آسام: انڈیا میں دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے افراد پر سرکاری ملازمت کے دروازے بند

آسام

،تصویر کا ذریعہDILIP SHARMA/BBC

    • مصنف, دلیپ کمار شرما
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، گوہاٹی

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر آپ کے دو سے زیادہ بچے ہیں تو آپ کو سرکاری ملازمت نہیں ملے گی۔

آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ہے اور وزیر اعلی سربانند سونووال کی کابینہ نے پیر کو یہ فیصلہ کیا۔

فیصلے کے مطابق یکم جنوری سنہ 2021 کے بعد دو سے زیادہ بچوں والے افراد کو کوئی سرکاری نوکری نہیں دی جائے گی۔

دراصل 126 نشستوں والی آسام قانون ساز اسمبلی نے دو سال قبل آبادی کی پالیسی اپنائی تھی اور پھر ستمبر سنہ 2017 میں اس نے چھوٹے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے 'آبادی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی' منظور کی۔

یہ بھی پڑھیے

اس کے ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ سرکاری ملازمین کو بھی دو بچوں کی پالیسی پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔

آسام

،تصویر کا ذریعہDILIP SHARMA/BBC

سیاسی عزائم

حکمراں جماعت بی جے پی کے اس فیصلے کو ریاست میں ان کے طویل سیاسی عزائم کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق آسام کی مجموعی آبادی تین کروڑ 11 لاکھ 69 ہزار تھی جس میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 67 لاکھ نو ہزار تھی۔

یعنی مسلمانوں کی آبادی ریاست کی کل آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ 34.22 فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ 33 اضلاع میں سے نو میں وہ اکثریت میں ہیں۔

مقامی صحافی بیکنٹھ ناتھ گوسوامی آبادی کی پالیسی کے تحت چھوٹے خاندان والوں کو سرکاری ملازمت دینے کے بی جے پی حکومت کے اس فیصلے کو اسی پس منظر میں دیکھ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اگر حکومت کو آبادی کی پالیسی کے تحت کوئی کام کرنا ہوتا تو آبادی پر قابو پانے کے لیے بیداری کے موجودہ پروگراموں کو زیادہ موثر بنانا چاہیے تھا۔ اس پالیسی کے تحت جس کے دو سے زیادہ بچے ہوں اسے سرکاری ملازمت نہیں دی جائے گی، اسے عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ دو سے زیادہ بچے کی بنیاد پر ملازمت سے محروم کیا جانا آئینی حق کی خلاف ورزی ہوگی۔'

وزیر اعلی سونووال

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنآسام کے وزیر اعلی سونووال

وہ مزید کہتے ہیں: 'دراصل ریاست میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی شرح زیادہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان میں تعلیم کی شرح میں کمی ہے۔ اگر ہم اس موضوع کا سیاسی پہلو دیکھیں تو بی جے پی کو اس میں سیاسی فائدہ ہے۔ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی آبادی کم ہونی چاہیے ۔کیونکہ جمہوریت میں سارا کھیل تعداد کا ہے۔ فی الحال ہم 2011 کی مردم شماری کو دیکھ رہے ہیں لیکن 2021 مردم شماری کی رپورٹ آئے گی تو اس کی بنیاد پر آسام میں مسلمانوں کی تعداد مزید زیادہ ہوگی۔ بی جے پی کی لاکھ کوششوں کے باوجود گذشتہ انتخابات میں ملک کے مسلمانوں کے کل ووٹوں کا صرف چھ فیصد ووٹ ہی انہیں ملا تھا۔'

بہر حال بی جے پی نے اس طرح کے کسی سیاسی فائدے کی تردید کی ہے۔

آسام میں بی جے پی کے سینیئر رہنما وجے گپتا نے بی بی سی کو بتایا: 'ہماری پارٹی آبادی کی پالیسی کے تحت یہ کام کررہی ہے۔ جس طرح سے آبادی بڑھ رہی ہے اس سے تمام طرح کی پریشانی پیدا ہو رہی ہے۔ آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے ہماری حکومت کی لوگوں سے دو بچے پیدا کرنے کی درخواست ہے۔'

انھوں نے کہا: 'یہ قدرے جبری نظر آتا ہے لیکن اس پر عمل پیرا ہونے والے تمام خاندانوں کو کئی طرح کی راحت ملے گی۔ لوگ سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے اس پالیسی کو ذہن میں رکھیں گے۔ اسے کسی کے ساتھ نا انصافی یا سیاسی طور پر کسی مذہب سے جوڑ کر دیکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ دو بچے پیدا کرنے سے کنبہ کی معاشی ترقی ہوگی۔ کم وقت کے دوران زیادہ بچہ پیدا کرنے سے پرورش کا مسئلہ پیدا ہوگا اور بے روزگاری بھی بڑھے گی. یہ پالیسی سب کے لیے ہے، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان۔

وجے گپتا

،تصویر کا ذریعہDILIP SHARMA/BBC

،تصویر کا کیپشنمقامی بی جے پی رہنما وجے گپتا

اگر دوسرا بچہ جڑواں ہوا تو کیا ہوگا؟

سرکاری ملازم اندرا گوگوئی اس پالیسی کے خلاف تو نہیں ہیں لیکن انھیں اس میں مسئلہ نظر آتا ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ دو بچے پیدا کرنے کی پالیسی کو کسے دھیان میں رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ کیونکہ تعلیم یافتہ افراد دو سے زیادہ بچے پیدا نہیں کرتے ہیں۔ اگر معاشی طور پر کمزور لوگ یا قبائلی یا کسی اور برادری کی بات کی جا رہی ہے تو وہ لوگ بھی آج کل کم بچے بھی پیدا کرتے ہیں۔ پھر یہ پالیسی کن لوگوں کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی ہے؟'

ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد کسی کے یہاں جڑواں بچہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس طرح خاندان میں بچوں کی تعداد تین ہوجاتی ہے۔ کیا اس خاندان کے لوگوں کو ایسی صورتحال میں سرکاری ملازمت نہیں دی جائے گی؟ اس پالیسی میں کئی نکات ہیں جن پر حکومت کو عوام سے بات کرنی چاہیے۔'

کانگریس رہنما رپن بورا

،تصویر کا ذریعہFB/RIPUN BORA

،تصویر کا کیپشنمقامی کانگریس رہنما رپن بورا

کانگریس پارٹی کا کیا کہنا ہے؟

آسام میں کانگریس کے ریاستی صدر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ رپن بورا نے بی بی سی کو بتایا: 'ہمیں ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافے پر تشویش ضرور ہے لیکن صرف دو بچے پیدا کرنے والے قانون کو نافذ کرنے سے آبادی کو روکا نہیں جاسکتا ہے۔ آبادی کو کنٹرول کرنے پر ہم متفق ہیں لیکن اس کے لیے قانون کے ذریعے نہیں بلکہ لوگوں کو دل سے سوچنا ہوگا۔ لوگوں کو تعلیم دینی ہوگی اور ان میں مکمل بیداری لانی ہوگی۔'

آسام حکومت کے اجلاس میں ایک نئی اراضی پالیسی کی بھی منظوری دی گئی ، جس میں بے زمین مقامی لوگوں کو تین بیگھا (تقریبا تین ہزار مربع میٹر) زمین اراضی اور آدھا بیگھا (تقریبا 500 مربع میٹر) مکان بنانے کے لیے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔