آپریشن کولمبا: دوسری عالمی جنگ میں نازیوں کے خلاف پیغام رساں کبوتروں کے ذریعے چلایا جانے والا کامیاب جاسوس مشن

کبوتر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, گورڈن کوریرا
    • عہدہ, بی بی سی ہسٹری ایکسٹرا

آٹھ اپریل 1941 کی رات جب برطانوی رائل فضائیہ کے ایک بمبار طیارے نے ’سپیشل ٹاسک سکواڈ‘ کے گڑھ نیو مارکیٹ سے اُڑان بھری تو اس نے برطانوی انٹیلیجینس ایجنٹوں کو دشمنوں کی صف میں چھوڑ دیا تھا۔

دورانِ پرواز اس طیارے پر طیارہ شکن توپ سے ذیبرگ نامی علاقے کے قریب حملہ ہوا تھا لیکن خوش قسمتی سے یہ اپنی منزل یعنی فرانس اور بلجیئم کی سرحد کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

یہی وہ مقام تھا جہاں سے اصل آپریشن کا آغاز ہوا تھا۔ مگر وہ ’برطانوی ایجنٹس‘ جنھیں دشمنوں کی صفوں میں چھوڑا گیا تھا وہ کوئی انتہائی تربیت یافتہ جاسوس نہیں تھے بلکہ پیغام رسانی کرنے والے کبوتر تھے۔

یہ پرواز ایک نئے خفیہ آپریشن کے آغاز کی پہلی کڑی تھی جس کا خفیہ نام ’کولمبا‘ رکھا گیا تھا۔ لاطینی زبان میں کولمبا کبوتر کو کہتے ہیں۔

یہ کبوتر برطانوی کبوتر بازوں نے فوج کو عطیہ کیے تھے۔ ان پرندوں کو پنجروں میں رکھا گیا تھا اور پھر انھیں یورپ کی سرزمین پر فضا سے چھوڑ دیا گیا تھا۔

یہ آپریشن تقریباً ساڑھے تین سال تک جاری رہا اور اس میں کل 16554 کبوتروں کو ڈنمارک میں کوپن ہیگن سے جنوبی فرانس میں بورڈوکس تک استعمال کیا گیا تھا۔

اس آپریشن کا مقصد تھا کہ نازیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں رہنے والے عام افراد سے کبوتروں کے ذریعے معلومات اکٹھی کی جائیں۔

کبوتر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہوا میں اڑتے سوالات

دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادی افواج یہ معلومات حاصل کرنا چاہتی تھیں:

  • انگلینڈ پر حملے کی منصوبہ سازی سے متعلق معلومات
  • علاقے میں فوجیوں کی تعداد اور مقام سے متعلق معلومات
  • دشمن کے حوصلے سے متعلق معلومات
  • جرمنوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے اہم ایڈریس
  • فضائی اڈوں کی نشاندہی
  • اور اتحادی افواج کی جانب سے کی جانی والی بمباری کے اثرات و نقصانات

اور اس کے ساتھ ساتھ برطانوی یہ جاننا چاہتے تھے کہ نازیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں عوام کس حد تک بی بی سی ریڈیو کی سروس کو واضح طور پر سُن پا رہے ہیں اور ان کے اس ریڈیو سروس سے متعلق کیا خیالات ہیں۔

جو سوالات نیچے پھینکے جاتے اُن کے آخر میں لکھا ہوتا تھا کہ ’دل سے شکریہ، بھولیے گا نہیں۔‘

سوال نامہ پُر کرنے کے بعد لوگ اسے ایک چھوٹے سے سبز رنگ کے سیلنڈر میں بند کرتے اور مہارت کے ساتھ کبوتر کی ٹانگ سے باندھ دیتے۔

اور جب اس کبوتر کو ہوا میں چھوڑ دیا جاتا یہ سیدھا اڑ کر اپنے برطانوی ٹھکانوں پر واپس آ جاتا۔ ان کبوتروں کے مالک برطانوی فوج کی انٹیلیجنس کے شعبے کے حکام کو بتاتے کہ اُن کا کبوتر کیا پیغام لے کر آیا ہے۔ اس آپریشن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے۔

کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہ ’چالاک آپریشن‘ کامیاب ہو گا۔ حکام کی جانب سے یہ حساب لگایا گیا تھا کہ کبوتروں کے لیے چار صورتیں ہو سکتی ہیں:

  • ایک یہ کہ یہ کسی کو نہ ملیں اور اپنے پنجرے میں ہی مر جائیں
  • کوئی مقامی شخص انھیں اٹھا لے اور پیغام بھیج دے
  • تیسرا یہ کسی جرمن کے ہاتھ لگ جائیں اور وہ ان کے ذریعے غلط پیغام بھیج دے
  • یا یہ کسی اتنے بھوکے شخص کو مل جائے جو انھیں بھون کر کھا لے

پہلے کبوتر کی واپسی

کبوتر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اپریل 1941 میں پہلی کارروائی کے دو دن بعد صبح ساڑھے دس بجے وار آفس میں فون کی گھنٹی بجی۔ خوشخبری سُنائی گئی کہ ’پہلا پرندہ کینٹ واپس آیا ہے۔‘

کولمبا یعنی کبوتر سے ملنے والا پہلا پیغام بیلجیئم کی سرحد کے قریب سے شمالی فرانس کے ایک چھوٹے سے قصبے لی برائیل سے آیا تھا۔ یہ مختصر پیغام تھا لیکن اس میں حقیقی معلومات موجود تھیں۔

اس میں لکھا تھا ’مجھے یہ کبوتر بدھ کی صبح نو بجے کے قریب ملا۔۔۔ جرمن فوجوں کی نقل و حرکت ہمیشہ رات کو ہوتی ہے، ہرازیل میں ریلوے سٹیشن سے تقریباً دو سو میٹر کے فاصلے پر اسلحے کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ گذشتہ روز گھوڑوں پر اسلحے کا ایک بڑے قافلہ بذریعہ بیمبیکے ڈنکرک کی جانب بڑھا ہے جبکہ دوسرا قافلہ ہیزبروک کی جانب گیا ہے۔ تاہم ابھی تک انگلینڈ پر حملے کا کوئی ذکر نہیں ہوا ہے۔۔۔‘

اُس میں مزید کہا گیا تھا کہ ’برطانوی فضائیہ نے اس علاقے میں کبھی ببماری نہیں کی ہے۔۔۔ انھیں (اس علاقے میں واقع) اینٹوں کے بھٹے کو ضرور نشانہ بنانا چاہیے کیونکہ اس کا مالک ایک۔۔۔‘ مترجم نے اس خط میں اگلا لفظ ’نامناسب‘ قرار دیا اسی لیے اسے یہاں شائع نہیں کیا جا رہا۔

اس پیغام کا اختتام کچھ یوں ہوا تھا ’میں امید کرتا ہو کہ میں ایک فرانسیسی ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔‘ اس پر ’اے بی سی ڈی 34‘ کے نام سے دستخط کیے گئے تھے۔

یہ محض آغاز تھا۔

کبوتروں کے ذریعے حاصل کی گئی خفیہ معلومات کا وسیع پیمانے پر فائدہ ہوا تھا۔ اس نے اس بات کا انکشاف کیا کہ نازیوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے چھوٹے گروہ بے چینی سے برطانوی افواج کی مدد کرنے کو تیار تھے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ معلومات نازیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں زندگی کی حقیقتوں کی جھلک پیش کرتی تھیں جس میں خوراک، خوف اور غصہ نمایاں تھا۔ دوسرے معاملات میں انھوں نے جرمن فوج کے اڈوں کے متعلق ٹھوس معلومات فراہم کیں جن پر بعد میں حملہ کیا گیا تھا۔

کبوتر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیوپولڈ ونڈکٹیو نامی بیلجیئن گروپ کے ایک پیغام کی صورت میں اعداد و شمار اتنے اہم ہوتے کہ برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کو ملنے والا پیغام دکھایا جاتا۔

رازداری میں کامیابی

جنگ کے دوران برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ’ایم آئی سکس‘ میں برطانوی طبیعیات دان اور فوجی ذہانت کے ماہر رگینالڈ وکٹر جونز کا کام نئے جرمن ہتھیاروں اور دفاعی صلاحیت کا مطالعہ کرنا تھا۔

اُن کی ترجیحات میں سے ایک یہ تھا کہ وہ یہ جان پائیں کہ جرمنی کے جنگجو طیارے براعظم پر پرواز کرنے والے برطانوی طیاروں کو مار گرانے میں اتنے موثر کیوں تھے۔ کسی بھی انٹیلیجنس ایجنسی کو اس معمے کا جواب نہیں ملا، لیکن پانچ جون 1942 کو کبوتر سے ملنے والے ایک پیغام نے اس کی وضاحت کر دی۔

اس پیغام کے مصنف نے لکھا ہے کہ ان کا خیال تھا کہ اس پرندے کی منزل ہالینڈ کے بجائے بیلجیئم تھی، لیکن اس نے پھر بھی کچھ تفصیلات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مصنف نے لکھا کہ برطانوی فوج کے لیے یہ خوش قسمتی تھی کہ وہ ایسا کرتے تھے کیونکہ اوپیریڈوز کیمپ میں ایک بڑی تعداد میں’فنی سہولیات، سننے والے آلے اور جیمرز کی وجہ سے اس کیمپ سے جنگجو طیاروں کو ہدایات ملتی تھی۔ لہذا برائے مہربانی نقشوں کا استعمال کریں۔‘

برطانوی وزارت دفاع نے اس پیغام کو ’فرسٹ کلاس‘ قرار دیا۔ جونز نے لکھا کہ ’کبوتروں نے تین جنگجوؤں کے کنٹرول سٹیشنوں پر فتح حاصل کر لی ہے۔‘

بعدازاں انھوں نہ وی ون فضائی بمباری کے مقامات کے متعلق بھی معلومات فراہم کی تھیں۔

پیغام رسانی والا کبوتر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بالکل منفرد خیال

کبوتروں کے ذریعہ فراہم کردہ انٹیلیجنس کو جس چیز نے اس قدر قیمتی بنا دیا تھا وہ یہ حقیقت تھی کہ یہ حیرت انگیز حد تک بہترین تھا۔ اکثر خفیہ ایجنٹوں کو سپین یا کسی دوسرے خوفناک راستے کے ذریعے سے دشمنوں کی صفوں میں اطلاع لاتے لاتے مہینوں لگ جاتے تھے۔ اور جب تک وہ معلومات برطانیہ پہنچتی تب تک پرانی ہو چکی ہوتی تھی۔

لیکن کبوتروں کے ذریعے پیغام اکثر دنوں یا گھنٹوں میں پہنچ جایا کرتے تھے۔

تکلیف اور بدنامی

اتحادی افواج کے لیے کبوتروں کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آپریشن 1944 کے موسم گرما میں بھی چل رہا تھا اور اس دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادی افواج کے اہم حملے ڈی ڈے لینڈنگ کی تیاریوں میں، خاص طور پر نازی افواج کی تیاری کی نشاندہی کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔

مقبوضہ یورپ سے بھیجے گئے بہت سارے پیغامات تکلیف دہ تھے: کچھ وہ تاریک پیغامات تھے جو اتحادیوں کی بمباری سے شہری ہلاکتوں کی تفصیل فراہم کرتے تھے۔

ایک فرانسیسی کسان نے میئن کے علاقے میں اپنے کھیت سے کبوتر بھیجتے ہوئے لکھا تھا کہ ’میرے دوستوں میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ بمباری سے ہمیشہ شہری ہی کیوں متاثر ہوتے ہیں، بہت کم جرمن ہلاک ہوتے ہیں۔ اگر آپ بمباری سے قبل کچھ مہلت دے دیں تو لوگوں کے پاس شہر سے انخلا کرنے کا وقت ہو گا اور اس سے بہت سے فرانسیسیوں کی جان بچ جائے گی۔‘

اس کسان کے پیغام کے اختتام پر ایک درخواست تھی کہ اسے جلد سے جلد آزاد کروایا جائے کیونکہ گسٹاپو نے اس کے تمام دوستوں کو مار دیا تھا۔ ان نے لکھا تھا کہ ’مہربانی کر کے ہمیں ہتھیار بھیجیں، رائفلیں اور پستول اور گولہ بارود پیراشوٹ کے ذریعے پہنچائیں۔‘

سب سے زیادہ حیران کن پیغام 13 جولائی 1944 کو ایک مزاحمتی گروہ کی جانب سے آیا تھا۔

’جیسا کہ ہمیں شک ہے کہ یہ ایک جرمن کبوتر ہے، ہم ایک پیغام بھیج رہے ہیں جو آپ کے لیے دلچسپ ہو سکتا ہے۔‘ اس گروپ نے لکھا کہ ’ہمیں اتحادی افواج نے مکمل طور پر اسلحہ مہیا کر دیا ہے اور اب ہم تم لوگوں کو سبق سکھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔۔۔‘

اس میں مزید لکھا تھا کہ ’اب تمھیں ہمارے مصائب کا قرض چکانا ہو گا، ان خاندانوں کا قرض چکانا ہو گا جنھیں تم نے ہلاک کیا یا تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس مزاحمتی گروہ نے ایک اور بھی تنبیہی پیغام لکھا تھا کہ ’ہمارے لیے آج سے جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ کا قانون ہو گا۔۔۔۔ ہم نے پہلے ہی بہت سے جرمن فوجی مار دیے ہیں اور ہمارے پاس مطلوبہ اسلحہ موجود ہے اور تمھیں بہت جلد اس بات کا اندازہ ہو جائے گا۔‘

ملکہ الزبتھ دوئم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنملکہ الزبتھ دوئم اپنی بہن مارگریٹ کو ایک پیغام رسانی والا کبوتر دکھا رہی ہیں

وہ اکیلے نہیں ہیں

انٹیلیجنس کے لیے ایک ہی ذریعہ کافی تھا لیکن اتحادی افواج کی خفیہ کبوتر فوج نے ایک بڑی تصویر بنانے میں یقیناً بہت مدد کی اور اہم کام کیا۔

تاہم کولمبا آپریشن کی اہمیت نہ صرف جرمن اسلحہ فیکٹریوں اور فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے بارے میں حاصل کردہ معلومات کے لیے تھی بلکہ خفیہ معلومات اکٹھی کرنے والے اس چالاک آپریشن نے برطانیہ میں جاسوسوں اور کبوتروں کے مداحوں اور یورپ میں نازی قبضے میں رہنے والے افراد کے مابین ایک رابطہ قائم کیا تھا۔

مزید پڑھیے

انھوں نے یہ کام کیا کہ دونوں فریقوں کو معلوم تھا کہ وہ جرمنوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ کبوتروں نے نہیں انسانوں نے جیتی تھی لیکن کبوتر اس کا اہم کردار تھا۔

گورڈن کوریرا بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار ہیں اور کتاب Secret Pigeon Service: Operation Columba, Resistance and Fight to Liberate Occupied Europe کے مصنف ہیں۔