سری لنکا کے قریب کیمیائی مادوں سے لدا جہاز ڈوبنے سے بڑے ماحولیاتی بحران کا خطرہ

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہSri lankan air force

کیمیائی مادوں سے لدا ایک مال بردار جہاز سری لنکا کے ساحل کے قریب ڈوب رہا ہے جس سے ایک بہت بڑا ماحولیاتی بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

سنگاپور میں رجسٹرڈ مال بردار جہاز ’ایکسپریس پرل‘ پر دو ہفتوں تک آگ لگی رہی جس پر اس ہفتے قابو پالیا گیا۔

اگر یہ جہاز ڈوب جاتا ہے تو ہزاروں ٹن تیل اس کے ایندھن کے ٹینکوں سے سمندر میں بہہ جانے کا خطرہ ہے جس سے آبی حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سری لنکا اور انڈیا کی بحری افواج نے جہاز پر لگی آگ پر قابو پانے کے لیے مشترکہ کارروائی کی تاکہ جہاز کو ٹوٹ کر سمندر میں ڈوب جانے سے بچایا جا سکے۔

سری لنکا کی بندرگاہ کے قریب سمندر میں طلاتم اور مون سون کی تیز ہواؤں کی وجہ سے اس جہاز کو ڈوبنے سے بچانے کے کام میں شدید مشکلات پیش آ رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

سری لنکا کی بحریہ کے ترجمان کپتان انڈکا سلوا نے بی بی سی کو بتایا کہ 'جہاز ڈوب رہا ہے۔ اس کو بچانے والے جہاز کو کھینچ کر گہرے سمندر میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس سے سمندری حیات سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے لیکن جہاز کا پچھلا حصہ علیحدہ ہو رہا ہے۔'

X-Press Pearl

،تصویر کا ذریعہSri Lanka Air Force

ماحولیات کی ماہر ڈاکٹر اجنتا پاریرا نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاز ڈوبنے سے بدترین ماحولیاتی بحران پیدا کر دے گا۔

خاتون ماہر ماحولیات کا مزید کہنا تھا کہ'جہاز پر خطرناک کیمیائی مادے لدے ہوئے ہیں جن میں تیزاب اور دیگر کیمیائی مادے شامل ہیں اس کے علاوہ جہاز کا اپنا ایندھن بھی ہے۔ اگر یہ جہاز ڈوب گیا تو یہ سمندر کی تہہ کو تباہ کر دے گا۔'

ڈاکٹر پریرا نے کہا کہ جہاز کو گہرے سمندروں میں لے جانے سے پہلے غوطہ خوروں کو سمندر میں اتارا جائے گا تاکہ وہ جہاز کا نیچے سے جائزہ لے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل اب ہمارے سندروں کا مستقل حصہ بن جائیں گے۔

سری لنکا کے شہر نیگومبو کے ساحل جن کا شمار ملک کے خوبصورت ترین ساحلی تفریحی گاہ میں ہوتا ہے وہاں جہاز کے ملبے کے ٹکڑے اور آلودگی بہہ کر آنے لگی ہے۔

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہSri lankan air force

درین اثناء ملک کی ماہی گیری کی وزارت نے کہا نیگومبو کے ساحل کو بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کر دیا گیا ہے اور اردگرد کے علاقوں اور پنادورا سے لے کر نیگومبو شہر تک ماہی گیری کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ماہی گیروں کی تنظیم کے سربراہ جوشوا اینتھونی نے خبردار کیا کہ جہاز کے ڈوبنے سے ماہی گیر کی صنعت کی موت واقع ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم اگر سمندر میں نہیں جا سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنا روزگار نہیں کما سکتے۔'

سری لنکا کے حکام کا خیال ہے یہ آتشزدگی نائٹرک تیزاب کے لیک ہونے جانے سے ہوئی۔ اس جہاز پر 25 ٹن تیزب لدا ہوا ہے جو مصنوعی کھاد اور بارود بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔

ایکس پریس شپنگ نے تصدیق کی ہے کہ جہاز کے عملے کو اس کا علم تھا لیکن قطر اور انڈیا دونوں کی طرف سے آگ لگنے سے پہلے عملے کو جہاز چھوڑ کر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

دو ملکوں نے جہاز کو اپنی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، لیکن سری لنکا نے اس کو آنے کی اجازت دے دی جس پر سری لنکا میں عوامی سطح پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

سری لنکا کے حکام نے جہاز کے کپتان کے خلاف ایک شکایت درج کر لی ہے۔ کپتان کو گزشتہ ہفتے عملے کے دوسرے ارکان کے ساتھ جہاز سے نکالا گیا تھا۔

سری لنکا کے پولیس نے چودہ گھنٹوں تک جہاز کے کپتان اور انجینئر سے تفتیش کی۔ سری لنکا کی ایک عدالت نے جہاز کے کپتان، انجینیئر اور معاون انجینیئر کے سری لنکا چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے۔

یہ مال بردار جہاز 186 میٹر لمبا ہے۔ یہ انڈیا کی بندرگاہ ہازیرا سے 1486 کنٹینروں کو لے 15 مئی کو روانہ ہوا تھا۔ اس جہاز پر نائٹرک ایسڈ اور کئی کیمیائی مادے اور کاسمیٹک کا سامان لدا ہوا تھا۔