چینی نوجوان تین بچے پیدا کرنے کی اجازت پر کیوں خوش نہیں؟

چین

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکئی خاندانوں نے اس ذہنی تکلیف کے ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا ہے جس سے وہ ماضی میں زیادہ بچے پیدا کرنے کی خواہش یا کوشش کی وجہ سے گزرے ہیں۔

چین میں ہر جوڑے کو تین بچوں کی پیدائش کی اجازت دینے کے فیصلے پر عوامی تبصروں کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ یہ فیصلہ کرنے میں کیا اب بہت دیر ہو چکی ہے۔

چینی حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اعداد و شمار کے مطابق بچوں کی پیدائش کی شرح انتہائی کم ہو گئی ہے۔

تاہم کئی لوگ جن میں اکثریت میلینیئل (اکیسویں صدی میں پیدا ہونے والے نوجوان) کی ہے، یہ سوال کر رہے ہیں کہ یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے فیصلے کے ساتھ متصادم ہو گا۔ چین کی حکومت نے پیر کو ہی ملک میں ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

کئی خاندانوں نے اس ذہنی تکلیف کے ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا ہے جس سے وہ ماضی میں زیادہ بچے پیدا کرنے کی خواہش یا کوشش کی وجہ سے گزرے ہیں۔

چین میں سنہ 1979 میں جوڑوں کے لیے صرف ایک بچہ پیدا کرنے کا قانون متعارف کروایا گیا تھا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے، ملازمتوں سے برخواست کرنے اور بعض مرتبہ حمل ضائع کرنے پر بھی مجبور کیا جاتا تھا۔

مزید پڑھیے

چینی حکومت کی جانب سے تین بچے پیدا کرنے کی اس نئی پالیسی کے نتیجے میں شروع ہونے والی بحث کے دوران انٹرنیٹ پر کئی خاندانوں نے اپنے تجربات بیان کیے ہیں جن سے وہ اس دور میں گزرے تھے۔

'ہر انسان کی حیثیت ایک ڈیٹا جیسی ہو گئی ہے'

ایک شخص نے دعوی کیا کہ ان کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ کو آئی یو ڈی لگوانے پر مجبور کیا گیا کیونکہ وہ اپنی والدہ کی دوسری اولاد تھے جبکہ صرف ایک بچے کی اجازت تھی۔ آئی یو ڈی حمل کو روکنے کا ایک آلہ ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آئی یو ڈی کی وجہ سے ان کی والدہ کو آج تک انفیکشین ہوتے رہتے ہیں۔

انھوں نے چین کی مائکرو بلاگنگ سروس ویبو پر چِل سیرپ کے فرضی نام سے لکھا 'یہ پالیسی ایک بے حس سا اعلان ہے۔ اس میں زرا سا بھی احساس نہیں ہے کہ لوگ کس تکلیف سے گزرے ہیں۔ ہر کوئی ایک انسان کے بجائے محض ایک ڈیٹا بن کر رہ گیا ہے، ایک انسان جس کو سمجھا جائے اور اس کی عزت کی جائے۔'

اس کے علاوہ کئی لوگوں نے فینگ جیامائی کی کہانی کو یاد کیا جن کا سات مہینے کا حمل ضائع کرایا گیا کیونکہ وہ دوسرا بچہ پیدا کرنے کا جرمانہ ادا نہیں کر سکتی تھیں۔ فینگ جیامائی اور ان کے سات ماہ کے مرے ہوئے بچے کی تصاویر نے انٹرنیٹ پر دیکھنے والوں کو صدمے سے دوچار کر دیا اور شہر کے حکام نے معافی مانگی۔

ایک دوسرے شخص نے بتایا کہ جب وہ نو عمر تھے اور ایک دیہی علاقے میں ایک غیر قانونی بچے کے طور پر رہ رہے تھے تو فیملی پلاننگ کے اہلکاروں سے چھپنے کے لیے اکثر تالاب میں کود جاتے تھے۔

انھوں نے لکھا کہ اگر آپ جرمانے کی رقم ادا نہیں کر سکتے تھے تو کچھ اہلکار آپ کے گھر کا سامان اور مویشی لے جاتے تھے۔ 'یہ کیسی عجیب یادیں ہیں۔'

چین کے مشہور فلم میکر ژینگ ایوماؤ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 2014 میں چین کے مشہور فلم میکر ژینگ ایوماؤ اور ان کی اہلیہ کو بھی ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر 12 لاکھ ڈالر کا بڑا جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا۔

ایک شخص نے لکھا کہ ان کی چھوٹی بہن صرف اس وجہ سے زندہ ہیں کیونکہ جب ان کی آٹھ مہینے کی حاملہ والدہ کو ایبورشن کے لیے ہسپتال بلوایا گیا تو ایک رحم دل ڈاکٹر نے انھیں وہاں سے فرار ہونے دیا۔

سنہ 2014 میں چین کے مشہور فلم ساز ژینگ ایوماؤ اور ان کی اہلیہ کو بھی ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر 12 لاکھ ڈالر کا بڑا جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا۔ انھوں نے بھی اس نئے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مضبوط بازو کی اموجی کے ساتھ لکھا کہ 'ہم نے یہ وقت سے پہلے کر لیا تھا۔'

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ یہ نئی پالیسی بھی پرانی پالیسی کی طرح جنسی اور بچے پیدا کرنے کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

تنظیم کے چین میں سربراہ جوشوا روزنزویگ نے کہا 'اس بات کا حکومتوں سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے کہ لوگوں نے کتنے بچے پیدا کرنے ہیں۔ ایسی پالیسیاں بنانے کے بجائے چین کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی ذاتی ترجیحات کی عزت کرے۔'

'ایک عجیب سی نسل'

اس نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سب سے زیادہ تنقید ملینیئل نوجوانوں کی طرف سے سامنے آئی ہے۔ اکیسویں صدی میں پیدا ہونے والی اس نوجوان نسل کا کہنا ہے کہ وہ ایک 'عجیب' نسل بن گئے ہیں جو اس ساری صورتحال کے بیچ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ایک نوجوان نے لکھا '80 اور 90 کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والے ہم لوگوں کی قسمت ہی خراب ہے۔ حکومت ایک طرف تو ہم پر زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی چاہتی ہے کہ ہم زیادہ دیر تک کام کریں۔ یہ کس طرح کی زندگی ہے۔'

گزشتہ 40 برس سے زیادہ عرصے سے چین میں مردوں کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال اور خواتین کے لیے 55 سال ہے۔ لیکن پیر کو چینی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔ اس کی تفصیلات ابھی فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

ایک شخص نے لکھا 'تین بچوں کو چھوڑیں میں تو ایک بچہ بھی نہیں چاہتا۔'

جب تک زیادہ تفضیلات نہیں بتائی جاتی سوشل میڈیا پر اکثر لوگ اس بات پر شبہات کا اظہار کر رہے ہیں کہ پالیسی میں اس تبدیلی سے پیدائش کی شرح میں اضافہ ہو گا۔

جب چین نے سنہ 2016 میں کئی دہائیوں پر مشتمل اپنی 'ایک بچہ' پالیسی کو تبدیل کر کے دو بچوں کی اجازت دی تھی تو شرح پیدائش میں اضافے کا ہدف اس وقت بھی حاصل نہیں ہو سکا تھا۔

کامرز بینک میں سینیئر اکانامسٹ ہاؤ ژاؤ نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر بچے پیدا کرنے کی پالیسی میں نرمی کا فائدہ ہوتا تو دو بچے پیدا کرنے کی موجودہ پالیسی کو بھی موثر ثابت ہونا چاہیے تھا۔'

چین

،تصویر کا ذریعہEPA

گزشتہ روز یعنی پیر کو چین کی حکومت نے اپنے شہریوں کو تین بچے فی خاندان پیدا کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ یہ فیصلہ تازہ مردم شماری کے اعداد و شمار کے بعد کیا گیا جس میں ملک میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں خاطر خواہ کمی دیکھی گئی تھی۔

چین میں بچوں کی پرورش کرنے کے اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے چینی جوڑے ایک سے زیادہ بچے پیدا نہیں کرتے۔ چینی حکومت کی تین بچوں کی نئی پالیسی کا فیصلہ صدر شی جن پنگ نے پارٹی قیادت کی ایک میٹنگ میں لیا۔

چینی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق اس نئی پالیسی میں ایسے اقدامات شامل ہوں گے جن سے ملک کی آبادی کے ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور ساتھ ہی چین کی بڑھتی ہوئی ادھیڑ عمر آبادی کے مسئلے سے بھی نمٹا جا سکے کا جس سے چین محنت و افرادی قوت کے میدان میں اپنی برتری برقرار رکھ سکے گا۔ لیکن کچھ ماہرین نے اس پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

معاشیات کے ایک ماہر ہاؤ زاؤ کے مطابق 'اگر بچے پیدا کرنے کی پالیسی سے کوئی فرق پڑتا تو موجود پالیسی جس میں دو بچوں کی اجازت ہے، اس مسئلے کو حل کر سکتی تھی۔ لیکن تین بچے کون پیدا کرنا چاہتا ہے؟ نوجوان لوگ زیادہ سے زیادہ دو بچے کر سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ روز مرہ زندگی میں ہونے والی مہنگائی اور دباؤ ہے۔‘

چین میں شہ سرخیاں، لوگوں کے فون بجنے لگے

بیجنگ میں جب اس پالیسی سے متعلق خبر آئی تو بارش ہو رہی تھی اور میں کافی لینے باہر نکلا ہوا تھا۔

لوگوں کے موبائل فون بجنا شروع ہو گئے اور ہر کوئی اپنے فون پر شہ سرخی دیکھ رہا تھا: 'چین نے تین بچوں کی اجازت دے دی"۔ خبر دیکھ رہا تھا۔

چین میں یہ ایک بڑی خبر ہے، ایک ایسا ملک جہاں پر ون چائلڈ پالیسی کے اختتام کے بعد بھی بچوں کی پیدائش کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا۔

بہت سے لوگ یہ سوال کررہے ہیں کہ تین بچوں کی پالیسی سے زیادہ بچے کیسے پیدا ہوں گے جب دو بچوں کی پالیسی میں نہیں ہوئے۔

ایک سوچ یہ بھی ہے کہ جو لوگ دو بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں ان میں سے کچھ والدین تین بچوں کا فیصلہ بھی لے سکتے ہیں۔ لیکن چین کی کئی نسلیں بغیر بہن بھائیوں کے بڑی ہوئی ہیں اور وہ چھوٹے خاندان کے عادی ہو چکے ہیں۔ چینی خاندانوں میں دولت میں اضافے کے باعث بھی بچوں میں کمی آئی ہے، اس کی وجہ یہ کہ اب خاندانوں کو کمانے یا گھر کا خرچہ اٹھانے کے لیے بچے نہیں چاہیئیں۔

صاحب روزگار چینی نوجوانوں کا موقف ہے کہ ایک بچے کو زیادہ وسائل دیے جا سکتے ہیں بجائے اس کے کہ آپ اپنی آمدنی تین یا چار بچوں پر خرچ کریں۔

چین

مردم شماری کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

اس ماہ سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس ایک کروڑ بیس لاکھ بچوں کی پیدائش ہوئی۔ جو کہ 2016 کے مقابلے میں خاصی کم تھی جس میں ایک کروڑ اسی لاکھ بچے پیدا ہوئے۔ بچوں کی پیدائش کی یہ شرح 1960 کے بعد سب سے کم ہے۔ یاد رہے کہ 1960 میں بچوں کی پیدائش کے اعداد و شمار کا ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

چین میں یہ تازہ مردم شماری گزشتہ برس کے آخر میں کی گئی تھی اور اس میں ستر لاکھ ورکر شامل ہوئے جنھوں نے لوگوں کے گھروں تک جا کر یہ معلومات حاصل کیں۔ اس میں حصہ لینے والوں کی تعداد دیکھ کر اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ چینی آبادی پر کی گئی سب سے جامع مردم شماری ہے جو کہ مستقبل کے لیے بھی بہت اہم ہے۔

ان اعداد و شمار کے منظر عام پر آنے کے بعد چین میں بڑے پیمانے پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ اس سے خاندانی پالیسی میں تبدیلی آئے گی۔

'بہت سارے مسائل اور دباؤ‘

(تجزیہ: کیری ایلن)

چینی میڈیا نے 'تھری چائلڈ پالیسی، کو اپنی شہ سرخیوں میں جگہ دی ہے۔ روزنامہ پیپلز ڈیلی، نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی اور خبر رساں ادارے زن ہوا نے اس حوالے سے کارٹون بھی اپنے سوشل میڈیا صفحات پر پوسٹ کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ نئی پالیسی 'آگئ‘ ہے۔

چینی سوشل میڈیا نیٹ ورک سین وئیبو پر اس موضوع پر سب سے زیادہ بات ہورہی ہے۔ زن ہوا کی سوشل میڈیا پوسٹ پر ایک لاکھ اسی ہزار سے زیادہ لوگوں نے کمنٹ کیا ہے، اور جن کمنٹس کو سب سے زیادہ لائیک کیا گیا ہے وہ اس پالیسی کے خلاف ہیں۔

ایک صارف نے لکھا 'زندگی میں پہلے ہی بہت مسائل ہیں، نوجوان لوگ بچے پیدا نہیں کرنا چاہتے۔‘

بہت سے صارفین نے جدید دور میں ملازمت کے مسائل کے بارے میں بات کی اور کہا گیا کہ انھیں بچے پیدا کرنے سے متعلق بنیادی ضروریات تک نہیں دی جاتیں۔

چین میں افرادی قوت میں کمی کے باعث آج کل کے نوجوان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے کام کرنے کے اوقات میں اضافہ ہوگا۔ زیادہ کام اور اسے کرنے کے لیے درکار زیادہ وقت صحت کے مسائل پید کر رہا ہے۔

زیادہ سے زیادہ خواتین اعلیٰ تعلیم اور روزگار کو بچوں یا خاندان پر فوقیت دے رہی ہیں۔

ماضی میں چین کی پالیسیاں کیا تھیں؟

2016 میں جب حکومت نے ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی کو ترک کیا تو اس کے بعد آنے والے دو سال تک بچوں میں اضافہ ضرور ہوا لیکن بچے پیدا کرنے کی شرح میں کمی کا جو رجحان تھا اس میں تبدیلی نہیں آئی۔

دی اکانومسٹ انٹیلجنس یونٹ میں معاشی امور کی سربراہ یوئے شو کہتی ہیں 'جب دو بچوں کی اجازت دی گئی تو وقتی طور پر بچوں کی شرح میں اضافہ ضرور ہوا لیکن یہ صرف وقتی ہی ثابت ہوا۔‘

چین کی آبادی کا رجحان کئی برسوں سے ون چائلڈ پالیسی سے منسلک تھا جو 1979 میں شروع کی گئی تاکہ آبادی پر کنٹرول کیا جاسکے۔

اس پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جاتا تھا، ملازمت سے نکال دیا جاتا اور کئی بار زبردستی ابارشن بھی کروایا جاتا تھا۔

اس پالیسی سے ملک کی آبادی میں جنس کا توازن بھی بگڑا۔ چینی ثقافت میں عموماً لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

سنگاپور نیشنل یونیورسٹی میں معاشرتی علوم کے ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر مو زینگ کہتے ہیں کہ 'یہ شادی کی مارکیٹ میں مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ خاص طور پر ان مردوں کے لیے جن کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔‘

کیا چین بچے پیدا کرنے کی حد کو ختم کرسکتا ہے؟

چین کی اس برس ہونے والی مردم شماری کچھ ہی ماہ بعد ہوگی۔ ماہرین کا خیال تھا کہ اس سے پہلے بچے پیدا کرنے کی حد کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا لیکن چینی حکومت کے اعلان سے بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حکام ابھی اس بارے میں احتیاط برط رے ہیں۔

لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسے مکمل طور پر ختم کردینے سے اور دوسرے مسائل جنم لیں گے۔ ماہرین اس حوالے سے شہر اور گاؤں میں رہنے والے لوگوں کی تعداد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

بیجنگ اور شہنگائی جیسے مہنگے شہروں میں رہنے والی خواتین تو شاید بچے پیدا کرنے میں دیر کریں یا پھر بلکل ایسا نہ کریں لیکن گاؤں دیہات میں رہنے والی آبادی ایسا نہیں کرے گی بلکہ وہ اپنے خاندان میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

اس پالیسی پر کام کرنے والے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا: 'اگر ہم یہ پالیسی ختم کردیں تو گاؤں دیہات میں رہنے والے لوگ بچے پیدا کرنے کے حق میں ہیں۔ اس سے دوسرے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔‘

ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے بے روزگاری میں اضافہ اور غربت جیسے مسائل پیدا ہوں گے۔

ماہرین اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ چین کی آبادی میں کمی سے دنیا کے دوسرے حصوں پر بھی گہرا فرق پڑ سکتا ہے۔

وسکانسن میڈیسن یونورسٹی میں کام کرنے والے سائنسدان ڈاکٹر یہ فوژیان کہتے ہیں کہ 'چین کی معیشت بہت تیزی سے آگے بڑھی ہے اور اس پر دنیا بھر کی بہت سے صنعتوں کا انحصار ہے۔ چین کی آبادی میں کمی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔‘