بِٹ کوائن فراڈ: باراک اوباما، بل گیٹس اور دیگر سلیبریٹیز کے ٹوئٹر اکاؤنٹس ہیک کرنے والے نوجوان کا اعترافِ جرم

،تصویر کا ذریعہHILLSBOROUGH COUNTY SHERIFF'S OFFICE
ایک امریکی نوجوان نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ایک بڑے بٹ کوائن فراڈ کے لیے کئی مشہور شخصیات کے ٹوئٹر اکاؤنٹس ہیک کیے۔
گراہم آئیوان کلارک 17 سال کے تھے جب اُنھوں نے اس فراڈ کی منصوبہ بندی کی جس میں کئی سلیبریٹیز بشمول کِم کارڈیشیئن ویسٹ، کانیے ویسٹ، ایلون مسک، بل گیٹس اور باراک اوبامہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹس ہائی جیک کیے گئے۔
فلوریڈا کی عدالتی دستاویزات کے مطابق اب وہ اقبالِ جرم کے معاہدے کے تحت تین سال جیل میں گزاریں گے۔
وہ اپنی تین سالہ سزا کے 229 دن پہلے ہی جیل میں گزار چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ اب 18 سال کے ہوچکے ہیں مگر اُنھیں 'کم سن مجرم' کے طور پر سزا دی گئی ہے اور اخبار ٹامپا بے ٹائمز کے مطابق وہ اپنی کچھ سزا ایک بوٹ کیمپ میں بھی گزار سکیں گے۔
مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اجازت اور نگرانی کے بغیر کلارک کمپیوٹرز استعمال نہیں کر سکیں گے۔
یہ فراڈ کیسے کیا گیا؟
گذشتہ سال 15 جولائی کو مشہور ٹوئٹر اکاؤنٹس ہائی جیک کر کے فالوورز سے کہا گیا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے امدادی منصوبوں کے لیے بِٹ کوائن کا عطیہ کریں۔
بل گیٹس کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی گئی: 'ہر کوئی مجھ سے کہہ رہا ہے کہ میں لوگوں کی مدد کروں۔ آپ مجھے ایک ہزار ڈالر بھیجیں، میں آپ کو دو ہزار ڈالر واپس بھیجوں گا۔'
اس فراڈ کے ذریعے ایک لاکھ 17 ہزار ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی جمع کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
کلارک کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ پوری رقم حکام کے حوالے کر دی گئی ہے تاکہ یہ دھوکہ دہی کے شکار لوگوں کو واپس کر دی جائے۔
الزام تھا کہ اس جرم کا ’ماسٹر مائنڈ‘ کلارک ہے جس نے ٹوئٹر کے ایک اہلکار کا روپ دھار کر ادارے کے نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کی اور دو دیگر ہیکرز کے ساتھ مل کر یہ واردات مکمل کی۔
اورلینڈو سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نیما فاضلی اور انگلینڈ کے قصبے باگنار ریجس سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ میسن شیپرڈ پر بھی وفاقی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
میسن شیپرڈ کے خاندان نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور برطانوی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ 'مجرموں کی حوالگی کی درخواست پر تبصرہ' نہیں کرتے۔











