ایمازون جنگلات: سونے کے متلاشی افراد گھنے جنگلوں پر نظریں کیوں جمائے بیٹھے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہChristian Braga/Greenpeace
- مصنف, ہیوگو باچیگا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
11 مئی کی دوپہر داریو کوپیناوا کو ایک فون کال موصول ہوئی۔ فون کرنے والا شخص بے حد پریشان تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ ’انھوں نے ہم پر حملہ کر دیا ہے۔ ہم مرتے مرتے بچے ہیں۔‘
داریو برازیل میں ایمازون کے جنگلات میں واقع ایک دور دراز کے گاؤں کے مقامی رہنما ہیں۔ اُس گاؤں میں تقریباً ایک ہزار افراد رہائش پذیر ہیں۔ یہ گاؤں اتنا دور دراز ہے کہ یہاں تک پہنچنے کے لیے چھوٹی کشتیوں پر طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ جہاز کے ذریعے بھی یہاں پہنچا جا سکتا ہے۔
داریو کا تعلق مقامی ’یانومامی‘ قبیلے سے ہے۔ اُن کو اکثر و بیشتر ایمازون کے بارانی جنگلات میں بسنے والے مختلف قبائل کے افراد کی جانب سے اس طرح کی پریشان کن کالیں موصول ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ کال ذرا مختلف تھی۔
فون کرنے والے نے داریو کو بتایا کہ حملہ آور ’گارمپیروس‘ تھے، یعنی غیر قانونی طور پر سونے کی کھوج لگانے والے افراد جو سات موٹر بوٹس پر خود کار اسلحہ لیے پہنچے تھے اور گاؤں پہنچتے ہی انھوں نے مقامی افراد کو خوفزدہ کرنے کے لیے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
داریو کو فون کرنے والے شخص کا تعلق بھی یانومامی قبیلے سے تھا۔ انھوں نے داریو کو مزید بتایا کہ قبائلی لوگوں نے اپنی بندوقوں اور تیر کمان سے حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ اس کارروائی کے دوران ایک مقامی شخص کے سر کو گولی چھو کر گزر گئی جبکہ افراد زخمی ہو گئے۔
حملہ آور آدھے گھنٹے کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے لیکن جاتے ہوئے انھوں نے دھمکی دی کہ وہ بدلہ لینے دوبارہ واپس آئیں گے۔
حملہ آوروں سے خوفزدہ ہو کر قبیلے کی خواتین اپنے بچوں کے ساتھ گھنے جنگلات میں پناہ لینے کے لیے بھاگ نکلیں اور اس دوران وہاں اتنی افرا تفری مچی کہ دو بچے، جن کی عمریں پانچ برس اور ایک برس تھیں، ڈوب گئے۔

،تصویر کا ذریعہChristian Braga/Greenpeace
پالیمیو کے انڈیجینیس علاقے کا رقبہ پرتگال کے جتنا ہے مگر اس علاقے میں بسنے والوں کی تعداد صرف 27 ہزار ہے۔ اس علاقے میں کان کنی کرنا غیر قانونی ہے لیکن کرنے والے پھر بھی کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
داریو بتاتے ہیں کہ غیر قانونی طور پر سونے کی کھوج لگانے والے وہاں ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں اور یہ کہ وہ خود ان علاقوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انھیں قتل کیے جانے کی دھمکی ملی ہوئی ہے لیکن اس واقعے کے بعد انھوں نے حکام سے رابطہ کیا تاکہ اس حوالے سے کچھ مؤثر اقدامات اٹھائے جا سکیں۔

اگلے دن وفاقی پولیس کی ایک ٹیم پالیمیو کے علاقے آئی جہاں ان کے ساتھ جونئیر ہیکوکاری نے ملاقات کی جو مقامی انڈیجینیس صحت کونسل کے سربراہ ہیں۔ جب یہ لوگ علاقے سے جا رہے تھے تو جونئیر ہیکوکاری نے قریب چند کشتیوں کو دیکھا جن کے انجن بند تھے، جس سے انھوں نے اندازہ لگایا کہ یہ کشتیاں خود کو عام افراد کی نظروں سے بچا کر گزرنا چاہتی ہیں۔۔
لیکن ان کشتیوں میں سوار لوگ جیسے جیسے قریب آتے گئے، انھوں نے دوبارہ گاؤں والوں پر فائرنگ شروع کر دی۔
ہیکوکاری کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ پولیس کی ٹیم نے خود کو متعارف کرانے کے لیے پولیس پولیس کے نعرے لگائے لیکن حملہ آور نہیں رکے اور بغیر پروا کیے فائرنگ کرتے رہے۔
جواب میں پولیس ٹیم نے بھی فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آوروں کا گروہ کچھ منٹ کے بعد وہاں سے چلا گیا اور فائرنگ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں آئی۔
جب ہیکوکاری نے داریو کو اس واقعے کے بارے میں بتایا تو وہ سکتے میں آ گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حملہ آور نے پولیس والوں پر بھی حملہ کر دیا تو پھر ان کے قبیلے کے لوگ تو بالکل بھی محفوظ نہیں ہیں۔
ایمازون جنگلات کے ان علاقوں میں سونے کے متلاشی افراد کی مداخلت برازیلین صدر جیئر بولسونارو کے دور میں کافی بڑھ گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہChristian Braga/Greenpeace
دائیں بازو کی خیالات رکھنے والے برازیلین صدر کا ارادہ ہے کہ وہ جنگلات کے ان علاقوں میں سے کچھ حصے میں کان کنی اور زراعت کی اجازت دے دیں۔
برازیل کے تحقیقی ادارے آئی ایس اے کا اندازہ ہے کہ ان علاقوں میں یانومامی قبیلے کے کم از کم 20 ہزار افراد رہائش پزیر ہیں اور ہیکوکاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حملہ آور اس لیے اتنے دھڑلے سے یہ سب کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انھیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔‘
الیسن ماروگل برازیلین صوبے رورائما میں وفاقی پراسکیوٹر ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کان کنوں کو اس لیے زیادہ ہمت ہوتی ہے کیونکہ سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری جانب کورونا وائرس کی وبا کے باعث حکومت کی انڈیجینیس لوگوں کے اُمور سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے محکمے ’فونائی‘ کا کام محدود ہو گیا تھا۔
الیسن کہتے ہیں ’غیر قانونی کان کنوں نے نہ خود کو آئسولیٹ کیا اور نہ سماجی فاصلوں کا خیال کیا، بلکہ انھوں نے اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا۔‘
ایمازون دنیا کے سب سے بڑے بارانی جنگلات ہیں اور بڑھتی ہوئی عالمی حدت کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
لیکن برازیلین صدر بولسونارو، جو ماحولیاتی تبدیلی پر زیادہ یقین نہیں رکھتے اور انھیں ملک میں زراعت کے شعبے سے منسلک کاروباری افراد کی حمایت بھی ہے، سمجھتے ہیں کہ یہ تمام علاقے وہاں رہنے والی آبادی کے مقابلے میں حجم میں بہت بڑے ہیں اور اس علاقوں میں بسنے والے لوگ ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔
صدر بولسونارو کے اپنے والد خود ایک گارمپیرو تھے اور صدر یانومامی قبیلے کے علاقے کے بڑے ناقد ہیں۔
داریو کوپیناوا انڈیجینیس لوگوں کی ایک تنظیم ’ہوتاکارا‘ چلاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ صدر بولسونارو گارمپیروس کی حمایت کرتے ہیں اور انھیں یانومامی کے تحفظ کی کوئی پروا نہیں ہے۔
’ہمارے علاقے کو پامال کیا جا رہا ہے اور ہماری مدد کرنے کی درخواست پر کوئی دھیان نہیں دے رہا ہے۔‘
برازیلین کانگریس میں بولسونارو کی حکومت ایک ایسے ایجنڈے کی حمایت کر رہی ہے جس کے بارے میں ان کا مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ ایمازون کی بقا کے لیے خطرہ ہے اور وہاں رہنے والوں کے لیے خطرہ ہے۔
پراسکیوٹر ماروگل کہتے ہیں کہ غیر قانونی کان کنوں کو شہہ ملی ہے اس بیانیے سے جو ان کی حرکتوں کو جائز بناتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہChristian Braga/Greenpeace

داریو کوپیناوا کے والد ڈیوڈ کوپیناوا خود بھی بڑے رہنما تھے جن کی کاوشوں سے یانومامی کے علاقے کو باضابطہ حیثیت دی گئی تھی۔
انھیں ’بارانی جنگلات کا دلائی لاما‘ بھی کہا جاتا ہے اور انھوں نے مجھے سات برس قبل کہا تھا کہ ’سفید فام مرد جن کے پاس بہت پیسے ہوں، ان کی ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی۔ وہ اور تباہی پھیلانا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی روایت ہے اور اس کی کوئی حد نہیں۔‘
گذشتہ برس ہونے والی غیر قانونی کان کنی کی وجہ سے یانومامی علاقے کا اتنا بڑا حصہ تباہ ہو گیا تھا جو پانچ سو فٹبال میدانوں کے برابر تھا اور ممکنہ طور پر اس سال اور زیادہ تباہی ہو سکتی ہے۔
گارمپیروس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اس علاقے کے دریا کے پانی کو آلودہ کیا اور وہاں کی آبادی میں نہ صرف شراب نوشی اور منشیات کو متعارف کرایا بلکہ وہاں پر کووڈ کے پھیلاؤ کا بھی سبب بنے۔
لیکن اگر یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ کدھر ہیں تو انھیں ہٹایا کیوں نہیں جا رہا؟
اس کا جواب دیتے ہوئے فونائی کے ایک سابق افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کوئی سیاسی طور پر یہ کرنے کے لیے راضی ہی نہیں ہے۔ ان کاموں میں بڑے طاقتور لوگ ملوث ہیں اور وہ کسی کارروائی کو کرنے سے روک لیتے ہیں۔‘
اس افسر نے اپنی نوکری یہ بول کے چھوڑی تھی کہ ان سے اب ’مزید برداشت نہیں ہوتا۔‘
فونائی کے بجٹ میں بھی بتدریج کمی آتی گئی ہے اور ان کی جانب سے مارے گئے چھاپے اتنے کم ہو گئے ہیں کہ ان کا زیادہ اثر نہیں ہوتا اور گاریمپیروس جلد واپس آ جاتے ہیں۔
برازیل پارلیمان کی واحد انڈیجینیس رکن جوینیا واپیچانا کہتی ہیں کہ فونائی محکمہ کے سربراہی ایک ایسے پولیس افسر کے پاس ہے جس کے تعلقات زرعی بزنس سے منسلک ہیں۔
'فونائی پہلے انڈیجینیس لوگوں کی دوست ایجنسی تھی۔ اب وہ مقامی آبادی کے مطالبات کی مخالفت کرتی ہے۔'
فونائی نے ہمیں کہا کہ انٹرویو دینے کے لیے کوئی میسر نہیں ہے جبکہ صدر بولسونارو کے دفتر سے ہمارے سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے۔
یانومامی قبیلے کے لوگوں کو یقین ہے کہ مئی میں ہونے والا حملہ انتقامی کارروائی تھا کیونکہ انھوں نے گاریمپیروس کی کشتی سے سامان لے لیا تھا۔
داریو کوپیناوا کہتے ہیں کہ پولیس کی ٹیم کے دورے کے پانچ دن بعد رات کے وقت دوبارہ کچھ لوگ کشتیوں میں آئے اور فائرنگ شروع کر دی۔
کوپیناوا کہتے ہیں کہ اس میں آنسو گیس بھی شامل تھی اور مقامی لوگوں کے گلے اور آنکھیں جلنے لگیں۔
اس ہفتے کے شروع میں برازیل کی سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ان قبیلوں کو تحفظ دیں اور گاریمپیروس کو اس علاقے سے نکالیں۔
لیکن کوپیناوا کا کہنا ہے کہ یانومامی کے لوگ اب انتظار کرتے کرتے تھک گئے ہیں۔
’ہم مسلسل خطرے کا شکار ہیں۔ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔‘











