈُوگ فوکنر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
برطانیہ میں کورونا وائرس کا نیا ویریئنٹ اومیکرون تیزی سے پھیل رہا ہے، دوسرے روز بھی روزانہ کے کیسز کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جمعرات کو 88,376 انفیکشن کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر، پروفیسر کرس وِیٹی نے کہا کہ اومیکرون ویریئنٹ 'ناقابل یقین حد تک تیزی سے' بڑھ سکتا ہے، لیکن بوسٹرز کی وجہ سے اس کے تیزی سے پھیلتے ہوئے کیسز میں کمی ہو سکتی ہے۔
دو روز قبل، یعنی بدھ کو 745,183 تیسرے یا بوسٹر ویکسنیشنز لگائے گئے ہیں جو اپنی جگہ ایک ریکارڈ بھی تھا۔
برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مختلف قسم کی 'احتیاط' برتیں۔
جب حکمران جماعت کے ارکانِ پارلیمان نے حکومت پر ریستورانوں پر 'مؤثر لاک ڈاؤن' عائد کرنے کا الزام لگایا تھا تو وزیر اعظم نے اصرار کیا کہ انگلینڈ پر ڈھکے چھپے طریقے سے لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا ملکہِ برطانیہ نے اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے احتیاطی اقدام کے طور پر کرسمس سے قبل اپنا روایتی کرسمس لنچ منسوخ کر دیا ہے۔
ادھر ویلز میں حکام نے کورونا وائرس کے بارے میں لوگوں میں آگاہی بڑھانے کے لیے رہنمائی کے دو مرحلوں کا ایک منصوبہ متعارف کرایا ہے - جس میں یہ بھی کہ 27 دسمبر سے قانونی پابندیاں نافذ ہونے سے پہلے کرسمس کی چھٹیوں کے دوران ایک دوسرے سے ملنے جلنے سے پہلے اپنا اپنا لیٹرل فلو ٹیسٹ لینا ضروری ہوگا۔
ان اقدامات میں تمام نائٹ کلبوں کی بندش، دفاتر میں ایک دوسرے سے دو دو میٹر کا فاصلہ اور صارفین اور عملے کے لیے دیگر حفاظی اقدامات شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو برطانیہ بھر میں اومیکرون کے مثبت ٹیسٹ کے 28 دنوں کے اندر مزید 146 اموات کی اطلاع ملی۔
بدھ کے روز یومیہ کیسز میں 78,610 سے اضافہ ہو رہا ہے، جو بذات خود ایک ریکارڈ تھا، اور گزشتہ جمعرات سے 30،000 سے زیادہ تھے، گزشتہ جمعرات 50،867 انفیکشن کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

پروفیسر وِیٹی نے کہا کہ اومیکرون کیسز کی بڑھتی ہوئی لہر کورونا وائرس (CoVID-19) کی پچھلی لہروں کی نسبت تیزی سے کم ہو سکتی ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ اومیکرون کی لہر میں 'ناقابل یقین حد تک تیزی' سے اضافہ ہوگا۔
لیکن انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف ایک امکان ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جب لوگوں کو بوسٹر ویکسین مل جاتی ہیں یا وہ کسی اور ویریئنٹ سے متاثر ہو جاتے ہیں تو اس کی شرح نمو کم ہو جاتی ہے۔
جمعرات کو برطانوی پارلیمان کی 'ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کمیٹی' سے بات کرتے ہوئے پروفیسر وِیٹی نے کہا کہ لوگوں کے احتیاط سے کام لینے کے باوجود اومیکرون کیسز میں اضافہ اب بھی 'بہت تیزی' سے ہوگا۔
پروفیسر وِیٹی نے کہا کہ تاہم بوسٹر ویکسینیشن کا پروگرام حالات کو معول کی طرف لانے کا بہتر راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پلان بی کے اقدامات اور 'بوسٹر پروگرام پر اصرار' کا مقصد بڑھتے ہوئے وائرس کے کیسز کی رفتار کو سست کرنا تھا، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ 'اگر اس دوران حالات اور حقائق بدل جاتے ہیں اور یہ واضح ہو جاتا ہے کہ معاملات غلط راستے پر جا رہے ہیں تو وزرا موجودہ اقدامات پر نظرِ ثانی کریں گے۔'
پروفیسر وِیٹی نے کہا کہ اگر ویکسین نئے وائرس، اومیکرون، کے خلاف توقع سے کم موثر ثابت ہوئی تو یہ حکومت کے اس خطرے کو سمجھنے کے انداز میں ایک 'ٹھوس تبدیلی' لائے گی۔
پروفیسر نے یہ بھی کہا کہ جب مستقبل میں کووِیڈ کے مختلف ویریئنٹس سے نمٹنے کی بات آتی ہے تو امکان ہے کہ ویکسین اور اینٹی وائرل دوائیں 'تقریباً تمام ان پر قابو پانے میں مُمد و معاون' ثابت ہوں گی۔
پروفیسر وِیٹی نے کہا کہ جب کوویڈ سے لڑنے کی بات آتی ہے تو 'آنے والے ہر چھ ماہ پچھلے چھ مہینوں سے بہتر ہوں گے'۔
برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (یو کے ایچ ایس اے) کی چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر سوزن ہاپکنز نے ارکانِ پارلیمان کو بتایا کہ اس اومیکرون ویریئنٹ سے متاثرہ پندرہ افراد ہسپتال میں موجود ہیں، لیکن پروفیسر وِیٹی نے کہا کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔
ڈاکٹر ہاپکنز نے کہا کہ اومی کرون کے بارے میں قابل اعتماد ڈیٹا جلد سے جلد کرسمس اور نئے سال کے درمیانی ہفتے تک حاصل ہو گا، جس کے لیے ہسپتالوں میں 250 تصدیق شدہ اومی کرون کیسز کی موجودگی کی ضرورت ہے تاکہ اس نئے وائرس کے اثرات اور اس کی شدت کے مطالعہ کیا جا سکے گا۔










