بیٹی کے علاج کے لیے 1200 میل ننگے پاؤں پیدل چلنے والے برطانوی میجر

،تصویر کا ذریعہCHRIS BRANNIGAN
- مصنف, سیمی جینکنز
- عہدہ, رپورٹر، بی بی سی ویسٹ
'میں اتنا طویل فاصلہ پیدل چلنے سے زیادہ کسی مشکل چیز کا تصور نہیں کر سکتا۔ جب میں نے گذشتہ برس یہ کیا تھا تو میں نے تہیہ کیا تھا کہ میں ایسا دوبارہ کبھی نہیں کروں گا لیکن اب میں اپنے کمر پر 25 کلو کا وزن اٹھائے پانچ سو میل دوبارہ پیدل چلوں گا، اور یہ شاید گذشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو۔'
یہ کہنا تھا میجر کرس براننیگن کا جنھوں نے منگل کو مشرقی امریکی ریاست میں سے پیدل چلنا شروع کیا اور ان کا سفر 1200 میل کے فاصلے پر واقع جنوبی ریاست فلوریڈا جا کے ختم ہوگا۔
تو وہ یہ کٹھن سفر کر کیوں رہے ہیں؟
دو برس قبل میجر کرس براننیگن کی نو سالہ بیٹی ہستی کو ایک نادر قسم کی بیماری ہوئی جس میں ان کو شدید دورے پڑتے اور بہت زیادہ اضطرابی کیفیت ہوتی۔ اس بیماری کا نام کورنلیا ڈی لانگے سنڈروم ہے اور یہ ایک جینیاتی بیماری ہے۔

،تصویر کا ذریعہCHRIS BRANNIGAN
میجر کرس براننیگن نے گذشتہ برس بھی اسی طرح کا ایک سفر کیا تھا جب انھوں نے برطانیہ میں سات سو میل پیدل سفر کر کے پانچ لاکھ پاؤنڈ اکھٹے کیے تھے۔
’ہوپ فار ہستی‘ یعنی ہستی کے لیے امید نام کی مہم کا مقصد اس نادر بیماری کی تحقیق کے لیے فنڈز جمع کرنا ہے اور گذشتہ برس جمع ہونے والی رقم امریکی ریاست مین میں واقع جیکسن لیباریٹری کو عطیہ دی گئی جہاں اس بیماری پر ریسرچ کی جاتی ہے۔
میجر کرس براننیگن اور ان کی اہلیہ ہینگامے کو بتایا گیا تھا کہ ان کی بیٹی کی صحت بلوغت کی عمر تک پہنچتے پہنچتے مزید خراب ہو جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہCHRIS BRANNIGAN
’جب میں ہستی کو دیکھتا ہوں تو میں ایک زبردست بچی کو دیکھتا ہوں۔ مجھے کبھی کبھار اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اس کی مشکلات کیا کیا ہیں لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ بلوغت کے بعد اس کی بیماری مزید بڑھ جائے گی۔ وہ دسمبر میں دس برس کی ہو جائے گی اور ہمارے پاس بہت کم وقت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیئے
انگلینڈ میں ٹڈورتھ بیرکس میں متعین فوجی افسر نے مزید کہا کہ ان کی بیٹی اور کورنلیا ڈی لانگے سنڈروم سے متاثرہ دیگر بچوں کے علاج میں تحقیق کا عمل اور علاج بہت عمدہ طریقے سے جاری ہے۔
’ہم جانتے ہیں کہ یہ طریقہ علاج محفوظ ہے اور ہمیں امید ہے کہ اگلے سال کے اوائل میں جینیاتی تھیراپی تیار ہو جائے گی جو اس بیماری کا موثر علاج ہو سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کو یہ علاج دینے میں اور اس کے تجربے میں لاکھوں، کروڑوں پاؤنڈز درکار ہیں اور ہمارے پاس اتنی رقم نہیں ہے تو اسی لیے ہم فنڈز جمع کر رہے ہیں اور ہمارے پاس رقم جمع کرنے کا بس یہی ایک طریقہ ہے۔‘
میجر کرس براننیگن نے کہا کہ ان کا ہدف 25 لاکھ پاؤنڈ ہے اور اب تک وہ نو لاکھ پاؤنڈ جمع کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہCHRIS BRANNIGAN
وہ کہتے ہیں کہ ان کے دونوں لڑکے ان کے اس سفر کی تیاری میں بہت مدد کر رہے ہیں اور ان کی بیٹی ہستی نے اپنا ایک کھلونا ان کو دیا ہے تاکہ اسے سفر میں ساتھ لے جا سکیں۔
میجر کرس نے بتایا کہ گذشتہ سال سفر کے دوران انھیں احساس ہوا کہ لوگ کتنی ’مدد کرنے کے لیے تیار ہیں اور کتنے سخی ہیں۔‘
'ہم لوگ ہر وقت اسی پریشانی میں گھرے رہتے ہیں کہ کیا ہم اتنی رقم جمع کر پائیں گے یا نہیں جس کی مدد سے اس کا علاج ہو سکے۔‘










