بلیک ایکس: نائجیریا کا خفیہ پر تشدد گروہ جو دنیا بھر میں پھیل چکا ہے

- مصنف, افریقہ آئی
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سرفوس
اتنباہ: اس رپورٹ میں پرتشدد مناظر اور واقعات کی تفصیلات موجود ہیں
جنوبی نائجیریا کی بنین یونیورسٹی میں سیاسیات پڑھانے والے ڈاکٹر سٹون کو دیکھ کر ان کے ماضی کے بارے میں اندازا لگانا مشکل ہے لیکن کام کے بعد خاموش لمحات انہیں ایک تکلیف دہ ماضی میں لے جاتے ہیں۔ چند مناظر کی یاد انہیں خصوصا پریشان کر دیتی ہے۔ ان یادوں میں خون یا گولیوں کی آواز نہیں بلکہ وہ بھیک ہے جیسے مرنے والے لوگوں کی جانب سے زندہ رہنے کے لیے مانگی جاتی ہے۔ ڈاکٹر سٹون سے مانگی جانے والی بھیک۔۔۔خدا سے مانگی جانے والی بھیک۔
ان تکلیف دہ یادوں کے پیچھے ڈاکٹر سٹون کا وہ ماضی چھپا ہے جو افریقی ملک نائجیریا سے شروع ہونے والے ایک ایسے پرتشدد مافیا کے رکن کے طور پر گزرا جو اب دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔ ڈاکٹر سٹون بلیک ایکس نامی اس فرقے کے ناصرف رکن تھے بلکہ بنین شہر میں قصائی کے نام سے جانے جاتے تھے جس کی وجہ وہ مظالم تھے جو اس فرقے کی جانب سے ڈھائے گئے۔ یہ فرقہ انسانی سمگلنگ، انٹرنیٹ فراڈ اور قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث رہا جس کی شناخت انتہائی بدترین قسم کی پرتشدد کارروائیوں اور خفیہ رسومات سے کی جاتی ہے۔ اس کے اراکین کی وفاداری اس کا خاصہ مانی جاتی ہے اور آج بھی اس گروہ کو چھوڑنے والے اراکین کی مسخ شدہ لاشوں کی تصاویر نائجیریا کے سوشل میڈیا پر ملتی ہیں۔
ڈاکٹر سٹون بطور ایکس مین گروہ کے رکن کے کئی مظالم میں شرکت کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس انٹرویو کے دوران ایک موقع پر، قتل کے سب سے موثر طریقے کو یاد کرتے ہوئے، ڈاکٹر سٹون نے آگے کی طرف جھک کر اپنی انگلیوں کو بندوق کی شکل دیتے ہوئے ہمارے پروڈیوسر کی پیشانی پر رکھ دیا۔
لیکن اب ڈاکٹر سٹون پشیمان ہیں۔ ڈاکٹر جان سٹون اس ماضی کو یاد کرتے ہوئے کانپ کر کہتے ہیں کہ 'یہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ مرنے والوں کے خاندان کوستے ہوں گے۔ زندگی پر اس کا سایہ رہے گا۔'
بی بی سی افریقہ نے بلیک ایکس نامی اس مافیا پر دو سال کی تحقیق میں یہ سراغ لگایا کہ طلبا کے ایک انتہائی خفیہ گروہ سے شروع ہونے والے بلیک ایکس نامی اس خطرناک مافیا نے کس طرح سے دنیا بھر میں ایک پرتشدد جال پھیلا دیا اور کیسے سیاسی حلقوں تک رسائی حاصل کرنے کے علاوہ انٹرنیٹ کے ذریعے بڑے پیمانے پر مالی فراڈ رچایا۔

اس مافیا کے ساتھ کئی برسوں کی وابستگی نے ڈاکٹر سٹون کی روح کو داغ دار کردیا ہے۔ آج ڈاکٹر سٹون اپنے ماضی پر ندامت محسوس کرتے ہیں اور اس گینگ، جس کے لیے وہ کبھی کام کرتے تھے، پر بھرپور تنقید کرتے ہیں۔ وہ ان درجن بھر بلیک ایکس ذرائع میں سے ایک ہیں جنہوں نے پہلی بار خاموشی کا حلف توڑنے اور بی بی سی کے سامنے اپنے راز افشا کرنے کا فیصلہ کیا۔
بی بی سی افریقہ آئی دو سالوں سے بلیک ایکس پر تحقیقات کر رہی ہے اور 'وِسل بلوؤرز' کا ایک نیٹ ورک بنا رہی ہے (وِسل بلؤرز وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی نجی، عوامی، یا سرکاری تنظیم کے اندر کی معلومات یا سرگرمیوں کو افشا کرتا ہے جنھیں غیر قانونی، غیر محفوظ، دھوکہ دہی، یا ٹیکس دہندگان کے فنڈز کا غلط استعمال سمجھا جاتا ہے) اور اس طرح کئی ہزار خفیہ دستاویزات کا انکشاف کر رہی ہے جن کی بدولت اس گینگ کی نجی سرگرمیاں افشا ہوئی ہیں۔ ان تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران بلیک ایکس دنیا میں خطرناک منظم جرائم کے گروہوں میں سے ایک بن گیا ہے۔
افریقہ، یورپ، ایشیا اور شمالی امریکہ میں 'ایکس مین' (بلیک ایکس کے ارکان) موجود ہیں۔ شاید آپ کے اِن باکس میں ان کی طرف سے بھیجی گئی کوئی ای میل بھی ہو۔
موت کی دھمکی سے شروع ہونے والی تحقیقات
بی بی سی کی تحقیقات کا آغاز موت کی دھمکیوں کے ایک خط کے واقعے سے ہوا۔ یہ ایک آڑھی ترچھی تحریر میں ہاتھ سے لکھا گیا خط تھا جو سنہ 2018 میں بی بی سی کے صحافی کو دیا گیا تھا۔ اس خط کو ایک موٹر سائیکل سوار نے رپورٹر کی کار کی ونڈ اسکرین پر چسپاں کیا تھا۔ اس واقعے کے کچھ ہفتے قبل یہ صحافی نائیجیریا میں افیون کی غیر قانونی تجارت کی کھوج لگانے پر کام کر رہا تھا اور اس نے بلیک ایکس کے متعدد ارکان سے بالمشافہ ملاقاتیں کی تھیں۔ بعد میں ایک دوسرا خط اس شخص کے گھر والوں کو دیا گیا۔ کوئی نہ کوئی اس صحافی کا سراغ لگا رہا تھا جس نے ان کے گھر کا پتہ بھی تلاش کر لیا تھا۔
کیا یہ دھمکی بلیک ایکس نے دی تھی؟ جرائم کا یہ نیٹ ورک کتنا طاقتور ہے اور اس کے پیچھے اصل میں کون سے حلقے ہے؟
ان سوالات کے جوابات کی تلاش نے ہمیں ایک ایسے شخص تک پہنچا دیا جس نے دعویٰ کیا کہ اس نے ہزاروں کی تعداد میں بلیک ایکس کی خفیہ دستاویزات کو ہیک کر لیا ہے جن میں قتل اور منشیات کی اسمگلنگ کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔ ان میں ای میلز اور وسیع اور منافع بخش انٹرنیٹ فراڈ کی تفصیلات بھی ہیں۔ ان میں ایسے پیغامات بھی ملے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مافیا اپنی سرگرمیوں میں عالمی سطح پر توسیع کا منصوبہ رکھتا ہے۔ چار براعظموں پر پھیلی بلیک ایکس کی مجرمانہ سرگرمیوں کا مفصل نقشہ تھا۔

اس کہانی کا سب سے اہم کردار وہی شخص ہے جس نے بلیک ایکس کی خفیہ معلومات تک رسائی ممکن بنائی۔ ہیکنگ کرنے والے کا دعویٰ ہے کہ بلیک ایکس اسے مارنا چاہتی ہے اسی لیے اس نے ایک فرضی نام کا انتخاب کیا۔۔۔اوچے ٹوبیاس۔
ٹوبیاس کو آن لائن بھیجی گئی ایک موت کی دھمکی کو وہ خود پڑھتا ہے 'تمہیں کوئی تلاش کرتا آئے گا۔ اور ایک کلہاڑی تمہاری کھوپڑی میں پیوست کردی جائے گی … میں تمہارا خون پیوں گا اور تمہاری آنکھیں چباوں گا۔'
بلیک ایکس اور حریف گروہوں کی خوفناک جنگ
بی بی سی نے ٹوبیاس کی دستاویزات کا تجزیہ کرنے میں مہینوں صرف کیے۔ ہم ڈیٹا کے کلیدی حصوں کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہے۔ زیادہ تر مواد اتنا زیادہ خوفناک ہے کہ اُسے شائع کرنا مناسب نہیں۔ ایکس مین مافیا اپنی اندرونی بات چیت یا 'چیٹ گروپس' میں حالیہ قتل کی تصاویر شیئر کرنے کے لیے خفیہ فورمز اور پاس ورڈ سے محفوظ ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک ای میل میں 'ہِٹ' کے لیبل والی ایک پوسٹ میں ایک آدمی ایک چھوٹے سے کمرے کے فرش پر پڑا ہوا ہے۔ اس کے سر پر چار زخم ہیں۔ اس کی سفید ٹی شرٹ اس کے اپنے خون سے رنگین ہے۔ بوٹ کا ایک نشان، جس پر خون کے دھبے موجود ہیں، اس کی پیٹھ پر موجود ہے۔
نائیجیریا کے اندر بلیک ایکس اپنے حریف 'فرقوں' کے ساتھ بالا دستی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اسی طرح کے جرائم پیشہ گروہوں کے ناموں کے ساتھ 'اے'، 'بیوکانئیر'، 'پائیریٹس' اور 'میفائیٹس' جیسے گروہوں کے نام آتے ہیں۔
بی بی سی نے مغربی افریقہ کی زُبان ’پِڈگین‘ سے جن پیغامات کا ترجمہ کیا ہے وہ ایکس مین کے بارے میں بتاتے ہیں کہ انھوں نے کتنے ہی لوگ اپنے حریف گروہوں سے قتل کیے، اور ہر علاقے میں فٹ بال کے سکور کی طرح ان قتل کی وارداتوں اور ان میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار کا حساب رکھتے ہیں۔
ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ'سکور اس وقت 15-2 ہے، یہ بینن کی جنگ کی معلومات ہیں۔ ایک اور پوسٹ کے مطابق، 'یہ انمبرا صوبے میں مارا گیا۔ سکور: اے (ایکسمین) کے 4، اور بیوکانیئر کے 2۔'
انٹرنیٹ فراڈ: بلیک ایکس کی کمائی کا اہم ذریعہ
تاہم اس گروہ کے انٹرنیٹ فراڈ ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں، نہ کہ قتل و غارت کی وارداتیں۔
بی بی سی کو دی گئی دستاویزات میں رسیدیں، بینک ٹرانسفر اور ہزاروں ای میلز شامل ہیں جن میں بلیک ایکس کے اراکین کو دنیا بھر میں آن لائن دھوکہ دہی اور فراڈ کی وارداتوں میں تعاون کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ممبران ایک دوسرے کے ساتھ 'فارمیٹس' کا اشتراک بھی کرتے ہیں۔ اس کام کرنے کے طریقہ کار کے بلیو پرنٹس، وراثت کے فراڈ، جائیدادوں کے فراڈ اور کاروباری شراکت کی ای میلز کے فراڈ بھی شامل ہیں جس میں مجرم ادائیگیوں کو روکنے کے لیے ایسے ای میل اکاؤنٹس بناتے ہیں جو کہ بظاہر متاثرہ شخص کے اپنے وکلا یا اکاؤنٹنٹس کے ہوتے ہیں۔
یہ فراڈ چھوٹے پیمانے کے نہیں ہیں جو لیپ ٹاپ پر کوئی اکیلا شخص کرتا ہے۔ یہ باہمی تعاون پر مبنی منظم اور انتہائی منافع بخش کارروائیاں ہیں جن میں بعض اوقات درجنوں افراد شامل ہوتے ہیں جو پوری دنیا میں مل کر کام کرتے ہیں۔
لیک ہونے والی ای میلز میں بی بی سی نے کیلیفورنیا میں ایک ایسے شخص کے کیس کا پردہ فاش کیا جسے سنہ 2010 میں مشتبہ ایکس مین کے نیٹ ورک نے اٹلی اور نائیجیریا سے فراڈ کا نشانہ بنایا تھا۔ متاثرہ شخص نے ہمیں بتایا کہ اس کے ساتھ مجموعی طور پر تیس لاکھ ڈالر کا فراڈ کیا گیا۔
اس فراڈ کا شکار ہونے والے شخص نے کسی دھوکہ دینے والے کو ای میل پر بتایا تھا کہ جیسے ہی اُس کی رقم اس کے اکاؤنٹ سے غائب ہوئی اُسے پتہ چلا کہ وہ 'جس بینک کے ساتھ کام کر رہا تھا اُس کا شاید کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ میں وضاحت کے ساتھ کہوں کہ جس سویٹزرلینڈ کے بینک کا ذکر کیا گیا تھا اُس کا وجود ہی نہیں تھا۔ وہ فراڈ تھا۔'
ای میلز میں دکھایا گیا ہے کہ بلیک ایکس کے مشتبہ ارکان جب لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں تو وہ جعلی یا چوری شدہ پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے شکار کو 'مگو' یا 'مے' کے نام دیتے ہیں، جو کہ مقامی زبان میں 'بیوقوف' یا 'احمق' کے متبادل الفاظ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

اربوں ڈالر کمانے والا گروہ جو دنیا بھر میں پھیل چکا ہے
بلیک ایکس کا بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورک ممکنہ طور پر اربوں ڈالر کی آمدن حاصل کر رہا ہے۔ سنہ 2017 میں کینیڈا کے حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک ایسے گروہ کا سراغ لگایا جو 5 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے منی لانڈرنگ فراڈ میں ملوث تھا۔ کوئی نہیں جانتا کہ بلیک ایکس ایسے کتنے فراڈ کر چکی ہے۔
ڈیٹا ہیک کرنے والے ایک شخص نے ہمیں بتایا کہ 'یہ (مافیا) پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے'۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نجی زندگی میں دھوکہ دہی کے خلاف ایک تفتیش کار ہے اور اس نے فراڈ کے متعدد متاثرین سے ملنے کے بعد بلیک ایکس کا تعاقب شروع کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'میرا اندازہ ہے کہ اس گروہ کے تیس ہزار سے زیادہ ممبران ہیں۔'
بلیک ایکس کی عالمی توسیع کے منصوبے کو بہت احتیاط کے ساتھ تشکیل دیا گیا ہے۔ ان کی اندرونی خط و کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایکس مین نے جغرافیائی علاقوں کو 'زونز' میں تقسیم کرتے ہوئے مقامی 'سربراہ' نامزد کیے ہیں۔ زونل سربراہان نائیجیریا کے بینن شہر میں اپنے مرکز میں موجود رہنماؤں کو رقم واپس بھیجنے سے پہلے، اپنے دائرہ اختیار میں رہنے والوں سے ممبرشپ فیس جمع کرتے ہیں۔
ٹوبیاس کہتے ہیں کہ 'یہ پورے یورپ اور امریکہ، جنوبی امریکہ اور ایشیا میں پھیل چکا ہے۔ یہ کوئی چھوٹا کلب نہیں ہے، یہ ایک حیرت انگیز طور پر ایک بہت بڑی مجرمانہ تنظیم ہے۔'
بلیک ایکس کے خلاف دنیا بھر کی حکومتیں متحرک
ٹوبیاس کے تفتیشی نتائج کو بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تائید حاصل ہے۔ افریقہ کے 120 ماہرین کے تجزیے کی بنیاد پر سنہ 2021 کے منظم جرائم کے انڈیکس کے مطابق، نائیجیریا براعظم میں منظم جرائم کی بلند ترین سطح پر ہے اور یہ نیٹ ورک بیرون ملک پھیل رہے ہیں۔
اٹلی میں بلیک ایکس کی سرگرمیوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے کئی دہائیوں پرانے مافیا قوانین کو بحال کیا جا رہا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مقامی جرائم کے نیٹ ورک پر غالب ہوتے جارہے ہیں۔ اپریل سنہ 2021 میں اٹلی میں 30 مشتبہ ارکان کو گرفتار کیا گیا جن پر انسانی اسمگلنگ، جسم فروشی اور انٹرنیٹ فراڈ کے الزامات لگائے گئے۔
امریکہ نے مزید جارحانہ انداز اپنایا ہے۔ بلیک ایکس کے خلاف ایف بی آئی کی کارروائیاں نومبر 2019 اور ستمبر 2021 میں شروع کی گئی تھیں اور بالآخر 35 سے زائد افراد پر کروڑوں ڈالر کے انٹرنیٹ فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے۔ اس سال ستمبر اور دسمبر کے درمیان، امریکی خفیہ سروس اور انٹرپول نے جنوبی افریقہ میں بلیک ایکس کے مزید نو مشتبہ ارکان کی گرفتاری کے لیے ایک بین الاقوامی آپریشن شروع کیا۔
امریکی وفاقی ادارہ برائے تحقیقات (FBI) کے سابق اسپیشل ایجنٹ اور سائبر سکیورٹی کے ماہر سکاٹ اوگنبام کہتے ہیں کہ'سائبر کرائم ایک اربوں کھربوں ڈالر مالیت کی صنعت ہے جو اس وقت قابو سے باہر ہے۔'
ان کا کہنا ہے کہ بیورو کے سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ میں 30 سالہ کیرئیر کے دوران بلیک ایکس کے سینکڑوں متاثرین کے بارے میں علم ہوا ہے۔ اوگنبام لیک شدہ دستاویزات میں پائے جانے والے دھوکہ دہی کے معاملات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'میں نے زندگیوں کو تباہ ہوتے پوئے دیکھا ہے، کمپنیاں کاروبار سے فارغ ہو جاتی ہیں، زندگی کی بچت ختم ہوتی ہے۔ یہ جرم سب کو متاثر کرتا ہے۔'
نائجیریا کے خفیہ گروہ کی شروعات کیسے ہوئی؟
بلیک ایکس کی مجرمانہ سلطنت چاہے عالمی سطح پر کتنی ہی کیوں نہ پھیل چکی ہو اس کی جڑیں بہرحال نائیجیریا میں مضبوطی سے پیوست ہیں۔ اس گروپ کی بنیاد 40 سال قبل ایڈو صوبے کے شہر بنین میں رکھی گئی تھی۔
زیادہ تر ایکس مین اسی خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق، بیرون ملک ہجرت کرنے والے نائیجیریا کے 70 فیصد افراد کا تعلق ایڈو صوبے سے ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بلیک ایکس غیر قانونی طور پر سفر کرنے والوں کو بنین سٹی، شمالی افریقہ اور جنوبی اٹلی میں اپنے اڈوں کے درمیان منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اپنے وطن میں یونیورسٹی کے مرد انڈر گریجویٹز جن کی عمریں 16 اور 23 کے درمیان ہوں بلیک ایکس میں بھرتی کیے جاتے ہیں۔ گروہ میں شمولیت کے خفیہ آغاز کا عمل جسے 'بئمنگ' کہا جاتا ہے، ایک بہت ہی بدنام زمانہ سفاکانہ عمل ہے۔

بلیک ایکس میں شمولیت کی خفیہ اور بھیانک رسم
بی بی سی نے جن ای میلز کا تجزیہ کیا ان میں ایک میں سنہ 2016 سے ایک خفیہ فورم پر ایک پوسٹ میں اپنے تجربے کی تفصیل بتاتے ہوئے ایک ایکس مین کہتا ہے کہ 'مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں اس دن بائم کرنے جا رہا ہوں۔' وہ کہتا ہے کہ اسے کیمپس سے دور لے جایا گیا، وہ یہ سوچ رہا تھا کہ وہ ایک خصوصی پارٹی میں جا رہا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ کیسے اسے ایک جنگل میں لے جایا گیا، جہاں مردوں کا ایک گروپ اس کا انتظار کر رہا تھا۔ انہوں نے زبردستی اس کے کپڑے اتار دیے اور اسے کیچڑ میں منہ کے بل لیٹنے پر مجبور کیا۔ پھر انھوں نے باری باری اس کی جلد کو کچے بانس سے مارتے ہوئے اسے نیم بے ہوش کر دیا۔ کوئی چیختا کہ وہ اس کی گرل فرینڈ کو ریپ کرے گا، اور جب وہ فارغ ہو جائے گا، وہ دوبارہ اس کو ریپ کرے گا۔
وہ شخص اپنی ای میل میں لکھتا ہے کہ 'میں اس دن موت کے قریب پہنچ چکا تھا۔'
لیکن بالآخر یہ ٹارچر رک گیا۔ اس کے بعد رسومات کا ایک سلسلہ شروع ہوا، جس میں اسے ٹارچر دینے والوں کی ٹانگوں کے نیچے سے رینگ کر گزرنا تھا جسے 'شیطان کا راستہ' کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے اسے اپنے انگوٹھے میں زخم سے رسنے والے خون کو گانوں اور نعروں کی گونج میں پینا تھا۔ اُسے 'کولا نٹ' چبانا تھا جو کہ مغربی افریقہ کا رہنے والا کیفین والا ایک میوہ ہے۔ اس کے بعد اسے ان مردوں نے گلے لگا لیا جنھوں نے اس پر تشدد کیا تھا۔ وہ اس طرح 'دوبارہ پیدا' ہوا تھا جسے وہ 'اے ایکس مین' کہتے ہیں۔
پیسہ، نیٹ ورکنگ۔۔بلیک ایکس میں لوگ کیوں شامل ہوتے ہیں؟
لوگوں کے بلیک ایکس میں شامل ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ کچھ کو تو بھرتی کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، دوسرے رضاکارانہ طور پر شامل ہوتے ہیں۔ لاگوس لیگون کے اوپر لکڑی کے کناروں پر بنی ہوئی ایک وسیع کچی بستی ماکوکو میں ہم نے متعدد ایکس مین ارکان کا انٹرویو کیا، جن میں سے کچھ نے کہا کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف شامل ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی وفاداری بہت تھی جو کہ ابتدائی عمل کے روحانی بندھن سے جڑی ہوئی تھی۔
گروپ کے لیڈر نے لکڑی کی ایک چھوٹی عمارت، جس کے چاروں طرف ایکس مین موجود تھے، کے اندر بیٹھے ہوئے کہا کہ 'ہم کوروفو، غائب خدا کی عبادت کرتے ہیں، اور اس نے ہمیشہ ہماری رہنمائی کی ہے۔' انھوں نے کہا کہ انہیں بلیک ایکس کا رکن ہونے پر 'فخر' ہے، اس کے باوجود کہ اسے ایک پولیس افسر نے زبردستی بھرتی کیا تھا۔ ایک اور رکن نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنے والد کے حریف گروہ کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد شمولیت اختیار کی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ممبران کیسے یا کیوں شامل ہوتے ہیں، ان میں سے بہت سے دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے فوائد ہیں۔
فرقے کے ایک رکن نے ہمیں اپریل 2021 میں لاگوس میں انٹرویو کے دوران بتایا کہ اس میں 'رازداری، نظم و ضبط اور بھائی چارے' کا فائدہ ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس نے گروپ کے مجرمانہ اداروں کے ذریعے اچھی رقم کمائی جو اس سے زیادہ تھی جو وہ بینک میں کام کر کے کماتا۔

بنین شہر میں مقیم ایک سماجی کارکن کرٹس اوگبور نوجوانوں کو بلیک ایکس جیسے گروہوں میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'کوئی بھی آپ کو چھو نہیں سکے گا۔ ایک بار جب آپ کسی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، تو وہ آپ کی حفاظت کریں گے۔ شروع کا شامل ہونے کا عمل۔۔۔ یہ سب نیٹ ورکنگ ہے۔'
ڈاکٹر سٹون کا کہنا ہے کہ بہت سے ایکس مین مکمل طور پر نیٹ ورکنگ کے مقاصد کے لیے شامل ہوتے ہیں۔ نائیجیریا میں بے روزگاری کی شرح دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، اور اس مشکل ماحول میں، وہ کہتے ہیں کہ بلیک ایکس میں شمولیت تحفظ اور کاروباری رابطے فراہم کر سکتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تمام ممبران مجرم نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'ہمارے پاس نائجیریا کی فوج، بحریہ، فضائیہ میں ارکان ہیں۔ ہمارے پاس وہ لوگ ہیں جو تعلیمی شعبے میں ہیں۔ ہمارے پاس پادری، مبلغ ہیں۔'
بلیک ایکس کی شروعات کیسے ہوئی؟
یہ گروپ 'نیو بلیک موومنٹ' آف افریقہ (این بی ایم) کہلانے والی طلبا برادری سے نکلا ہے جو سنہ 1970 کی دہائی میں بنین یونیورسٹی میں قائم ہوا۔ این بی ایم کی علامت زنجیروں کو توڑنے والی کالی کلہاڑی تھی، اور اس کے بانیوں نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ظلم سے لڑنا ہے۔ این بی ایم جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد سے متاثر تھی، لیکن ساخت، رازداری اور برادرانہ وابستگی میں، اس نے فری میسنز جیسے اداروں کی عکاسی کی، جو نو آبادیاتی دور میں نائجیریا میں موجود تھے۔
این بی ایم آج بھی موجود ہے، اور یہ نائجیرین کارپوریٹ افیئر کمیشن کے ساتھ قانونی طور پر رجسٹرڈ کمپنی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے دنیا بھر میں تیس لاکھ ممبران ہیں، اور یہ باقاعدگی کے ساتھ اپنی خیراتی سرگرمیوں کی تشہیر کرتی ہے۔ نائیجیریا اور بیرون ملک یتیم خانوں، سکولوں اور پولیس کے لیے عطیات اس کی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ اس کی بڑی سالانہ کانفرنسیں ہوتی ہیں، جن میں سے بعض میں ممتاز سیاستدان اور مشہور شخصیات بھی شرکت کرتی ہیں۔
این بی ایم کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ بلیک ایکس ایک بدمعاش گروہ ہے جس سے این بی ایم الگ ہو چکا ہے۔ عوامی طور پر وہ سختی سے اپنے آپ کو اس نام سے الگ کرتے ہیں اور اس بات پر قائم ہیں کہ این بی ایم تمام مجرمانہ سرگرمیوں کی مخالفت کرتا ہے۔
این بی ایم تنظیم کے موجودہ صدر اولوروگن ایس کاکور نے جولائی سنہ 2021 میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 'این بی ایم بلیک ایکس نہیں ہے۔ این بی ایم کا ان مجرمانہ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ این بی ایم ایک ایسی تنظیم ہے جو دنیا میں اچھے کاموں کو فروغ دیتی ہے۔'
این بی ایم کے وکلا نے ہمیں بتایا کہ اگر کسی بھی ان بی ایم کے رکن کا تعلق بلیک ایکس کے ساتھ ظاہر ہوا تو اسے 'فوری طور پر این بی ایم سے نکال دیا جائے گا' اور یہ کہ وہ جرم کو ناقابلِ برداشت سمجھتے ہیں۔
این بی ایم اور بلیک ایکس۔۔ایک ہی سکے کے دو رخ؟
بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نظریہ مختلف ہے۔ سنہ 2018 کے بعد بلیک ایکس کے ارکان کے خلاف قانونی کارروائی کے دوران امریکی محکمہ انصاف کے بیانات کہتے ہیں کہ این بی ایم 'مجرمانہ تنظیم ہے اور بلیک ایکس کا حصہ' ہے۔ اسی طرح کے بیانات کینیڈا کے حکام نے بھی دیے ہیں، جنھوں نے این بی ایم اور بلیک ایکس کو 'ایک جیسا' قرار دیا ہے۔
بی بی سی نے جو دستاویزات دیکھی ہیں ان میں سے کچھ میں بلیک ایکس ممبران اور این بی ایم کارپوریشن کے درمیان تعلق بھی ظاہر ہوتا ہے۔
بہت ساری دستاویزات ایک ای میل اکاؤنٹ سے حاصل کی گئیں جو سنہ 2012 اور سنہ 2016 کے درمیان این بی ایم کے صدر، آگسٹس بامیگو آئیوایبو کا تھا۔ ان فائلوں سے پتہ چلتا ہے کہ مسٹر بامیگو، جو کہ نائیجیریا میں ایک کامیاب سرمایہ کار اور ہوٹل مالک ہیں، بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ فراڈ میں ملوث ہیں۔ بی بی سی نے اعداد و شمار سے دو بڑے کیسز کی تصدیق کی ہے جس میں مسٹر بامیگو برطانیہ اور امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے والے وراثتی فراڈوں میں ملوث دکھائی دیتے ہیں۔ متاثرین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھ 33 لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم کا فراڈ کیا گیا۔
ای میل کے ایک پیغام میں، جو فراڈ کا شکار ہونے والے ایک شخص کا حوالہ دیتے ہوئے، ایک مشتبہ شریک سازشی مجرم کی طرف سے مسٹر بامیگو کو بھیجا گیا ہے، اس میں لکھا ہے کہ 'ہم نے اس کے اکاؤنٹ سے 10 لاکھ ڈالر نکال لیے ہیں'۔ ای میل میں متاثرہ کا پورا نام، ای میل ایڈریس اور نمبر، اور اسکینڈل کو آگے بڑھانے کے طریقے سے متعلق ہدایات بھی شامل ہیں۔
دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ مسٹر بامیگو نے کم از کم 50 مواقع پر ساتھیوں کے نیٹ ورک کو فراڈ کے فارمیٹس بھیجے۔ ایک پیغام جس میں این بی ایم کی توسیع کے بارے میں بات کی گئی ہے، تجویز کرتا ہے کہ اس نے اراکین سے درخواست کی کہ وہ دنیا بھر میں غیر سرکاری اداروں (NGOs) قائم کریں تاکہ 'لاکھوں کی تعداد میں اضافہ' ہو سکے۔
جب این بی ایم کے اراکین کو ای میلز میں پیغامات بھیجے جاتے ہیں، تو مسٹر بامیگو انہیں 'اے ایکسمین' کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ ایک جواب میں، جو بظاہر فیس بک میسنجر کے ذریعے مسٹر بامیگو کو بھیجا گیا تھا، انہیں 'قومی بزرگ بلیک ایکس' کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔

سنہ 2019 میں مسٹر بامیگو کی سالی پر برطانیہ میں 10 لاکھ پاؤنڈ کی منی لانڈرنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔ کراؤن پراسیکیوشن سروس نے، ایک وسیع پیمانے پر شائع ہونے والی پریس ریلیز میں انہیں اس وقت 'بلیک ایکس کا رہنما' کہا تھا۔
جب بی بی سی نے یہ شواہد این بی ایم کی قیادت کے سامنے رکھے تو انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی چھان بین کریں گے، اور جو بھی ان کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا گیا اسے نکال دیا جائے گا۔ بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر مسٹر بامیگو نے ان الزامات کا جواب نہیں دیا۔
ڈاکٹر اسٹون کا دعویٰ ہے کہ بلیک ایکس اور این بی ایم دراصل ایک ہی تنظیم ہیں۔ یہ بات انھوں نے اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہی۔ وہ ناصرف بلیک ایکس کے رکن تھے بلکہ این بی ایم کے اندر ان کے مرکز بنین شہر میں ان کے چیئرمین بھی رہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یہ ایک ہی ہے۔ یہ صرف ایک قسم کی رسم ہے کہ غیر رسمی باتوں کا احاطہ کیا جائے۔ یہ ایک سکہ ہے جس کے دو رخ ہیں۔'
ٹوبیاس کے مطابق، پوری دنیا میں بلیک ایکس کی خفیہ توسیع میں این بی ایم کا اہم کردار رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'بطور تنظیم نیو بلیک موومنٹ (این بی ایم) محض ایک ڈرامہ ہے، یہ ایک بہروپ ہے، یہ تنظیم کا عوامی چہرہ ہے۔' اُن کا دعویٰ ہے کہ این بی ایم کا 'اصل مقصد عوام کی رائے کو متاثر کرنا' ہے تاکہ یہ عوام سے خفیہ رکھا جا سکے کہ 'وہ اصل میں کیا ہیں، جو کہ دراصل ایک مافیا ہے'۔
این بی ایم کے نام سے کام کرنے والی تنظیمیں برطانیہ اور کینیڈا سمیت پوری دنیا میں رجسٹرڈ ہیں۔ کارپوریشن کے آفیشل سوشل میڈیا چینلز کے علاوہ کم از کم 50 فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب اکاؤنٹس اس نام کو مختلف طریقوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ کچھ اکاؤنٹس کے ایک لاکھ سے زیادہ فالورز ہیں۔ دیگر میں کلہاڑی کے ایموجیز، کلہاڑی یا بندوق اٹھائے ہوئے لوگوں کی تصاویر، اور کبھی کبھار ان کا علامتی نعرہ 'اے ایکسمین!' بھی پوسٹ کیا جاتا ہے۔
'بلیک ایکس حکومت میں بھی موجود ہے'
این بی ایم نے متعدد ممالک میں کامیابی سے خود کو ایک عالمی برانڈ کے طور پر قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر اسٹون کا دعویٰ ہے کہ نائیجیریا میں نیٹ ورک کا اثر و رسوخ سیاسی میدان تک پھیلا ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'اسمبلی، یہاں تک کہ ایگزیکٹو میں بھی بلیک ایکس کے بہت سارے ممبران موجود ہیں۔ یہ وہی ہے جو بلیک ایکس ہے۔ یہ وہی ہے جس کی این بی ایم تبلیغ کرتی ہے، کسی بھی ایسی پوزیشن میں جھانکیں جو آپ جانتے ہیں کہ ایسا ہونا عملاً بالکل ممکن ہے۔'
این بی ایم کے سابق سربراہ آگسٹس بامیگو کو برطانیہ کی ایک عدالت کی فائلوں میں بلیک ایکس کے سابق سربراہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے جنھوں نے سنہ 2019 میں حکمران آل پروگریسو کانگریس پارٹی (اے پی سی) کے لیے مہم چلاتے ہوئے نائیجیریا کے ایوان نمائندگان میں ایک عہدے کے لیے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔
کارکن کرٹس اوگ بیبور کا دعویٰ ہے کہ ایڈو صوبے کی سیاست بلیک ایکس کے ارکان سے بھری ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'نائیجیریا میں یہ مافیا کی سیاست ہے۔ ہمارے سیاست دان، حکومت میں ہر سطح پر، ہمارے نوجوانوں کو اس گروہ کی طرف راغب کرتے ہیں۔'
مسٹر اوگ بیبور کا دعویٰ ہے کہ حریفوں کو ڈرانے، بیلٹ بکسوں کی حفاظت، اور لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے بلیک ایکس کے ارکان کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک بار وہ منتخب ہوجائیں تو وہ پھر انہیں حکومت میں عہدوں سے نوازتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'وہ انہیں مسلح کرتے ہیں، انتخابات کے دوران پیسے دیتے ہیں، اور ان سے سیاسی تقرری کا وعدہ کرتے ہیں۔'
دو دستاویزات، جو بظاہر این بی ایم کے اندرونی مواصلات سے لیک ہوئیں، تجویز کرتی ہیں کہ ساڑھے تین کروڑ نائرا (64 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ) بنین سٹی میں تنظیم کو 'ووٹوں کی حفاظت' اور سنہ 2012 میں گورنر شپ کے انتخاب کے لیے حمایت کو یقینی بنانے کے لیے بھیجی گئی تھی۔ حمایت کے بدلے میں فائلوں میں کہا گیا ہے کہ 'ریاستی حکومت کی طرف سے این بی ایم بنین زون کو فوری طور پر ملازمت کے لیے 80 اسامیاں مختص کی گئی تھیں'۔ یہ رقم مبینہ طور پر براہ راست 'اس وقت کے چیف آف سٹاف آنر سیم ایریڈیا کے ذریعے' تقسیم کی گئی تھی جو اب فوت ہو چکے ہیں۔
لاگوس میں این بی ایم کے سینئیر اراکین کے ساتھ انٹرویوز کے دوران ان کے قانونی نمائندے نے تصدیق کی کہ 'متعدد سیاست دان' ان کے ارکان ہیں۔ اس نے مثال کے طور پر ایڈو صوبے کے ڈپٹی گورنر فلپ شیبو کا نام لیا۔
این بی ایم کے وکیلوں میں سے ایک، الیو ہوپ نے کہا کہ 'بہت سارے لوگ ہیں جو ہماری تنظیم کے ممبر ہیں اور اس کے بارے میں چھپانے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔'
ایڈو کی صوبائی حکومت کے ایک سابق رکن بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے، پہلی بار منظم جرائم کے ساتھ ایڈو صوبے کے تعاون پر اس کے راز افشا کرنے کے لیے وِسل بلوؤر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

ٹونی کباکا خود سے اقرار کرتے ہیں کہ وہ اُس 'فرقے' سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ این بی ایم کے رکن بھی ہیں، انھوں نے سنہ 2019 تک بنین میں حکومت کے لیے کام کرتے ہوئے برسوں گزارے۔ اس دوران اپنی کمپنی، اکوگبے وینچرز، کے ذریعے اُنھوں نے 7,000 سے زیادہ 'ٹیکس کلیکٹرز' کی اسامیوں پر لوگوں کو بھرتی کرایا جس سے ریاست کو اربوں کی آمدن ہوئی۔
سیاست چھوڑنے کے بعد سے مسٹر کباکا پر متعدد بار قاتلانہ حملے ہوئے جس کا ثبوت ان کے رومی طرز کے ستونوں والی بڑی سی سفید عمارت کے گھر میں گولیوں کے سوراخوں کے نشانات ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'اگر آپ مجھے بٹھا کر کہیں کہ کیا آپ حکومت میں بلیک ایکس کی شناخت کر سکتے ہیں؟ تو میں شناخت کروں گا۔ زیادہ تر سیاست دان تقریباً ہر کوئی ملوث ہے۔'
مسٹر کباکا کا دعویٰ ہے کہ ان سے کہا گیا تھا کہ وہ انتخابات جیتنے میں مدد کے لیے 'کلٹ گروپس' کو متحرک کریں۔ تاہم مسٹر کباکا خود تشدد میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'اگر حکومت الیکشن لڑنا چاہتی ہے تو انہیں ان کی ضرورت ہے۔ یہ کلٹ اب بھی موجود ہے کیونکہ حکومت خود اس میں ملوث ہے، اور یہی سچ ہے۔'
ہم نے جولائی سنہ 2021 میں ڈپٹی گورنر فلپ شیبو کا انٹرویو کرنے کے لیے بنین سٹی کا سفر کیا، لیکن وہ وعدے کے باوجود دو بار انٹرویو میں شریک نہ ہوئے۔ جب ہم نے ایڈو صوبے کی حکومت اور مسٹر شیبو کو وہ الزامات بھیجے کہ ان کا بلیک ایکس سے تعلق ہے تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
ڈاکٹر سٹون کا خیال ہے کہ نائجیریا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیاست دان بلیک ایکس کی سرگرمیوں میں اتنا ملوث ہیں کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ تشدد کا حل اِس 'فرقے' (کلٹ) کے اندر ہی مضمر ہے۔ وہ واحد سابق رکن نہیں ہے جو محسوس کرتے ہیں کہ یہ گروپ بہت خطرناک ہو چکا ہے۔
اس کلٹ کے خفیہ فورم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 'ہم میں سے کچھ لوگوں کے این بی ایم میں شامل ہونے کی وجہ ظلم کے خلاف جد و جہد میں شامل ہونا تھا۔ لیکن اب ہم پر تمام شواہد کے ساتھ ایک مجرمانہ تنظیم کا لیبل لگا دیا گیا ہے۔'
بلیک ایکس کی اندرونی کمیونیکیشنز یعنی بات چیت بھی ممبران کی اسی طرح کی شکایات سے بھری پڑی ہیں۔
ایک اور پوسٹ کہتی ہے کہ 'میں لوگوں کو قتل کرنے کے لیے ایکس مین نہیں بنا تھا، میں بھائی چارے کے لیے ایک ایکس مین بنا تھا۔ براہ کرم، یہ قتل بند کرو۔'

این بی این کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ تنظیم اپنے بانی اصولوں پر قائم رہے اور امن کو فروغ دے۔ گروپ کے موجودہ صدر اولوروگن ایس کاکور نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مجرمانہ 'دراندازوں' کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے منتخب ہوئے ہیں اور یہ لوگ 'تنظیم کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں'۔ تبدیلی کے لیے اس دباؤ کا استفادہ کرنے کی کوشش میں، ڈاکٹر اسٹون نے 'رین بو کولیشن' کے نام سے ایک ایڈووکیسی گروپ تشکیل دیا ہے جو سابق ارکان، بااثر نائجیرین شہریوں اور پروفیسروں پر مشتمل ہے۔ یہ افراد محارب گروہوں کے تصادم کے وقت تناؤ کو کم کرانے کی کوشش کرتے ہیں، اور بلیک ایکس کو زیادہ پرامن مستقبل کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'معاشرے میں رین بو ایڈوکیسی کا مقصد جرائم کو کم کرنا ہے۔ نوجوانوں میں موت کی شرح کو کم کرنے کے لیے، بیواؤں اور یتیموں کی شرح کو کم کرنے کے لیے۔'
رین بو کے شریک بانی، چوکوُوکا اومیسا، چاہتے ہیں کہ بلیک ایکس کے اراکین اس معاشرے پر غور کریں جو وہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'ہر ایک کا ضمیر ہوتا ہے۔ آپ کیمرے پر اس سے انکار کر سکتے ہیں، عوام کے سامنے اس سے انکار کر سکتے ہیں، لیکن آپ اپنے پرسکون وقت میں اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ یہ آپ کو پریشان کرے گا۔'
ڈاکٹر سٹون جانتے ہیں کہ بلیک ایکس کو اصلاحات کی طرف راغب کرنا ایک خطرناک کام ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے سابق ساتھی ایک دن اُن کے پاس آسکتے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پروفیسر تین فٹ لمبی تلوار اپنی کار میں چھپا کر رکھتے ہیں، اور ایک لائسنس یافتہ شاٹ گن گھر میں رکھتے ہیں۔
وہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ یہ اسلحہ 'ذاتی حفاظت کے لیے، میری اپنی حفاظت کے لیے ہے۔ اگر وہ میرے پیچھے آتے ہیں تو کیا میں ان کے پیچھے نہیں جا سکتا؟'
یہ رپورٹ 'بی بی سی افریقہ آئی' کے چارلی نارتھ کوٹ، سیم جوڈا اور پیٹر میک جاب کی تحقیقات کے نتیجے میں تیار کی گئی۔








