عالمی وبا کے دور میں دوسرے حج کی تصویری جھلکیاں

Muslim pilgrims perform Tawaf around Kaaba in the Grand Mosque in the holy city of Mecca,

،تصویر کا ذریعہReuters

کورونا وائرس کی وبا کے آغاز کے بعد سے منعقد ہونے والے دوسرے حج کے لیے حاجیوں نے سنیچر کے روز سے مکہ پہنچنا شروع کر دیا ہے۔

اسلام کے مقدس ترین مقام پر پہنچنے والے حاجیوں سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور ماسکس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس سال حاجیوں کی تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں تو زیادہ ہے لیکن عام دنوں میں ہونے والے حج سے خاصی محدود ہے۔

اس سال بھی حج صرف سعودی عرب کے رہائشیوں کے لیے محدود کیا گیا ہے اور ویکسین لگوانے والے پانچ لاکھ 50 ہزار امیدواروں میں سے 60 ہزار شہریوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

اس فہرست میں داخلے کے لیے جن شرائط پر عمل کرنا ضروری تھا ان میں شہریوں کی عمر 18 سے 65 سال کے درمیان ہونا، ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانا اور وہ کسی بھی دائمی مرض میں مبتلا نہ ہوں۔

جن افراد کو اس مرتبہ حج کرنے کی اجازت ملی ہے ان کی مکہ جانے سے قبل تصاویر اتاری گئی تھی جب وہ مسجد حرام جانے کے لیے سرکاری ٹرانسپورٹ کا انتظار کر رہے تھے۔

Muslims arrive at Al-Zaidi station to be taken to the Grand Mosque, ahead of the annual Haj pilgrimage, in the holy city of Mecca, Saudi Arabia

،تصویر کا ذریعہReuters

Muslims arrive to be taken to the Grand Mosque, ahead of the annual Haj pilgrimage, in the holy city of Mecca

،تصویر کا ذریعہReuters

حاجی مسجد حرام پہنچ کر سات مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔

حاجی اس کے بعد پانچ روز کے لیے دیگر مناسک حج مکمل کرنے کے لیے قریبی مقدس مقامات جائیں گے۔

حج دنیا کی سب بڑے مذہبی اجتماعات میں سے ایک ہے جس میں سنہ 2019 میں تقریباً 25 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔

Pilgrims holding umrellas to protect themselves from the heat, arrive at the Kaaba, Islam's holiest shrine, at the Grand mosque in the holy city of Meccca

،تصویر کا ذریعہAFP

Muslim pilgrims perform Tawaf around Kaaba in the Grand Mosque in the holy city of Mecca, Saudi Arabia

،تصویر کا ذریعہReuters

حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور اسے استطاعت رکھنے والے مسلمانوں کے لیے کم از کم زندگی میں ایک مرتبہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ملک کی وزارتِ حج کے مطابق عوامی وبا کے باعث اس سال حج حفظانِ صحت کے اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے منعقد ہو رہا ہے۔

ہر تین گھنٹے بعد چھ ہزار افراد کو طواف کے اجازت دی جائے گی اور ایک گروپ کے جانے کے بعد اس جگہ کی صفائی بھی کی جائے گی۔

A Muslim pilgrim prays in the Grand Mosque in the holy city of Mecca, Saudi Arabia

،تصویر کا ذریعہReuters

Pilgrims arrive at the Kaaba, Islam's holiest shrine, at the Grand mosque in the holy city of Meccca

،تصویر کا ذریعہAFP

حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ حاجیوں کو 20 افراد کی گروپس میں بانٹا گیا تھا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے علیحدہ راستے بنائے گئے تھے۔

اندازے کے مطابق گذشتہ برس جولائی میں ہونے والے حج میں 10 ہزار سعودی شہریوں نے شرکت کی تھی اور وبا کے پھیلاؤ سے متعلق اطلاعات موصول نہیں ہوئی تھیں۔

سعودی عرب میں اب تک پانچ لاکھ کورونا وائرس کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور آٹھ ہزار افراد اس وبا کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ اب تک ملک میں دو کروڑ 15 لاکھ ویکسینز لگائی جا چکی ہیں تاہم آور ورلڈ ان ڈیٹا کے مطابق اب تک ملک کی صرف 10 فیصد آبادی کو ویکسین کی دونوں خوراکیں دی گئی ہیں۔

Pilgrims arrive to attend the Hajj season in the holy Saudi city of Mecca

،تصویر کا ذریعہAFP

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

.