کورونا وائرس کی وبا کے بعد کیا لوگ دفاتر آنا پسند کریں گے؟

دفاتر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلوگ گھروں سے ہی کام کرنا نہیں چاہتے

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث بڑی تعداد میں لوگ دفاتر کے بجائے گھروں سے کام کر رہے ہیں۔ تاہم اب اتنے زیادہ عرصے تک گھروں سے کام کرنے کی وجہ سے اکثر لوگ یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ ایسا کب تک چلے گا۔

برطانیہ میں ایک بڑے دفتر اور 'ریٹیل کمپلیکس' کے مالک نے کہا ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے دفتری ملازمین گھروں پر رہ کر کام کرنے سے تھک گئے ہیں اور اب وہ دفتر واپس آنے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔

کنیری وارف گروپ کے حکمت عملی بنانے کے سربراہ ہاورڈ ڈابر کا کہنا ہے کہ لوگ اب بھی دفتری اوقات اور گھریلو اوقات کو الگ الگ رکھنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ ملازمین اپنے دفاتر اور شہر کے مرکزی حصے کی گھما گھمی کو یاد کر رہے ہیں۔

لندن کے کنیری وارف کے فائنینشل کمپلیکس کے علاقے میں جہاں کئی بڑے بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے کثیر المنزلہ عمارتوں میں دفاتر ہیں وہاں اس وقت صرف چھ ہزار افراد کام کر رہے ہیں جب کہ کووڈ وبا کے باعث عائد کردہ پابندیوں سے پہلے اس علاقے میں ایک لاکھ ملازمین کام کرتے تھے۔

لیکن ڈابر نے بی بی سی کے ٹو ڈے پروگرام میں کہا کہ دفاتر سے اتنے عرصے تک دور رہنے کی وجہ سے لوگ اب اپنے کام پر لوٹنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم ایسے مرحلے پر پہنچ گئے ہیں جہاں لوگ تھک چکے ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ گھروں پر رہ کر کام کرنا گزشتہ سال کے چند ماہ میں جب موسم گرم تھا اور خوب دھوپ نکلتی تھی لوگوں کو پرسکون ماحول میں کام کرنے میں مزہ آ رہا تھا اور یہ احساس بھی اپنی جگہ موجود تھا کہ یہ معمولات چند مہینوں کے لیے ہیں۔

لندن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلندن کے کنیری وارف کے علاقے میں جہاں ایک لاکھ افراد کام کرتے تھے اب صرف چھ ہزار آ رہے ہیں

'میرے خیال میں لوگ اب دفتروں میں ساتھی ملازمین سے ملنے، بال کٹوانے کے لیے جانے، کھانے کے وقفے میں کسی اچھی جگہ جا کر کافی پینے اور وہ ساری باتیں یاد کر رہے ہیں جو وہ سٹی سینٹر میں جا کر کیا کرتے تھے۔'

برطانیہ میں حکومت کی طرف سے کروونا وائرس سے احتیاط کے لیے جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں ان کو مرحلہ وار ہٹانے کے لیے جو طریقہ کار طے کیا ہے اس میں یہ تجویز دی گئی ہے جہاں تک ممکن ہو لوگ اپنے گھروں سے ہی کام کریں اور جون کی اکیس تاریخ سے سماجی سرگرمیوں سے تمام قانونی پابندیاں ہٹا لی جائیں۔

ڈابر کو توقع ہے کہ کرینی وارف کے خالی دفاتر کی رونقیں بتدریج اسی سطح پر آ جائیں گی جس پر وہ کووڈ کی وبا کے آنے سے پہلے تھیں لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ گھروں پر رہ کر ہی کام کرنا پسند کریں یا ہفتے میں کچھ دن گھر سے کام کرنے کو ترجیح دیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں لوگوں کے لیے شاید یہ بات زیادہ قابل قبول ہو کہ وہ کبھی کبھی گھروں سے ہی کام کرنا پسند کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کنیری وارف میں کام کرنے والوں کے دفاتر میں ان کی میزیں تو رہیں گی لیکن کچھ لوگ ہفتے میں ایک دن یا دو تین دن گھر سے ہی کام کرنا پسند کریں۔

کچھ کمپنیوں کا خیال ہے کہ کورونا وائرس کی پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد بھی وہ اپنے ملازمین سے گھر پر رہ کر ہی کام کروانا چاہیں گی۔

لائڈز بینکنگ گروپ اپنے دفاتر کا 20 فیصہ اگلے دو برس میں گھٹانا چاہے گا۔ یہ فیصلہ سٹاف کے ایک سروے کے بعد کیا گیا ہے جس میں 80 فیصد ملازمین نے کہا کہ وہ ہر ہفتے کم از کم تین دن گھر پر رہ کر ہی کام کرنا پسند کریں گے۔

لیکن گولڈ مین سیکس جیسی کچھ بڑی کمپنیاں دفاتر سے دور رہ کر کام کرنے کے خیال کو رد کرتی ہیں۔ اس کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹیو ڈویڈ سولومن اسے ایک عارضی چیز قرار دیتے ہیں۔

گزشتہ ماہ بارکلے بینک کے چیف ایگزیکیٹو جس سٹیلے نے کہا کہ گھروں سے کام زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔