مصر کے ’جلاوطن‘ ٹی وی چینلز کو ترکی میں بھی مشکلات کیوں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصر میں سنہ 2011 کے عوامی انقلاب کے بعد ملک میں اختلافی آوازوں کو جگہ دینے کے لیے اچانک ذرائع ابلاغ کے شعبے میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور کئی نئے نشریاتی اداروں نے کام شروع کر دیا۔
لیکن صرف دو سال کے قلیل عرصے کے بعد ملک میں ایک اور سیاسی تبدیلی آئی۔ دائیں بازو کی جماعت اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے لیے بھی زندگی تنگ کر دی گئی اور اختلاف رائے کا ایک مرتبہ پھر گلا گھونٹ دیا گیا۔
حزب اختلاف کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ذرائع ابلاغ نے بھی حکومت مخالف رہنماؤں کی راہ پر چلتے ہوئے جلا وطنی کا راستہ اختیار کیا۔ اس وقت کے سیاسی ماحول میں ترکی ہی ان سب کی مشترکہ منزل بنی۔
بہت سے نئے چینل اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکے لیکن چند چینل جن میں وطن ٹی وی، الشرق، قناۃ، مکملین اور الفضائية المصرية شامل ہیں انھوں نے استنبول میں پناہ لی جہاں انھیں اپنے نظریات کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے سازگار ماحول میسر آیا۔
یہ بھی پڑھیے
تاہم حالیہ دنوں میں یہ ماحول بدلنے لگا ہے۔ مصر کے بارے میں اب انقرہ کی سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے اور وہ مصر سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش میں ہے۔ بدلتے ہوئے حالات میں اب ان چینلوں کو مصری حکام اور صدر عبدالفتح السیسی پر اپنی کڑی تنقید میں نرمی پیدا کرنا ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
چند حقائق
مکلمین اور الشرق نے استنبول سے اپنی نشریات سنہ 2014 میں شروع کی تھیں جبکہ الوطن کی بنیاد سنہ 2015 میں رکھی گئی اور اس کی نشریات سنہ 2016 میں شروع ہوئی۔
مکلمین کے سربراہ احمد الصناف ہیں جو ایک نیوز نیٹ ورک کے مدیر بھی ہیں اور وہ سنہ 2011 کے عوامی احتجاج میں نوجوان مظاہرین کے لیے اطلاعات حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ تھے۔ اس ٹی وی چینل کا الاخوان المسلمین کی طرف جھکاؤ بہت واضح تھا۔
الشرق ٹی وی چینل کے چیئرمین حزب اختلاف کے ایک سرکردہ سیاستدان ایمان نور ہیں جو سنہ 2005 کے صدارتی انتخابات میں صدر حسنی مبارک کے مدمقابل تھے۔
نور اپنے آپ کو ایک لبرل اور سیکولر سیاستدان کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن سنہ 2011 کے بعد وہ دائیں بازو اور اسلام پسند قوتوں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ ان کے چینل کے لہجے میں اخوان المسلمین اور سابق صدر مرسی کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی اور انھوں نے جائز حکومت کی بحالی کی بات کرنا شروع کی۔
ایک سرکاری ویب سائٹ یوم 7 کے مطابق وطن ٹی وی کا قیام الاخوان المسلمین کے رہبر اعلی محمود حسین کے براہ راست احکامات کے تحت عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کے سامعین کی تعداد اپنے مدمقابل ٹی وی چینل سے بہت کم ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے اپنے الفاظ میں
استنبول میں مسجد رابعہ العدویہ کے دھرنے کو ختم کرنے کی پرتشدد کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے موقع پر چینل کے چیئرمین احمد الصناف نے کہا کہ خاص طور پر مصر کی فوجی حکومت کی طرف سے ذرائع ابلاغ پر جو پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اس کے تناظر میں نشر و اشاعت کا کام ان کی زندگی کا مقصد بن گیا ہے اور اس کی ترقی ان کا فرض۔
استنبول سے نشر ہونے والے مصر کے ٹی وی چینلوں کو اپنی پالیسی کو تبدیل کرنے کے بارے میں سرکاری ہدایات کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ایمان نور نے قطر کے بین الاقوامی چینل الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں اپنی طرز میں صحافتی ضابطوں کے تحت تبدیلی کرنے کو کہا گیا ہے۔ انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ الاخوان المسلمین کی سرکردہ شخصیات کو ترکی سے نکال دیے جانے کا امکان ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہماری اپنے ترک بھائیوں کے ساتھ بات چیت شروع ہو گئی ہے کہ کیسے چینل کے بیانیے اور زبان میں تبدیلی لائی جائے لیکن اس کی ہیت کو بدلنے کی بات نہیں ہوئی۔ ہمیں چینل کو بند کرنے یا اس کے پروگراموں کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔‘
وطن ٹی وی اپنے لنکڈاِن کے صفحے پر اپنے آپ کو ایک غیر منافع بخش اور اشتہارات پر نہ چلنے والے ایک ایسے ادارے کے طور پر پیش کرتا ہے جس کا مقصد مصر کے انقلاب اور عربوں کی آزادی سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسروں کا کیا کہنا ہے؟
مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے سنہ 2018 میں عالمی یوتھ فورم پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جو کوئی بھی ملک سے باہر بیٹھ کر ٹی وی چینلوں پر بات کر رہا ہے میں قسم کھاتا ہوں کہ ان کا احتساب ہو گا جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، انھیں دھوکہ دیتے ہیں اور ان کی امیدوں کا خون کرتے ہیں ان کو جوابدہ بنایا جائے گا۔‘
مصر کے سرکاری ٹی وی چینل کے میزبان احمد موسیٰ نے جنوری 2021 میں کہا تھا کہ ’ان تمام دھوکے باز چہروں کو مصر کے حوالے کیا جائے گا، کم سے کم ان کے چینل بند کر دیے جائیں گے۔ مصر کے شہدا کی جانوں کی قیمت اتنی کم نہیں اور انھیں قمیت ادا کرنی پڑے گی۔‘
احمد موسیٰ نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ ترکی سے نشر ہونے والے چینلوں کو حکومت کی بات کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا اور ساتھ ہی انھوں نے اپنے اس دعوئے کو بھی دہرایا کہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والوں کو اکسانے میں ان کا ہاتھ ہے۔
مصر کے اطلاعات و نشریات کے وزیر مملکت نے 19 مارچ کو ایک بیان میں کہا کہ ترک حکام نے مصر کے نشریاتی اداروں کے خلاف جو اقدام کیا ہے وہ خیر سگالی کے تحت کیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان کئی برس سے حل طلب مسائل کو ختم کیا جا سکے اور بات چیت کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مصر کے ایک نامی گرامی ٹی وی میزبان حفیظ المیرازی نے 19 مارچ کو فیس بک پر کہا کہ ’اگر لوگ ترکی سے ٹی وی پروگرام کرنے والے میزبانوں پر بغاوت اور بیرونی قوتوں کے لیے کام کرنے کا الزام لگائیں گے تو انھیں خلیجی ممالک کی مالی امداد سے قاہرہ سے چلنے والے چینلوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔‘
ان کے اس پیغام کا اشارہ مصر کے ان نشریاتی اداروں کی طرف تھا جو خلیجی ممالک کے زیر اثر ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ مفاہمت کی قیمت ہے اور اس کا مطلب حکمرانوں کی فتح اور ذرائع ابلاغ کی شکست ہے۔ طاقتور حکام اور کمزور ذرائع ابلاغ کے درمیان رشتوں میں یہ سودے بازی کوئی نئی بات نہیں۔‘








