کورونا وائرس: بیوی سے لڑائی کے بعد اطالوی شخص 450 کلومیٹر تک پیدل چلتا رہا

Man walking alone at night, file pic

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اٹلی میں ایک شخص اپنی بیوی سے لڑائی کے بعد غصہ ڈھنڈا کرنے کے لیے اپنے گھر سے باہر نکالا اور پیدل چلنے لگا۔ مگر چلتے چلتے اس نے 450 کلومیٹر کا سفر طے کر لیا!

سوشل میڈیا پر اس شخص کو صارفین فورسٹ گمپ کے نام سے پکارنے لگے ہیں۔ 1994 میں اسی نام کی ہالی وڈ کی ایک فلم میں مرکزی کردار تھوڑا بیوقوف تھا اور وہ امریکہ میں کئی ہزاروں میل تک دوڑتا رہا تھا۔ اس فلم میں یہ کردار اداکار ٹام ہینکس نے ادا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس نے اس شخص کو ایڈریٹک کوسٹ کے قریب فانو کے قصبے میں رات دو بجے چلتے ہوئے پایا۔ جس وقت پولیس نے انھیں روکا تو انھیں ملک کے شمال میں واقع کومو قصبے میں اپنے گھر سے نکلے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔

اس 48 سالہ شخص پر پولیس نے کورونا وائرس کے حوالے سے لگائے گئے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر 400 یورو کا جرمانہ عائد کر دیا۔

یہ کہانی ایک اطالوی اخبار ریستو دل کارلینو میں شائع ہوئی تھی تاہم پھر یہ اطالوی میڈیا میں بہت مقبول ہوگئی۔

سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس شخص کو بطور ایک ہیرو دیکھا جانا چاہیے اور انھوں نے اس جرمانہ پر تنقید کی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں انعام دیا جانا چاہیے اور جوتوں کا ایک نیا جوڑا بھی دیا جانا چاہیے۔ کچھ لوگ اس بات کی تعریف کر رہے ہیں کہ غصہ ختم کرنے کے لیے اس نے مار پیٹ کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دی۔

اس شخص نے پولیس کو بتایا کہ ’میں یہاں پیدل آیا ہوں۔ میں نے کوئی سواری استعمال نہیں کی۔ راستے میں جن لوگوں سے ملا وہ کھانا دے دیتے تھے۔ میں ٹھیک ہوں بس تھوڑا تھکا ہوا ہوں۔‘ اس شخص نے اوسطً روز 60 کلومیٹر کا سفر کیا۔

پولیس کو وہ ایک ساحلی ہائی وے پر ملا تھا جہاں وہ بظاہر بغیر کسی منزل کے ایک سرد رات میں چلے جا رہا تھا۔

اس کا شناختی کارڈ چیک کرنے پر پتا چلا کہ اس کی بیوی نے اسے لاپتہ رپورٹ کیا تھا۔ جس پولیس نے اس سے رابطہ کیا تو وہ فانو اسے لینے کے لیے آ گئی۔

اطالوی میڈیا کی رپورٹس میں یہ بات نہیں بتائی گئی کہ اس کی بیوی کا اس بات پر کیا ردعمل تھا کہ اس پر 400 یورو کا جرمانہ کر دیا گیا ہے۔

Map
1px transparent line