بیلاروس طیارہ ’اغوا‘:جنگی جہاز کسی دوسرے ملک کے مسافر طیارے کو زبردستی لینڈ کروا سکتے ہیں؟

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہZAKARIA ABDELKAFI

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
    • مصنف, سائمن براؤننگ
    • عہدہ, نامہ نگار برائے بزنس

'اگر ایک ملٹری جہاز آپ کو روکتا ہے اور پھر آپ کو کوئی حکم دیتا ہے تو آپ پر لازم ہے کہ آپ اس کی پابندی کریں۔‘ ایک پائلٹ نے بی بی سی کو بتایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مسافر طیارے کو اس طرح زبردستی لینڈ کروانا ’انتہائی خطرناک‘ ہے۔

بیلاروس کے ایک مسافر طیارے کو زبردستی لینڈ کروانے کے واقعے کے بعد کئی فضائی ماہرین نے اس عمل اور طریقہ کار پر مختلف آراء دی ہیں۔

بیلاروس نے اتوار کے روز جنگی جہاز بھیج کر ایک مسافر طیارے کا رُخ موڑا تھا۔ رائن ایئر کی یہ پرواز یونان سے لتھوینیا جا رہی تھی۔ حکام کا دعویٰ تھا کہ اس پرواز پر بم موجود ہے، جو کہ بعد میں غلط ثابت ہوا۔

طیارے کی لینڈنگ کے وقت پولیس نے اس پر سوار حکومت مخالف 26 سالہ صحافی رومن پروٹاسیوچ کو حراست میں لے لیا۔ طیارے کو اس ایئرپورٹ پر اتارا گیا جس کا نہ تو پائلٹ کو علم تھا اور نہ ہی یہ فلائٹ پلان میں شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیے

فضائی امور کے ماہرین نے اس واقعے کو ایک بہت بڑا ’سفارتی واقعہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں یاد نہیں پڑتا کہ اس طرح کا واقعہ پہلے کبھی پیش آیا ہو۔

کوئی بھی طیارہ جب بین الاقوامی فضائی حدود میں اڑتا ہے تو اس طیارے کی ایک شہریت ہوتی ہے، یعنی وہ جہاں وہ رجسٹر کیا گیا ہو۔

اس طیارے کے بارے میں یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ پولینڈ میں رائن ایئر سن نامی کمپنی کے نام رجسٹرڈ ہے۔ یہ ایک آئرش کمپنی کی ایئر لائن ہے۔ جب یہ جہاز ہوا میں ہوتا ہے تو یہ کسی بھی فضائی حدود میں ہو اس کی شہریت پولینڈ کی رہے گی۔

ایوی ایشن کی ایک بڑی کمپنی سے تعلق رکھنے والے سینیئر اہلکار کے مطابق ’کسی بھی طیارے کی پرواز میں مداخلت کرنے سے اس ملک جہاں یہ طیارہ رجسٹرڈ ہے اور مداخلت کرنے والوں کے درمیان سفارتی مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔

ایک پائلٹ کا موقف ہے کہ ایسا کرنا متعدد بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

'فرسٹ فریڈم آف ائیر’ اس قانون کا نام ہے جس کہ تحت طیاروں کو مختلف ملکوں کے اوپر سے بغیر لینڈ کیے گزر کر جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ اور یہ قانون اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے ایک ملک کے لوگ دنیا بھر میں کسی بھی دوسرے ملک میں جا سکتے ہیں۔

بیلاروس کے ایک طیارے کی پرواز میں مداخلت کرنا اور اسے ایک تیسرے ملک میں لینڈ کرنے پر مجبور کرنا اس قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اسی وجہ سے رائن ائیر کے باس مائیکل و لئیری نے بیلاروس کی اس حرکت پر اس پورے واقعے کو 'ریاست کی مدد سے چوری’ قرار دیا ہے۔ لیکن یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بیلاروس نے انٹرنیشنل ائیر سروسز اگریمنٹ پر دستخط نہیں کیے، اور فرسٹ فریڈم آف دی ائیر کا قانون بھی اسی معاہدے کا حصہ ہے۔

ملٹری کب دخل اندازی کرسکتی ہے؟

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق پرواز میں ملٹری دخل اندازی عام طور پر تب ہوتی ہے جب جہاز کو کوئی خطرہ ہو۔اگر جہاز میں موجود مسافر یا پھر جس جگہ جہاز فضا میں ہے وہاں پر موجود شہر اور قصبوں کو اس سے خطرہ ہو تو ان صورتوں میں ریاست دخل اندازی کر کے سب کے تحفظ کو یقنی بنائے گی۔

اگر ائیر ٹریفک کنٹرول کا رابطہ جہاز کے ساتھ وقتی طور پر ٹوٹ جاتا ہے تو آپریٹر فوری طور پر رابطہ بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن اگر پھر بھی رابطہ نہیں ہوتا اور فضائی عملہ دونوں ریڈیو فریکوئنسی پر جواب نہیں دیتا تو اس صورت میں ملٹری کی مدد لی جاتی ہے۔

ایک پائلٹ کے مطابق 'فائٹر جیٹ آپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں، آپ کو فون کرتے ہیں، اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ طیارہ محفوظ ہے نا کہ اغوا ہو کر کسی ملک کے دارلحکومت پر گرنے والا ہے۔ ائیر ٹریفک کنٹرول نائن ایلیون کے حادثے کے بعد ریڈیو رابطہ منقطہ ہونے کی صورت میں جلد پریشان ہو جاتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ اگر جہاز کا کپتان 'کنٹرول ٹاور کو یہ باور کرواتا ہے کہ طیارہ کسی قسم کی مشکل میں ہے تو بھی ملٹری کی مدد لی جاتی ہے۔‘

’سکاک کوڈز‘ کے ذریعے طیارے کو درپیش بہت سے مسائل کا اشارہ دیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر طیارے کو کسی فنی خرابی کا سامنا ہے یا پھر مواصلات کا نظام خراب ہوگیا ہے یا پھر اگر آپ کو کنٹرول ٹاور کو یہ بتانا ہے کہ طیارے میں کسی قسم کی غیر قانونی مداخلت ہوئی ہے۔

فلائیٹ پلان

ملٹری ایسکورٹ کے دوران کیا ہوتا ہے؟

اگر ملٹری طیارے کسے جہاز کو ایسکورٹ کرتے ہیں یعنی کے اس کا رخ موڑ کر اسے کسی محفوظ جگہ پر اتارنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں وہ مسافر طیارے کے آگے ایک خاص فارمیشن میں آجاتے ہیں۔

ایک سینیئر ایوی ایشن اہلکار کے مطابق ' کپتان کی نشست بائیں جانب ہوتی ہے۔ اس صورت میں ایک ملٹری جیٹ بائیں جانب سے آتا ہے تاکہ مسافر طیارے کے کپتان کو وہ بلکل صاف طور پر نظر آئے۔ اگر دو ملٹری طیارے ہیں تو پھر دوسرا طیارے یا تو دائیں جانب ہوگا یا پھر طیارے کے پیچھے۔‘

اس موقع پر ملٹری جیٹ مسافر طیارے سے انٹرنیشنل ایمرجنسی فریکوئنسی پر رابطہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر ریڈیو کام نہیں کر رہا اور اس طریقہ کار کے تحت بھی رابطہ نہیں ہو پاتا تو پھر دخل اندازی یا انٹرسیپشن سگنلز کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ان سگنلوں کی ایک کتاب ہوتی ہے جس میں یہ درج ہوتا ہے کہ ملٹری جہاز کے کون سے سگنل سے آپ کو کیا کرنا ہے۔

سنیئر پائلٹ کے مطابق ملٹری جہاز رات کے وقت اپنی لائیٹ کو فلیش کرے گا۔ اور دن کے وقت اپنے پروں کو ہلائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ میرے پیچھے آئیں، اور آپ کو اس کی پابندی کرنی ہے۔

پیر کو فیس بک پر پائلٹوں کے ایک گروپ میں بہت سے پائلٹ بیلاروس میں ہونے والے واقعے پر بحث کر رہے تھے۔ بہت سے لوگوں نے پائلٹوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ کہا کہ انھیں ملٹری جیٹ کا منسک تک پیچھا نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ جہاز اپنی پرواز لتھیوئینیا جا کر مکمل کرتا۔

لیکن اس بارے میں کپتان کا کہنا ہے کہ 'اگر ایک ملٹری جہاز آپ کو روکتا ہے اور آپ کو کچھ کرنے کا کہتا ہے یا حکم دیتا ہے تو آپ کو ایسا ہر صورت میں کرنا ہے۔ یہ بلکہ ایسا ہی ہے جیسا کہ زمین پر آپ کو پولیس روک کر کچھ کرنے کا کہتی ہے۔‘

پائلٹ، عملے اور مسافروں کے لیے پریشانی

ہر پرواز کا ایک فلائٹ پلان ہوتا ہے جو کہ یورو کنٹرول کو دیا جاتا ہے۔ اس میں ہر چیز موجود ہوتی ہے۔ رن وے پر سے جہاز کے اڑنے سے لے کر فلائٹ کا راستہ اور یہ کہ فلائٹ کہاں لینڈ کرے گی۔ لیکن ملٹری انٹرسیپشن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ فلائٹ پلان کھٹائی میں پڑ جاتا ہے۔

ایک بڑی برطانوی ائیرلائن کے ساتھ کام کرنے والے پائلٹ کہتے ہیں کہ 'پائلٹ ایسی صورت میں بہت زیادہ پریشان ہوتے ہیں۔ انھیں نہیں پتا کہ کیا ہو رہا ہے، ہم کہاں جارہے ہیں؟ وہاں ائیرپورٹ کیسا ہوگا؟ وہاں کا موسم کیسا ہوگا؟ ہمارے پاس اپروچ پلیٹس نہیں ہیں، یہ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو کہ مجھے پریشان کریں گی۔’

مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کی ملٹری دخل اندازی کے دوران پائلٹ کو جو نیا راستہ لینا ہے وہ اس حوالے سے مکمل طور پر تیار نہیں ہوتے، یہی وجہ ہے کہ اس میں سب کے لیے زیادہ خطرہ ہے۔

ایوی ایشن انڈسٹری میں موجود ایک سینیئر اہلکار کے مطابق فلائٹ پلان کے غیر موجودگی میں پائلٹ کی فیصلے لینے کی صلاحیت میں کمی آتی ہے اور ساتھ ہی آپ یہ نہیں پلان کر پاتے کہ جہاز کو کیسے زمین پر حفاظت سے اتارنا ہے۔

اس واقعے کے بعد برطانوی فلائٹس کو اب ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بیلاروس کے فضائی حدوں میں نہ جائیں۔

برطانوی ٹرانسپورٹ سیکرٹری گرانٹ شاپس نے پیر کو ایک ٹوئیٹ میں بتایا کہ انھوں نے برطانوی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو ایسا کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقنی بنایا جائے۔ بیلاروس کی قومی ائیرلائن بیلاویا کے فضائی پرمٹ کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

اس واقعے کے بارے میں ابھی بہت سی معلومات منظر عام پر آنا باقی ہیں۔

سفارتی و سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے ایوی ایشن سے تعلق رکھنے والے تمام ذرائع نے اس آرٹیکل میں اپنا نام شامل کرنے سے معذرت کی ہے۔