ریئلٹی شو میں دلہنوں کے کنوار پن کی جانچ دکھانے پر فرانسیسی وزیر برہم

Marlène Schiappa

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفرانسیسی وزیر میرلین شیاپا نے اس شو کی سخت مخالفت کی ہے

فرانس کی حکومت نے ملک میں نشر ہونے والے ایک ریئلٹی ٹی وی شو کی مذمت کی ہے جس میں نوجوان دلہنوں کو اپنے کنوارے ہونے کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔

شہری امور کی وزیر میرلین شیاپا نے فرانس کے نشریاتی نگراں ادارے سی ایس ایس کو لکھا ہے کہ انھیں ناقابل یقین خانہ بدوش سٹائل کی شادیوں کو دیکھ کر بہت غصہ آیا جن میں ایک غیر ضروری رسم کو دکھایا گیا جس کے تحت چند رشتہ دار خواتین شادی سے پہلے دلہن کا معائنہ کرتی ہیں۔

چینل فور کے پروگرام ’بگ فیٹ جپسی ویڈنگ‘ سے متاثر فرانسیسی شو میں جنوبی قصبے پریپیگن کی کیٹالان گیٹان نامی برادری کی روایات پر عمل کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فروری میں نشر کیے جانے والے پروگرام میں اُس پرتعیش بستر کی تیاری بھی دکھائی گئی جس پر یہ رسم ادا کی جانی تھی۔

اس دوران جو کمنٹری کی گئی اس میں کہا گیا کہ ’اس بستر پر ناؤمی نامی لڑکی کے ’ہائمن نامی نازک ریشوں‘ کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ یہ رومال سے ادا کی جانے والی رسم آبائی اور ناگزیر ہے۔ اگر ناؤمی کے شادی سے قبل کسی سے جنسی تعلقات رہے تو یہ شادی منسوخ کر دی جائے گی۔‘

کچھ دوسرے مناظر میں خواتین وضاحت کرتی ہیں کہ ایسا کرنا کیوں اہم ہے۔ ایک خاتون بتاتی ہیں کہ ’یہ لڑکے کے خاندان کے لیے ہے تاکہ انھیں معلوم ہو سکے کہ ان کے بیٹے کو ایک خوبصورت اور کنواری لڑکی ملی ہے۔‘

ایک دوسری خاتون کہتی ہیں کہ ’اسے بچپن سے ہی یہ بتایا گیا ہے کہ اسے سب ملبوسات حاصل کرنے اور شادی کرنے کے لیے اس رسم سے گزرنا ہے۔‘

Facebook page advertising the episode

،تصویر کا ذریعہTFX

،تصویر کا کیپشنفیس بک پوسٹ جس میں اس متنازع پروگرام کی تشہیر کی گئی تھی

جب ان سے پوچھا گیا کہ مردوں سے بھی ایسے ہی سوال کیے جاتے ہیں تو جواب ملا ’ایسا نہیں ہوتا۔ اگر نوجوان مرد باہر جا کر پارٹی نہیں کرتا یا دوسری لڑکیوں سے نہیں ملتا تو شادی کے بعد اسے اس کا موقع نہیں ملے گا۔ اسے یہ تجربہ کرنا ہوتا ہے۔‘

وزیر میرلین شیاپا نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ اس پروگرام کے غیر یقینی انداز پر کافی ناراض ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارے ہاں شادی کے پورے نظام کو بنا کسی تفسیر کے پیروں تلے روند دیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام مناظر باغیانہ اس لیے بھی تھے کیونکہ قومی اسمبلی نے حال ہی میں کنوار پن کے ٹیسٹ پر پابندی عائد کرتے ہوئے شادی کے لیے فریقین کی رضا مندی کو لازمی قرار دیا ہے۔

سینیٹ کے پاس زیر غور فرانس کے علیحدگی سے متعلق قانون کے مطابق ڈاکٹروں کے لیے کنوار پن کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنا غیر قانونی ہو گا۔ یہ قانون خصوصا فرانس کی مسلمان برادری کے لیے ہے جہاں کچھ خاندان شادی سے پہلے کنوار پن کا ثبوت طلب کرتی ہیں۔ اس عمل کی شدت متنازع ہے۔

ایسے سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے ڈاکٹرز کو ایک سال قید اور 15 ہزار یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اور غیر پیشہ ور افراد جو ایسے ٹیسٹ کریں گے، چاہے اس میں خاتون کی رضامندی بھی شامل ہو، ان پر ریپ کے چارجز لگائے جا سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہائمن (اندام نہانی) کو دیکھنے یا انگلیوں سے جانچ کرنے پر بھی یہ علم نہیں ہو سکتا کہ کوئی لڑکی کنواری ہے یا نہیں۔ اور یہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔