نائیکی نے انسانی خون والے ‘شیطانی جوتوں‘ کی فروخت کے خلاف مقدمہ جیت لیا

جوتے اور سپورٹس کا سامان بنانے والے بین الاقوامی برانڈ نائیکی نے بروکلن آرٹ کولیکٹیو ایم ایس سی ایچ ایف کے خلاف شیطانی جوتوں کی فروخت کا مقدمہ جیت لیا ہے۔

نائیکی کمپنی نے فنون لطیفہ کے حوالے سے کام کرنے والی فلاحی تنظیم بروکلین آرٹ کولیکٹیو ایم ایس سی ایچ ایف کے خلاف ایک متنازع ’شیطانی جوتا‘ بنانے پر مقدمہ دائر کیا تھا۔

نائیکی کا موقف تھا کہ کمپنی کے جملہ حقوق چوری کیے گئے ہیں۔ ان جوتوں کے تلووں میں لال روشنائی ڈالی گئی ہے جس میں اصلی انسانی خون کا ایک قطرہ بھی شامل ہے۔

آرٹ کولیکٹیو نے نائیکی کمپنی کے تیار کردہ ائیر میکس 97s میں تبدیلی لا کر ایک ایسا جوتا تیار کیا ہے جس پر الٹی صلیب اور پینٹا گرام (یعنی پانچ کونوں والا ستارہ) بنائے گئے ہیں اور جوتوں پر مسیحی مقدس کتاب بائیبل کے الفاظ ’لیوک 10:18‘ واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آرٹ کولیکٹو نے یہ جوتے ریپر لل ناس کے ساتھ اشتراک میں تیار کیے تھے اور ایسے 666 جوڑے ریلیز کیے گئے جو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں فروخت ہو گئے۔

نائیکی کا موقف تھا کہ اس کے جملہ حقوق چوری ہوئے ہیں اور کمپنی نے نیو یارک کی ایک عدالت میں ان جوتوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور ساتھ ہی عدالت سے ان جوتوں کی فروخت کو روکنے کی بھی درخواست کی تھی۔ کمپنی نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایس سی ایچ ایف کے جوتوں پر ان کے مقبول ڈیزائن سے صارفین کو یہ لگ رہا ہے کہ یہ جوتے نائیکی نے ریلیز کیے ہیں۔

ایم ایس سی ایچ ایف کا موقف ہے کہ یہ خاص جوتے تھے اور صرف 666 جوڑے تیار کیے گئے تھے جو کہ آرٹ کولیکٹرز کو فروخت کیے گئے ہیں۔ ہر جوتے کی قیمت تقریباً ایک ہزار اٹھارہ ڈالر ہے۔

جج صاحبان نے نائیکی کی درخواست منظور کرتے ہوئے فی الحال ان جوتوں کی فروخت روک دی ہے۔ اس مقدمے کے فیصلے کے اثرات پوری طرح سے واضع نہیں ہیں کیونکہ ایم ایس سی ایچ ایف پہلے ہی یہ کہہ چکی ہے کہ وہ ان جوتوں کے مزید جوڑے نہیں بنائے گی۔

ایم ایس سی ایچ ایف نے یہ جوتے رپیر کو لِل نیس کے نئے گانے کے ساتھ ریلیز کیے تھے۔ یہ گانا یوٹیوب پر گزشتہ ہفتے ریلیز کیا گیا تھا۔

ریپر لِل نیس نے، جنھوں نے گزشتہ برس یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں، اس گانے میں اپنے جنسی رجحان کا جشن منایا ہے۔

میوزک ویڈیو میں ریپر نے یہی متنازع جوتے پہن رکھے ہیں اور وہ ایک کھمبے سے نیچے اترتے دیکھائی دیتے ہیں جو کہ علامتی طور پر ان کے جنت سے دوزخ میں گرنے کا عمل ہے۔

شیطانی خاکے کے ساتھ ان جوتوں پر بائبل کی آیت لیوک 10:18 کا حوالہ درج ہے کہ ’اس نے لوگوں کو بتایا کہ میں نے شیطان کو جنت سے بجلی کی طرح گرتے دیکھا ہے۔‘

ہر جوتا نائیکی کے خاص انداز پر تیار کیا گیا ہے، جن کے تلوے کافی نرم ہوتے ہیں۔ اس میں 60 کیوبک سینٹی میٹر سرخ سیاہی استعمال ہوئی ہے اور ایک قطرہ انسانی خون کا شامل ہے جو آرٹ کولیکٹیو کے ممبران نے عطیہ کیا ہے۔

نائیکی نے نیو یارک میں عدالت کو بتایا کہ اس نے اس طرح کے شیطانی جوتے بنانے کی منظوری دی اور نہ ہی ان کو بنانے کے اختیارات دیے ہیں۔

نائیکی نے یہ بھی کہا کہ ان جوتوں کی وجہ سے مارکیٹ میں پریشانی پیدا ہوگئی ہے اور لوگوں نے نائیکی کے خلاف بائیکاٹ کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ لوگوں کو یہ تاثر مل رہا ہے کہ یہ جوتے نائیکی نے بنائے یا منظور کیے ہیں۔

اس مقدمے میں جوتوں کے معروف انفلوئینسر ’سینٹ‘ کی ایک ٹویٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ نائیکی کا کہنا ہے کہ اس سے شوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر اس جوتے کی تشہیر اور مقبولیت میں اضافہ ہوا۔

ریاست جنوبی ڈکوٹا کی گورنر کرسٹی نوئم سمیت کچھ قدامت پسندوں اور کچھ مذہبی پیروکاروں نے جوتے کے متنازع ڈیزائن پر ٹوئٹر پر لِل نیس ایکس اور ایم ایس سی ایچ ایف پر شدید تنقید کی ہے۔

لل نیس نے گورنر، نائیکی اور دوسرے ٹوئٹر ناقدین کی ٹویٹس کے جواب میں بہت سی میمز ٹویٹ کی ہیں۔

ٹینیسی سے تعلق رکھنے والے جوزیف راش نے یہ جوتے ایک ہزار اسی ڈالر میں خریدے اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات سے پریشانی ہے کہ اس سارے تنازعے میں ان کے پیسے ضائع ہو جائیں گے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں امید ہے کہ یہ جوتے انھیں ملیں گے کیونکہ وہ پہلے ہی اس کے پیسے کمپنی کو دے چکے ہیں۔ انھوں نے کہا یہ جوتے انھوں نے پہننے کے لیے نہیں خریدے تھے بلکہ اس کے پیچھے وجہ ان کے سیاسی نظریات تھے۔

'میں ایک سیاہ فام ہم جنس پرست شخص کی مدد کرنا چاہتا تھا، جو کہ ایک عیسائی اکثریت والے ملک میں رہتے ہیں اور یہاں انھیں بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ اس سے بہتر کیا ہوسکتا ہے کہ آپ وہ جوتا خریدیں جو اس نے کمپنی کے ساتھ مل کر بنایا ہے۔'

ساؤتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ایک اور خریدار کا، جو کہ ایم ایس سی ایچ ایف کے بہت عرصے سے حمایتی ہیں، کہنا ہے کہ اس مقدمے کی وجہ سے ان کے اس جوتے کو ای بے پر 2500 ڈالر میں فروخت کرنے کے ارادوں پر پانی پھر گیا ہے اور ای بے نے ان کی لسٹنگ ہٹا دی ہے۔