خواتین کا تحفظ: ’خود پر ہونے والے حملے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیوں کیں؟‘

ریگن

،تصویر کا ذریعہREEGAN KAY

،تصویر کا کیپشنریگن کا کہنا ہے کہ میں اب ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہوں
    • مصنف, منیش پانڈے
    • عہدہ, نیوز بیٹ رپورٹر

’ہم اس موضوع پر بات کرتے ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد یہ موضوع لوگوں کے ذہن اور آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کے بارے میں مسلسل بات نہیں کی جا رہی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خواتین کو دھمکیاں نہیں دی جا رہی ہیں، یا اُنھیں ہراساں نہیں کیا جا رہا۔‘

ریگن کا کہنا ہے کہ نومبر میں جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شام باہر گزارنے کے بعد برسٹل یونیورسٹی میں اپنی رہائش گاہ واپس جا رہی تھیں، تو ایک آدمی نے ان پر حملہ کیا۔ ان کا سامنے والا دانت ٹوٹ گیا اور وہ بے ہوش ہو گئی تھیں۔

اکیس سالہ ریگن نے ریڈیو 1 نیوز بیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ ہماری زندگی کا عام حصہ ہے۔‘

لیکن یونیورسٹی طالبہ ریگن نے اس کے بارے میں خاموش نہ رہنے کا فیصلہ کیا اور ٹوئٹر پر تفصیل کے ساتھ اپنی زخمی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ کس طرح ایک شخص نے ’نہ کہنے پر‘ ان پر حملہ کیا، ان پر تھوکا، ان کا لباس کھینچا اور چہرے پر گھونسا مارا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کے واقعات لوگوں کی سمجھ اور علم سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ اگر میں کھلے عام اس بارے میں بات کروں گی تو ایسے دوسرے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوگی جن کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا ہو اور وہ اپنے تجربات سامنے لائیں گے۔‘

اس سال کے اوائل میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سےمیڈیا میں خبریں آئی تھیں اور لندن کے ایک میٹ پولیس افسر کے ہاتھوں ایک لڑکی سارا ایڈورڈ کے قتل کے بعد یہ کیس بحث کا ایک بڑا موضوع بنا تھا۔ ریگن کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ہونے والی بحث نے مجھے بات کرنے کی ہمت دی۔‘

ریگن کا کہنا ہے کہ اپنے ساتھ ہونے والے واقعہ لوگوں کو بتانے کا مقصد تھا کہ خواتین کے تحفظ کے بارے میں بات جاری رہے۔

یہ بھی پڑھیے

’مجھے نہیں لگتا کہ جن لوگوں کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا وہ اسے نظر انداز کرتے ہوئے اپنی زندگی میں مصروف رہیں۔ اگر چیزوں کو بدلنا ہے تو سبھی کو اس بارے میں سوچنا ہوگا'۔

ریگن

،تصویر کا ذریعہREEGAN KAY

،تصویر کا کیپشنلوگوں نے کہا کہ میں دانتوں کے مفت علاج کے لیے جھوٹ بول رہی ہوں

ریگن کا کہنا تھا کہ ’جب تک کہ یہ میرے ساتھ نہیں ہوا مجھے اس وقت تک احساس نہیں ہوا کہ یہ کتنا تکلیف دہ ہے۔ اور جس حقیقت کا مجھے احساس نہیں تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کافی لوگ اس بارے میں بات نہیں کرتے۔‘

ریگن کی پوسٹ پر بہت زیادہ ’مثبت ردعمل‘ رہا ہے، لیکن بہت کم تعداد میں منفی تبصرے بھی ہوئے ہیں۔

اُنھیں کچھ مردوں کی جانب سے منفی پیغامات بھی ملے۔

کچھ لوگوں نے ان کے رویے کو الزام دیا تو کچھ نے ان کے لباس کو نشانہ بنایا۔

کچھ لوگوں نے یہاں تک کہا کہ وہ اپنے دانتوں کا مفت علاج کروانے کے لیے جھوٹ بول رہی ہیں۔

ریگن نے پولیس کو واقعہ کی اطلاع دی

ایون اور سمرسیٹ پولیس کے ترجمان نے نیوز بیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خواتین اور لڑکیوں کے خلاف کسی بھی شکل میں تشدد، بدسلوکی اور دھمکیاں قابل قبول نہیں ہیں اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا'۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس فی الحال آس پاس کے علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے۔

'خواتین اور لڑکیوں کی زندگی بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کے خوف سے آزاد ہونی چاہیے اور ہم متاثرین کی حفاظت، مدد اور اُنھیں با اختیار بنانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ ہم مل کر ان کے خلاف ہر طرح کے تشدد کو ختم کر سکیں'۔

ریگن کا کہنا ہے کہ اس حملے سے ان کے لیے چیزیں مشکل ہو گئی ہیں۔ ’مجھے کھانے پینے اور سونے میں دقتیں پیش آتی ہیں، ہر دن کے اپنے اتار چڑھاؤ ہوتے ہیں'۔

وہ کہتی ہیں 'میں بہت حساس، کمزور اور خوفزدہ محسوس کرتی ہوں۔

'لیکن مجھے یہ بھی اطمینان ہے کہ میرے اردگرد میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ اب بھی کئی بار گھبرا جاتی ہوں کیونکہ یہ واقعہ ابھی میرے ذہن میں تازہ ہے'۔

ریگن کو اپنے تجربے کے بارے میں بات کرنے سے یہ امید ہے کہ یہ دوسرے لوگوں کو بھی ایسا کرنے کی ہمت دے گا۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ اپنے اپنے تجربات کے بارے میں بات کرنے سے دوسرے لوگوں کو بھی اپنے تجربات بتانے کی ہمت ملے گی کیونکہ تحفظ کا احساس بہت اہم اور ضروری ہے۔