کلاڈیا اندوخر: فوٹوگرافر جنھوں نے اپنا فن برازیل کے مقامی یانومامی گروہ کے تحفظ کے لیے وقف کر دیا

پانچ دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے تک سوئس برازیلی فوٹوگرافر کلاڈیا اندوخر نے اپنی زندگی کا مقصد برازیل کے اصل مقامی باشندوں کے سب سے بڑے گروہ یانومامی کی فوٹوگرافی اور ان کی حفاظت کرنا بنا لیا ہے۔

یانومامی جنوبی وینیزویلا میں دریائے اورینوکو کے طاس میں اور شمالی برازیل کی رورائما ریاست میں کاتریمانی دریا کے آس پاس رہتے ہیں۔

یہ لوگ چھوٹے پیمانے پر زراعت کے لیے پودے اور درخت جلا کر زمین صاف کرتے ہیں، شکار کرتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے نیم مستقل دیہات میں رہتے ہیں۔

سوسی کوریہانا کی 1972 سے 1974 کے درمیان انفراریڈ فلم سے لی گئی تصویر

،تصویر کا ذریعہClaudia Andujar, courtesy Fondation Cartier.

،تصویر کا کیپشنسوسی کوریہانا کی 1972 سے 1974 کے درمیان انفراریڈ فلم سے لی گئی تصویر
Presentational white space
اجتماعی گھر 'ملوکا' کی 1976 میں دریائے کاتریمانی پر کیتھولک مشن کے قریب انفراریڈ فلم سے لی گئی تصویر

،تصویر کا ذریعہClaudia Andujar, courtesy Fondation Cartier.

،تصویر کا کیپشناجتماعی گھر 'ملوکا' کی 1976 میں دریائے کاتریمانی پر کیتھولک مشن کے قریب انفراریڈ فلم سے لی گئی تصویر
Presentational white space

اندوخر کی پیدائش 1931 میں سوئٹزرلینڈ میں ہوئی اور وہ رومانیہ کے علاقے ٹرانسلوینیا میں پلی بڑھیں۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران ہنگری سے تعلق رکھنے والے ان کے یہودی والد کو داخاؤ کے حراستی مرکز میں بھیج دیا گیا جہاں وہ اپنے زیادہ تر رشتے داروں کے ساتھ قتل کر دیے گئے۔

اندوخر اپنی والدہ کے ساتھ سوئٹزرلینڈ اور پھر امریکہ فرار ہوگئیں جس کے بعد وہ 1955 میں بالآخر برازیل میں سکونت پذیر ہوگئیں جہاں انھوں نے فوٹوجرنلسٹ کے طور پر اپنا کریئر شروع کیا۔

انتونیو کوریہانا 1972 سے 1976 کے درمیان لی گئی اس تصویر میں روایتی نشہ آور مادے 'یاکوانا' کے زیرِ اثر۔ یانومامی برادری کے شامان مقامی درخت ویرولا کے تنے سے نکالے جانے والے سفوف یاکوانا کا استعمال خواب کی سی کیفیت میں داخل ہونے کے لیے کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہClaudia Andujar, courtesy Fondation Cartier.

،تصویر کا کیپشنانتونیو کوریہانا 1972 سے 1976 کے درمیان لی گئی اس تصویر میں روایتی نشہ آور مادے 'یاکوانا' کے زیرِ اثر۔ یانومامی برادری کے شامان مقامی درخت ویرولا کے تنے سے نکالے جانے والے سفوف یاکوانا کا استعمال خواب کی سی کیفیت میں داخل ہونے کے لیے کرتے ہیں
Presentational white space

اپنی ابتدائی تصاویر میں انھوں نے عکس منتشر کرنے اور رنگوں کو مزید گہرا کرنے کے لیے انفراریڈ فلم، لینس پر پیٹرولیئم جیلی اور روشنیوں کی تکنیکوں کا استعمال کیا۔

1976 میں برازیل کی رورائما ریاست میں انفراریڈ فلم سے لی گئی اس تصویر میں یانومامی برادری کی جانب سے مردے جلائے جانے کے بعد راکھ محفوظ کرنے کی جگہ دکھائی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہClaudia Andujar, courtesy Fondation Cartier.

،تصویر کا کیپشن1976 میں برازیل کی رورائما ریاست میں انفراریڈ فلم سے لی گئی اس تصویر میں یانومامی برادری کی جانب سے مردے جلائے جانے کے بعد راکھ محفوظ کرنے کی جگہ دکھائی گئی ہے
Presentational white space

اور اس کے علاوہ انھوں نے یانومامی برادری کی شامانی ثقافت کی عکس بندی کے لیے دستاویزی فلموں کا روایتی سٹائل اپنانے کے بجائے اسے ایسے رنگ میں پیش کیا جیسے یہ کسی اور ہی دنیا سے تعلق رکھتی ہو۔

جب یانومامی برادری کو ہجرت کرنی ہو، کسی وبا سے چھٹکارہ پانا ہو یا ان کا کوئی اہم رہنما ہلاک ہوجائے تو وہ 'ملوکا' کہلانے والے ان اجتماعی گھروں کو آگ لگا دیتے ہیں۔ 1976 میں انفراریڈ فلم سے لی گئی تصویر

،تصویر کا ذریعہClaudia Andujar, courtesy Fondation Cartier.

،تصویر کا کیپشنجب یانومامی برادری کو ہجرت کرنی ہو، کسی وبا سے چھٹکارہ پانا ہو یا ان کا کوئی اہم رہنما ہلاک ہوجائے تو وہ ’ملوکا‘ کہلانے والے ان اجتماعی گھروں کو آگ لگا دیتے ہیں۔ 1976 میں انفراریڈ فلم سے لی گئی تصویر
Presentational white space
1974 میں یانومامی برادری کے ارکان کاتریمانی کے علاقے میں

،تصویر کا ذریعہClaudia Andujar, courtesy Fondation Cartier.

،تصویر کا کیپشن1974 میں یانومامی برادری کے ارکان کاتریمانی کے علاقے میں
Presentational white space

برازیل کی فوجی حکومت کی جانب ایمازون کے خطے میں شروع کیے گئے ہائی وے منصوبے سے اس خطے میں جنگلات کی کٹائی بھی ہوئی تو ماحول کے لیے نقصان دہ زراعتی پروگرام بھی شروع ہوئے۔

ایک نوجوان وکاتھا

،تصویر کا ذریعہClaudia Andujar, courtesy Fondation Cartier.

،تصویر کا کیپشن1976 میں خسرے کے شکار نوجوان وکاتھا کا علاج کیا جا رہا ہے۔ اس کام میں برادری کے شامانوں اور کیتھولک مشن کے ڈاکٹروں نے حصہ لیا
Presentational white space

اور غیر مقامی لوگوں سے زیادہ تعلق کی وجہ سے یانومامی افراد کو وہ بیماریاں لگنی شروع ہوئیں جن کے خلاف ان کی قوتِ مدافعت نہیں تھی۔ نتیجتاً ان کی دو پوری برادریاں ختم ہوگئیں۔

تصویر میں نظر آنے والے یانومامی شخص کی طرح برادری کے کئی لوگوں نے کاتریمانی میں 1975 میں نارتھ پیریمیٹر ہائی وے کی تعمیر میں کام کیا

،تصویر کا ذریعہClaudia Andujar, courtesy Fondation Cartier.

،تصویر کا کیپشنتصویر میں نظر آنے والے یانومامی شخص کی طرح برادری کے کئی لوگوں نے کاتریمانی میں 1975 میں نارتھ پیریمیٹر ہائی وے کی تعمیر میں کام کیا
Presentational white space

اس صورتحال نے اندوخر کے دل میں یورپ میں نسل کشی کی یاد تازہ کر دی اور 1978 میں وہ یانومامی کے آبائی علاقے کو محفوظ قبائلی علاقہ قرار دینے کی سیاسی مہم میں شامل ہوگئیں۔

انھوں نے اپنا آرٹ پراجیکٹ چھوڑ کر اپنی فوٹوگرافی کو یانومامی گروہ کے بارے میں آگاہی پھیلانے اور ان کی حفاظت کے مقصد کے لیے وقف کر دیا۔

برازیل میں ان کی زمینوں کو بالآخر 1992 میں محفوظ علاقہ قرار دے کر یانومامی پارک کا نام دیا گیا۔

1976 میں لیا گیا ایک پورٹریٹ

،تصویر کا ذریعہClaudia Andujar, courtesy Fondation Cartier.

،تصویر کا کیپشن1976 میں لیا گیا ایک پورٹریٹ
Presentational white space

کلاڈیا اندوخر کی تصویری نمائش ’دی یانومامی سٹرگل‘ کی پیرس میں فاؤنڈیشن کاختیر میں 10 مئی 2020 تک دکھائی جائے گی۔

تمام تصاویر کلاڈیا اندوخر کی ملکیت ہیں، بشکریہ فاؤنڈیشن کاختیر