برازیل کے ایمازون جنگلات: وہ الگ تھلگ قبیلہ جو صرف تین افراد باقی بچنے کی وجہ سے خاتمے کے قریب ہے

،تصویر کا ذریعہBruno Jorge
- مصنف, فرنینڈو دوئرتے
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
’مجھے اُن کی فکر ہے۔ وہ مارے جائیں گے اور ہم باقی نہیں رہیں گے۔‘
جب ریتا پیریپکورا کیمرے کے سامنے بات کر رہی تھیں تو اُن کی آواز میں مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔
یہ عمر رسیدہ خاتون اپنے بھائی بیتا اور اپنے بھتیجے تماندوا کے بارے میں ستمبر میں جاری ہونے والے ایک ریکارڈڈ انٹرویو میں بات کر رہی تھیں۔
یہ لوگ وسطی برازیل کے ایک مقامی اور الگ تھلگ پیریپکورا قبیلے کے آخری تین افراد ہیں۔ ماہرین کے مطابق درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور ان کی زمینوں پر قبضے کے باعث یہ ’یقینی خاتمے‘ کے قریب ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBruno Jorge
ریتا تو باہر کے لوگوں سے باقاعدہ تعلق میں رہتی ہیں مگر بیتا اور تماندوا ایمازون کی تنہائیوں میں گھومتے ہوئے اپنے دن گزارتے ہیں۔ ریتا کو خوف ہے کہ یہ سادہ سی تفریح بھی ان کے لیے ہلاکت خیز ہو سکتی ہے۔
برازیل میں زرعی کاروبار کے لیے اہم خطے ریاست ماتو گروسو میں موجود پیریپکورا ریزرو اب غیر قانونی کٹائی کرنے والوں اور کسانوں کے خلاف اپنی جنگ ہار رہا ہے جو ان کے علاقے پر قابض ہو رہے ہیں، حالانکہ اسے قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
پیریپکورا علاقے میں ایک نسل سے بیرونی لوگوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہے مگر حالیہ عرصے میں تباہی کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔ نومبر کے اوائل میں جنگلات کی کٹائی کے تصویری شواہد کی حامل ایک رپورٹ کو بنیاد بنا کر غیر سرکاری تنظیموں کے ایک نیٹ ورک نے دعویٰ کیا کہ صرف اگست 2020 سے جولائی 2021 تک پیریپکورا خطے میں 24 مربع کلومیٹر جنگلات کا صفایا کر دیا گیا ہے۔
یہ رقبہ فٹ بال کے تین ہزار میدانوں کے برابر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برازیل کے دوسرے حصوں میں بھی مقامی قبائل کو لکڑی کاٹنے والوں، کسانوں اور کان کُنوں سے خطرہ ہے، مگر پیریپکورا لوگوں کو بالخصوص مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSurvival International
مقامی لوگوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم سروائیول انٹرنیشنل کی سارہ شینکر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ لوگ خاتمے کے کنارے پر کھڑے ہیں اور کچھ دن میں ختم ہو سکتے ہیں۔ حملہ آور بیتا اور تماندوا کے روز بروز قریب آتے جا رہے ہیں۔‘
برازیل میں مقامی قبائل کے اُمور کے نگران ادارے فونائی کے سابق کوآرڈینیٹر لیونارڈو لینن کہتے ہیں کہ اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ بیرونی افراد تیزی سے اس محفوظ علاقے پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں۔ لیونارڈو نے ماتو گروسو کے علاقے میں قبائل کے ساتھ کافی عرصے تک کام کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRogerio de Assis - ISA
اب رپورٹ لکھنے والی تنظیموں میں سے ایک آبزرویٹری آف انڈیجینس ہیومن رائٹس (او پی آئی) نامی غیر سرکاری تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ جنگلات کا کٹاؤ اُن جگہوں کے پانچ کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے جہاں بیتا اور تماندوا کو آخری مرتبہ دیکھا گیا تھا یا جہاں اُنھوں نے اپنی موجودگی کے ثبوت چھوڑے تھے۔
یہ سننے میں محفوظ فاصلہ لگ سکتا ہے مگر اس علاقے کا حجم 2430 کلومیٹر ہے جس کے تناظر میں یہ واقعی بہت قریب ہے۔

لینن کہتے ہیں کہ ’وہ سخت خطرے میں ہیں، اس حوالے سے کوئی شک نہیں ہے۔‘
’ہم نے فونائی اور برازیل کے محکمہ ماحولیات کے انسپکٹرز کی رپورٹس بھی دیکھی ہیں کہ ان لوگوں کو حملہ آوروں سے خطرہ ہے۔‘
الگ تھلگ قبیلوں کی دہائی
پیریپکورا افراد اُن لوگوں میں شامل ہیں جنھیں مقامی قبائل کے ماہرین الگ تھلگ اور کٹے ہوئے کہتے ہیں۔ یہ وہ گروہ ہوتے ہیں جن کا اپنے پڑوسیوں یا بیرونی دنیا میں کسی سے بھی معمول کا میل جول نہیں ہوتا۔

،تصویر کا ذریعہRicardo Stuckert
ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں ایسے 100 سے زائد گروہ موجود ہیں اور ان میں سے نصف سے زیادہ ایمازون خطے میں ہیں۔
یہ علیحدگی بیرونی حملہ آوروں سے تصادم کی وجہ سے ہوتی ہے اور پیریپکورا لوگوں نے بھی یہ مشکل دور دیکھا ہے۔
ستّر کی دہائی میں اس قبیلے کے کئی ارکان مارے گئے۔ ہلاکتوں کی وجہ بیرونی حملہ آوروں کے ہاتھوں قل اور یہاں تک کہ عام بیماریاں مثلاً نزلہ وغیرہ تھیں جن کے خلاف مقامی لوگوں کی قوتِ مدافعت موجود نہیں تھی کیونکہ ان لوگوں نے کبھی ان وائرسز کا سامنا کیا ہی نہیں تھا۔
ریتا کو ایسا ہی ایک قتلِ عام یاد ہے جس میں وہ تو بچ گئی تھیں لیکن اُن کے نو رشتے دار مارے گئے تھے۔
’اُنھوں (حملہ آوروں) نے اُنھیں مار دیا اور ہمیں بھاگنا پڑا۔‘
لینن بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کی تعداد گھٹانے کے علاوہ حملہ آوروں کی وجہ سے پیریپکورا لوگوں کے رہن سہن پر بھی شدید اثر پڑا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRicardo Stuckert
’ان لوگوں کی زبان میں زرعی طریقوں کے بارے میں الفاظ ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ماضی میں کسی وقت زرعی معاشرہ ہوتا تھا مگر 70 کی دہائی سے یہ لوگ خانہ بدوش ہو گئے ہیں اور شکار کر کے یا چُن کر اپنی غذا حاصل کرتے ہیں۔ ہمیشہ چلتے رہنا ان کا اپنے بچاؤ کا طریقہ ہے۔‘
جب فونائی نے 1984 میں پہلی مرتبہ پیریپکورا لوگوں سے رابطہ قائم کیا تھا، تب کارکنوں نے پایا کہ پورے علاقے میں صرف 15 سے 20 افراد رہ رہے تھے۔ مگر اب نوّے کی دہائی سے صرف بیتا اور تماندوا ہی نظر آتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کٹے ہوئے مقامی قبائل کے ماہر فیبریسیو ایموریم نے بھی پیریپکورا لوگوں کے ساتھ کام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بیتا اور تماندوا نے گذشتہ رابطوں میں اب بھی اپنے ’رشتے داروں‘ کے وجود کا بتایا تھا جو اُن کے مطابق جنگلوں میں گھوم رہے تھے۔
ایموریم کہتے ہیں کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ اب کئی برس سے اُنھوں نے اپنے ان رشتے داروں کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مر چکے ہیں مگر یہ اچھی علامت بھی نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’چونکہ ہم یقینی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مزید پیریپکورا افراد نہیں رہے ہیں، اس لیے ان کی زمین کو محفوظ رکھنا اور بھی زیادہ اہم ہو چکا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہRogerio de Assis - ISA
ایک مخالف صدر
مقامی قبائل کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے پیریپکورا ریزرو کی تباہی میں تیزی کا ذمہ دار بالخصوص برازیل کے صدر ژائر بولسونارو کو ٹھہرایا ہے۔
سنہ 2019 میں صدر بننے سے پہلے بھی بولسونارو نے ایمازون کے تجارتی استحصال میں اضافے کی حمایت کی تھی اور مقامی قبائل کے زمینوں پر حقوق کو دیے گئے آئینی تحفظ کے باوجود محفوظ علاقوں کی پالیسی کی مخالفت کی تھی۔
سنہ 1998 میں جب وہ رکنِ پارلیمان تھے، تب اُنھوں نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’شرمناک‘ ہے کہ برازیلی فوج ’مقامی قبائل کے خاتمے میں‘ امریکی فوج ’جتنی مؤثر نہیں۔‘
صدر کا مؤقف ہے کہ مقامی قبائل جو (ادارہ قومی شماریات برازیل کے مطابق) ملک کی 21 کروڑ 30 لاکھ آبادی میں 11 لاکھ سے کچھ زیادہ ہیں، اُنھیں ملک کی تقریباً 13 فیصد زمین پر حقوق نہیں ہونے چاہییں، حالانکہ 1988 میں نافذ العمل ہونے والے برازیل کے موجودہ آئین کے تحت یہ مالکانہ حقوق دیے گئے ہیں۔
سنہ 1988 سے اب تک بولسونارو برازیل کے پہلے صدر ہیں جنھوں نے مقامی قبائل کی زمینوں کا تعین کرنے والے کسی ایک حکمنامے پر بھی دستخط نہیں کیے ہیں اور انسانی حقوق کے گروہوں نے صدر بولسونارو کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مقامی قبائل کے ساتھ تنازعے کے واقعات میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔
قانونی لڑائیاں
پیریپکورا ریزرو فی الوقت لینڈ پروٹیکشن آرڈر نامی ایک قانونی دستاویز کے تحت محفوظ ہے جو اُن قبائلی علاقوں کا احاطہ کرتی ہے جو اب تک سرکاری تعین کے طویل مرحلے سے نہیں گزرے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ قانونی حکمنامے ہر کچھ عرصے بعد دوبارہ جاری کیے جاتے ہیں مگر حالیہ ستمبر میں اس میں صرف چھ ماہ کی توسیع کی گئی جو کہ گذشتہ برسوں میں 18 ماہ سے تین سال تک کے لیے بھی رہی ہے۔
فیبریسیو ایموریم کا ماننا ہے کہ ’یہ اختصار غلط پیغام دیتا ہے اور اس سے حملہ آوروں کو اُمید ملتی ہے کہ وہ دیر کے بجائے جلد ہی مقامی قبائل کی زمینیں ہتھیا لیں گے۔‘
ایک اور پریشان کُن پیش رفت دسمبر 2020 میں ہوئی جب ایک سرکاری ادارے برازیلیئن جیولوجیکل سروس نے برازیل میں زیرِ زمین معدنی وسائل (مثلاً سونے) کے ذخائر کی ممکنہ جگہوں کے تفصیلی نقشے شائع کرنے شروع کیے۔
ان نقشوں کے پہلے سیٹ میں شمالی خطے ماتو گروسو پر خصوصی توجہ دی گئی جہاں پیریپکورا علاقہ موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہOPAN
اپنے ایک بیان میں فونائی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پیریپکورا کو ’زمین کے تحفظ، غذائی تحفظ اور طبی سہولیات تک رسائی کی صورت میں تمام معاونت‘ فراہم کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’اس علاقے میں لوگوں کی گھس آنے کو روکنے کے لیے مختلف ادارے مل کر کام کر رہے ہیں۔‘
مگر ریتا کا اصرار ہے کہ ایسا وعدہ اُن کے لوگوں کے مستقبل کا تحفظ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
ان دنوں وہ قریب ہی کریپونا قبیلے کے ایک رکن سے شادی کرنے کے بعد اس قبیلے کے محفوظ قرار دیے گئے علاقے میں رہتی ہیں۔ وہ اکثر ماتو گروسو میں فونائی کی مہمات میں مدد دیتی ہیں مگر وہ عالمی وبا کے آغاز سے اب تک پیریپکورا نہیں گئی ہیں اور اُنھیں خوف ہے کہ وہ جلد ہی اپنے قبیلے کی آخری فرد رہ جائیں گی۔
وہ کہتی ہیں: ’میں جب بھی وہاں جاتی ہوں، پہلے سے زیادہ گرے ہوئے درخت دیکھتی ہوں۔ وہاں بہت سے بیرونی لوگ ہیں۔‘
’وہ آسانی سے میرے بھائی اور بھتیجے کو مار سکتے ہیں۔‘










