متحدہ عرب امارات میں ہفتہ وار چھٹی میں اضافہ: کیا کم کام کرنے سے پیداواری صلاحیت بہتر ہوتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
اگر آپ متحدہ عرب امارات میں کام کرتے ہیں تو نیا سال آپ کے لیے ایک ایسی خوشی لا رہا ہے جو دنیا میں سب لوگوں کو میسر نہیں۔
یہ خوشی ہے کام کے اوقات میں کمی اور چھٹی میں آدھے دن کے اضافے کی جس کا اطلاق یکم جنوری 2022 یعنی نئے سال کے پہلے دن سے ہوگا۔ لیکن یہ خوشی فی الحال صرف سرکاری دفاتر تک محدود ہے۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری سے نافذ العمل اس نظام کے تحت تمام وفاقی سرکاری ادارے ساڑھے چار دن کام اور ڈھائی دن چھٹی کریں گے۔ یعنی جمعے کے دن 12 بجے چھٹی ہو جائے گی۔
پیداواری صلاحیت اور سماجی زندگی میں بہتری
متحدہ عرب امارات کے سرکاری میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرکاری اہلکاروں کو زیادہ چھٹیاں مل سکیں جس سے امید ہے کہ ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور ان کی سماجی زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔
متحدہ عرب امارات میں اب وفاقی سرکاری دفاتر میں کام کرنے کا وقت صبح 7:30 سے دوپہر 3:30 تک مقرر کر دیا گیا ہے۔
اس اعلان میں اس امکان کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ جمعے کے دن گھر سے کام کرنے کی آپشن پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اس اعلان کے بعد جہاں ایک سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس فیصلے کا اطلاق آنے والے دنوں میں نجی دفاتر میں بھی ہوسکتا ہے یا نہیں اور آیا یہ ایک تجربہ ہے، وہیں ساتھ ہی ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس فیصلے کی بنیادی وجوہات کیا وہی ہیں جو بتائی جا رہی ہیں؟
اس سوال کے جواب سے پہلے ذرا ایک نظر اس پر بھی ڈالتے ہیں کہ چھٹی کی تاریخ کہاں سے شروع ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہUAE GOVERNMENT
انڈیا میں کبھی ساتوں دن کام کرنا پڑتا تھا
ایک وقت تھا جب برصغیر میں مغلیہ دور کے دوران جمعے کی چھٹی ہوا کرتی تھی لیکن سب کے لیے نہیں۔ مزدور طبقہ خاص طور پر سات دن کام کرتا تھا۔ 1843 میں اتوار کی چھٹی کا اعلان ہوا تو اس کا نفاذ برصغیر میں ایک سال بعد یعنی 1844 میں ہوا۔ تب تک مغل حکومت دلی تک محدود جب کہ ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کے سیاہ سفید کی مالک بن چکی تھی۔
سکولوں میں تو ایک دن کی چھٹی کا رواج عام ہو چکا تھا لیکن مزدوروں کو پھر بھی چھٹی کے لیے مزید انتظار کرنا پڑا۔ اس کا سہرا مزدور رہنما نارائن میھگا جی لوکھنڈے کو جاتا ہے جنہوں نے ناصرف سب سے پہلے مل ورکرز کے لیے ایک دن کی چھٹی اور آدھے گھنٹے کھانے کے وقفے کی تجویز پیش کی بلکہ 1880 کی دہائی میں اس کے حصول تک جنگ بھی جاری رکھی۔ امریکہ میں دو دن کی چھٹی کے پیچھے بھی مزدور یونین کا ہاتھ ہے۔
کبھی جمعہ، کبھی اتوار
پاکستان بنا تو ہر چیز کی طرح چھٹی کا دن بھی وہی تھا جو انگریز چھوڑ گئے تھے یعنی اتوار۔ اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے جمعے کی چھٹی کا رواج شروع کیا جو ان دنوں میں آنے والی بہت سی تبدیلیوں میں سے ایک تھی۔ یہ رواج ان کے جانے کے بیس سال بعد بھی قائم رہا۔
سنہ 1997 میں نواز شریف برسراقتدار تھے۔ کاروباری طبقے سے انھیں خاص لگاؤ تھا جنھیں شکایت تھی کہ جمعے کے دن نماز تو قائم ہو جاتی ہے لیکن بین الاقوامی منڈی سے رابطہ کٹ جاتا ہے۔ پس پاکستان میں اتوار کے دن کی پوری اور جمعے کے دن کی آدھی چھٹی کا سلسلہ شروع ہوا جس میں وفاق کی حد تک اب ہفتے کی چھٹی بھی شامل ہو کر ڈھائی دن کی چھٹی پاکستان میں میسر ہونے لگی ہے۔
اب بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو یہ چاہتا ہے کہ جمعے کی چھٹی کو بحال کیا جائے۔ ماضی قریب میں کئی اراکین اسمبلیوں میں یہ قرارداد لا چکے ہیں جس پر اب تک باضابطہ سرکاری شنوائی نہیں ہو پائی۔
ایسا نہیں کہ چھٹی کے دن کا معاملہ صرف پاکستان میں ہی تجربات کی نظر ہوا۔ سعودی عرب میں پہلے جمعرات اور جمعے کو چھٹی ہوا کرتی تھی جسے بدل کر جمعہ اور ہفتہ کر دیا گیا۔
یہاں بھی کاروباری طبقے نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ اومان، کویت، بحرین سمیت کئی اور ممالک میں بھی یہی رواج عام ہوا۔ برونائی کی حکومت نے البتہ سب کو مات دے کر تین دن چھٹی کا اعلان کیا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ کام کرنے کے اوقات میں اضافہ کر دیا۔
ادھر یورپ کے شمال میں بھی سوال اٹھے کہ کام کم کیا جائے تو کیا پیداوار بہتر ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کام کے اوقات میں کمی کے تجربات کے نتائج
سب سے پہلے اس ماڈل کے بارے میں سوچنے والے شخص امریکی کارساز کمپنی فورڈ کے مالک ہینری فورڈ تھے جنھوں نے 1926 میں اسی نوعیت کی تبدیلیاں عمل میں لائیں تھیں، جیسے آٹھ گھنٹے کام، ہفتے میں دو دن چھٹی اور تنخواہ کے ساتھ سالانہ چھٹیاں۔
حال ہی میں سپین میں بھی ایک نیا تجربہ ہوا جس میں حکومت نے رضا کار کمپنیوں کے ساتھ تین دن کی چھٹی کے نتائج دیکھے۔ اہم بات یہ تھی کہ اس تجربے کے دوران عملے کو مکمل تنخواہ دی گئی۔
اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے ایسے ہی ایک پراجیکٹ کے مینیجر ہیکٹر ٹیجیرو نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ 'وہ کمپنیاں جہاں کام کرنے کے اوقات کار کم ہوتے ہیں وہاں زیادہ باصلاحیت لوگ جانا چاہتے ہیں کیونکہ ملازمین بہتر سہولیات کے خواہشمند ہوتے ہیں۔'
ٹیجیرو نے بتایا کہ سپین کی سافٹ وئیر کمپنی ڈیل سول نے چار دن کے ہفتہ وار کام کا سلسلہ شروع کیا اور انھوں نے بتایا کہ ان کے دفتر میں عملے کی جانب سے بغیر بتائے چھٹی کرنے کی شرح میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔
میڈریڈ کے ریستوران لا فرانکا چیلا نے جو کیا اس نے بھی سب کو حیران کر دیا۔ انھوں نے ناصرف اپنے عملے کے لیے چار دن کا ہفتہ کر دیا، بلکہ سب کی تنخواہ بھی پہلے والی ہی برقرار رکھی۔ کئی ماہ تک اسی حساب سے کام کرنے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ لوگوں میں بہتر کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ ایسے ہی تجربات سویڈن میں بھی ہو چکے ہیں جہاں کام سے جڑے ذہنی تناؤ کی وجہ سے اس بات پر غور کیا جاتا رہا ہے کہ پیداوار کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کو بہتر کیسے بنایا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چھٹی کا فائدہ سب کو نہیں ہوتا
جہاں ایک جانب چھٹی اور سماجی زندگی میں بہتری پر بحث کی جاتی ہے وہیں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سمجھتا ہے کہ ہفتے میں صرف چار دن کام کرنا ہر کسی کے لیے فائدہ مند نہیں۔
یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی میں مزدوروں کی تاریخ پڑھانے والے پروفیسر فلپ ریک نے خبردار کیا ہے کہ ہفتے میں چار دن کام کرنا اس بات کی نشاندہی ہو سکتی ہے کہ کام میں ایسی رعایت کا فائدہ صرف پیشہ وارنہ ملازمین کو پہنچ سکتا ہے۔
بہت سے لوگ جن کی ملازمت کی صورتحال اچھی نہیں ہے، جن کی اجرت کم یا پھر ریٹائرمنٹ کے محدود پیسے ان کو پریشان کرتے ہیں اور رضاکارانہ کام ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
فلپ کہتے ہیں کہ فراغت کا وقت ان کے لیے ایک دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں ہے کیونکہ وہ بے تابی سے اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے کسی اور کام کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
ریک کا کہنا ہے کہ اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ ان کی تجویز کے مطابق 'اگر ہم بحیثیت معاشرہ یہ تسلیم کرلیں کہ 40 گھنٹوں کے بجائے ہفتے میں 28 گھنٹے کام کرنا زیادہ مناسب ہے جس کے بدلے مناسب آمدن بھی ہوسکے۔'
ان کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم دن کام کرنے کی بحث میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ دنیا بھر میں سب کے لیے ایک مناسب آمدن ممکن ہوسکے یا کام کے وقت کم ہونے سے تنخواہ میں کسی قسم کی کوئی کٹوتی نہ ہو۔








