ماحولیاتی تبدیلی: چین کے 'کاربن سِنک' ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کرنے میں کیسے مدد کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہSPL
- مصنف, جوناتھن ایموس
- عہدہ, بی بی سی سائنس رپورٹر
چینی حکومت کی ملک میں تیزی سے درخت لگانے کی پالیسی ملک میں ماحولیات کی بہتری کے لیے نہایت کارگر ثابت ہو رہی ہے۔
ایک بین الاقوامی ٹیم نے چین میں ایسے دو علاقوں کی شناخت کی ہے جہاں پہلی بار یہ انکشاف ہوا ہے کہ نئے درخت لگانے کے باعث وہاں پر کاربن ڈائی آکسائیڈ میں واضح کمی ہوئی ہے۔
ان علاقوں کو 'کاربن سِنک' بھی کہا جاتا ہے اور کاربن سنک وہ علاقے ہوتے ہیں جہاں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے کی صلاحیت اس کو فضا میں خارج کرنے سے زیادہ ہوتی ہے، اور اس کی مدد سے ماحول میں کم کاربن ڈائی آکسائیڈ پھیلتی ہے۔
چین کے یہ دونوں علاقے مجموعی طور پر پورے ملک سے خارج ہونے والی 35 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر لیتے ہیں۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
موقر سائنسی جریدے 'نیچر' میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے لیے محققین نے زمینی تحقیق کی اور سیٹلائٹ کی مدد سے جائزہ لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ پھیلانے والا سب سے بڑا ملک ہے اور عالمی طور پر 28 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ چین سے خارج ہوتی ہے۔
لیکن حال ہی میں چینی حکومت نے اس پر قابو پانے کی کوشش شروع کی ہے اور ان کا ارادہ ہے کہ 2030 کے بعد سے اس کی مقدار میں کمی کی جائے اور 2060 تک 'کاربن نیوٹرالٹی' حاصل ہو سکے یعنی جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو، اتنی ہی جذب بھی ہو سکے۔
ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ چین اس ہدف تک کیسے پہنچے گا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے 'فوسل فیول' یعنی کوئلہ، تیل وغیرہ کے استعمال میں کمی لائے بلکہ فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی ختم کرنے کی کوشش کرے۔
چینی تحقیقی ادارے چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے پروفیسر یی لیو کہتے ہیں کہ چین کا 2060 تک کاربن نیوٹرالٹی کے منصوبے کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی توانائی کی پالیسی میں بڑتی تبدیلی لائے اور کاربن سِنک علاقوں میں اضافہ کرے۔
'نیچر میگزین میں شائع ہونے والی یہ تحقیق اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم اسی طرح اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔'
چین میں درختوں کی تعداد میں اضافہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ گذشتہ دہائیوں میں اربوں درخت لگائے گئے ہیں تاکہ ملک میں لکڑی اور کاغذ کی صنعت کو فروغ ملے اور جنگلات کو بنجر ہونے سے بچایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس نئی تحقیق میں اس بات کا پتہ چلا ہے کہ زیادہ درخت لگانے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر کتنا اثر پڑتا ہے۔
کاربن سنک کے یہ علاقے چین کے جنوب مغربی حصے اور شمال مشرق میں واقع ہیں۔ جنوب مغربی حصے میں واقع کاربن سنک میں منفی صفر اعشاریہ تین پانچ پینٹا گرام فی سال کی مقدار ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ چین سے خراج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ میں سے 0.35 پینٹا گرام جذب کر لی گئی ہے۔
ایک پینٹاگرام ایک ارب ٹن کے برابر ہوتا ہے۔
شمال مشرق میں واقع کاربن سنک موسمی ہے، یعنی وہاں فصل کے موسم میں کاربن جذب ہوتی ہے اور باقی سال اخراج، تو وہاں پر تقریباً سالانہ منفی صفر اعشاریہ صفر پانچ پینٹاگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب ہوتی ہے۔
موازنے کے طور پر دیکھیں تو 2017 میں چین فوسل فیول کے استعمال کے باعث 2.67 پینٹاگرام کاربن کا اخراج کر رہا تھا۔
برطانیہ کی شفیلڈ یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر شان کؤیگن کرہ ارض پر کاربن کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں۔
وہ اس تحقیق سے منسلک تو نہیں تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ چین کے شمال مشرقی کاربن سنک سے ملنے والے نتائج سے حیران نہیں ہوئے لیکن جو عمل انھوں نے جنوب مغرب میں دیکھا وہ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔
انھوں نے تنبیہ کی کہ نئے درختوں میں کاربن کو جذب کرنے کی صلاحیت وقت کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔
'یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ہم کس طرح نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ان ممالک کی مدد کر سکتے ہیں جو پیرس معاہدے کے تحت ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'











