لاپتہ کرپٹو کوئین: برطانوی ادارے نے ’ون کوائن‘ سے متعلق تنبیہ اپنی ویب سائٹ سے کیوں اتاری؟

ڈاکٹر روجا
    • مصنف, جیمی بارٹلٹ
    • عہدہ, دی مسِنگ کرپٹو کوئین کی میزبان

جون 2016 میں ڈاکٹر روجا اگناتووا نے لندن کے مشہور ’ویمبلی ایرینا‘ سٹیڈیم کے سٹیج پر کھڑے ہو کر ہزاروں افراد پر مشتمل ایک مجمعے کو بتایا تھا کہ ان کی نئی کرپٹو کرنسی، ون کوائن، جلد ہی دنیا بھر میں مشہور ’بٹ کوائن‘ کرنسی کو بہت پیچھے چھوڑ دے گی۔

انھوں نے وہاں موجود لوگوں کو یہ خوشخبری بھی دی کہ ان کی نئی کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والے ابتدائی سرمایہ کار بہت جلد امیر کبیر ہو جائیں گے۔

مجمعے میں موجود بہت سے افراد پہلے ہی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی نئی کرپٹو کرنسی یعنی ون کوائن خریدنے میں جھونک چکے تھے جبکہ ڈاکٹر روجا کی جانب سے دی جانے والی خوشخبری کے بعد دوسرے بہت سوں نے ایسا کرنے کا فیصلہ کیا۔

دنیا بھر سے مختلف لوگوں نے لگ بھگ دو ارب برطانوی پاؤنڈ کے مساوی رقم ون کوائن خریدنے میں لگائی اور ان متاثرین میں ہزاروں برطانوی خاندان بھی تھے۔

یہ بھی پڑھیے

پھر سنہ 2017 کے اختتام پر ڈاکٹر روجا اچانک منظر عام سے غائب ہو گئیں اور ان کی کرپٹو کرنسی کی سکیم ایک جعل سازی ثابت ہوئی۔ درحقیقت ان کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی کرپٹو کرنسی اپنا وجود ہی نہیں رکھتی تھی۔

میں نے 18 ماہ تک اس سکینڈل کو بی بی سی ساؤنڈز کے لیے پوڈ کاسٹ دی مسنگ کرپٹوکوئین کے لیے ہماری پروڈیوسر جارجیا کیٹ کے ساتھ مل کر اس معاملے کی تفتیش کی۔

ایک وقفے کے بعد ہم گذشتہ ہفتے ایک نئی قسط کے ساتھ واپس آئے جس میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے برطانوی ادارے فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی پر بھی گفتگو کی گئی تھی۔

لندن کے ’ویمبلی ایرینا‘ سٹیڈیم میں جون 2016 میں ہونے والی ڈاکٹر روجا کی تقریب کے لگ بھگ تین ماہ بعد اپنی ویب سائٹ پر ایک انتباہ جاری کیا تھا کہ ون کوائن میں سرمایہ کاری سے ہوشیار رہیں۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ون کوائن آرگنائزیشن کی تفتیش لندن پولیس بھی کر رہی ہے۔

ڈاکٹر روجا

،تصویر کا ذریعہOneCoin

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر روجا اپنے ہزاروں مداحوں کے سامنے لندن کے مشہور سٹیڈیم 'ویمبلی ایرینا' میں ون کوائن کے بارے میں بتاتے ہوئے

تنبیہ میں لکھا گیا تھا کہ ’یہ تنظیم (ون کوائن) ہماری جانب سے اجازت حاصل کر کے کام نہیں کر رہی تاہم ہمارا یہ ماننا ہے کہ یہ جو کام کر رہی ہے اس کو ہماری اجازت کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ مگر ہمیں خدشہ ہے کہ یہ صارفین کے لیے ایک بہت خطرناک چیز ہے۔‘

اس تنبیہی پیغام سے کچھ لوگوں کے لیے تو ون کوائن کی تشہیر کرنے والوں کے دعوؤں کا راز کھل گیا۔ اور ون کوائن کے ناقدین بھی دن رات ایف سی اے کا یہ پیغام نئے سرمایہ کاروں کو بھیجنے کی کوشش کرتے تھے۔

مگر یکم اگست 2017 کو جب یہ سکیم پورے زور و شور سے جاری تھی ایف سی اے نے اپنی یہ وارننگ ویب سائٹ سے اتار لی۔ اب ڈاکٹر روجا کے لیے خوشی منانے کا وقت تھا۔

ایک ریٹائرڈ وکیل ڈیوڈ ہوپر کا کہنا ہے کہ ایف سی اے کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے تھا کہ وارنگ ہٹانے کو ون کوائن والے اپنی فتح کے طور پر پیش کریں گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔

ون کوائن کی تشہیر کرنے والوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ایف سی اے اب اس کرنسی کو ہر طرح کے خطرے سے محفوظ سمجھتی ہے۔ اسی دعویٰ کو انھوں نے وارننگ ہٹانے کی بنیاد بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا اور کہنے لگے کہ اگر ایف سی اے کو اس سے کوئی خطرہ لگتا تو وہ اپنی وارننگ کبھی نہ ہٹاتے۔

ادھر ڈاکٹر روجا نے اپنے ناقدین کو بہت سے قانونی نوٹس بھیجنا شروع کر دیے کہ ان پر تنقید کرنے والے اپنے پوسٹ ہٹائیں ورنہ وہ عدالت کا رخ کریں گی۔ ان پوسٹس میں لوگوں کے دعوے تھے کہ یہ تنظیم ایک ’پیرامڈ‘ سکیم ہے اور اسے ایک جرائم پیشہ تنظیم چلاتی ہے۔

ڈاکٹر روجا کے وکلا کو یہ بات سمجھ آگئی تھی کہ ایف سی اے نے اپنی اختیارات سے تجاوز کر کے ون کوائن کے خلاف وارننگ کا اجرا کیا تھا اسی لیے انھوں نے دباؤ ڈلوا کر ایف سی اے کی ویب سائٹ سے یہ وارننگ ہٹوائی تھی۔

ڈاکٹر روجا اگناتووا

،تصویر کا ذریعہSHUTTERSTOCK

بہت زیادہ تشہیر

ہر نگران ادارے کا اپنا دائرہِ کار ہوتا ہے۔ ایف سی اے مالیاتی معاملات اور سروسز کی نگرانی کرتی ہے۔ مگر ان کے دائرہِ کار میں کون سے معاملات آتے ہیں، یہ کبھی کبھی مبہم ہو جاتا ہے، خاص کر نئی نئی چیزیں۔ اور کرپٹوکرنسیز تو اس قدر نئی چیز تھیں کہ انھیں آج بھی ایف سی اے کے دائرہِ کار سے باہر مانا جاتا ہے۔

جب ایف سی اے نے ون کوائن کے بارے میں وارنگ ہٹائی تو اس موقعے پر ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ وارنگ ہماری ویب سائٹ پر اتنا عرصہ رہی ہے کہ سرمایہ کاروں کو ہمارے خدشات کا پتا چل گیا ہو گا۔

مگر ایف سی اے کی ویب سائٹ پر بہت سی وارنگز کئی سالوں تک بھی رہی ہیں یہاں تک کہ کئی دہائیوں تک بھی۔ اور جب ون کوائن کی وارنگ ہٹائی گئی تب یہ جعل سازی کی سکیم پورے زور و شور سے جاری تھی۔

جب ہم نے ایف سی اے سے دوبارہ پوچھا تو معلوم ہوا کہ ابتدائی وارننگ لندن پولیس کے کہنے پر لگائی گئی تھی اور ہٹاتے وقت بھی پولیس سے مشورہ کیا گیا تھا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ’ایسا نہیں لگتا تھا کہ ون کوائن جن سرگرمیوں میں ملوث ہے ان کے لیے اسے ایف سی اے کی اجازت درکار ہے۔‘

’ایف سی اے کرپٹو کرنسیز کی نگرانی نہیں کرتی اور اس لیے وہ اس معاملے کو آگے لے کر نہیں چل سکتی تھی۔ اس حوالے سے دیگر سوالات لندن پولیس کو بھیجے جائیں۔‘

ہم نے جب لندن پولیس سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ وارنگ صرف ایف سی اے کی ذمہ داری تھی۔ لندن پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’لندن پولیس کو بتایا گیا تھا کہ ایف سی اے ون کوائن کے حوالے سے وارننگ اپنی ویب سائٹ سے اتار رہی ہے اور اسں کی کیا وجوہات ہیں۔ لندن پولیس نے ادارے کے فیصلے کو تسلیم کر لیا کیونکہ یہ ان کی جانب سے جاری کردہ تنبیہ تھی۔‘

ہم پھر ایف سی اے کے پاس گئے یہ پوچھنے کہ کن وجوہات کی بنا پر وارننگ اتاری گئی تو ادارے نے بیان دینے سے انکار کر دیا۔

آخر کار لندن پولیس نے بھی اپنی تفتیش یہ کہہ کر بند کر دی کہ ان کے پاس 'فوجداری کارروائی کے لیے ناکافی شواہد ہیں'، مگر امریکی حکام نے ون کوائن سے حاصل ہونے والے 40 کروڑ ڈالر کی لانڈرنگ میں مدد کرنے والے ایک وکیل کو سزا دلوانے میں مدد کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

مگر یہ سب پیش رفت دو سال بعد یعنی سنہ 2019 میں کی گئی۔ اور ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ایک مرتبہ وارننگ جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا تو پولیس اور ایف سی اے کو اپنے فیصلے پر قائم رہنا چاہیے تھا۔

وکیل ڈیوڈ ہوپر کہتے ہیں کہ ’ان پر ذمہ داری تھی کہ وہ ون کوائن کو شفاف ظاہر کیے جانے میں اپنا کردار ادا نہ کرتے۔‘

ڈاکٹر روجا ابھی مفرور ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ اگر وہ پکڑی جاتی ہیں تو انھیں 80 سال تک سزا ہو سکتی ہے۔ مگر جن ہزاروں لوگوں کی جمع پونجی اس سکیم میں غائب ہوگئی ان کو شاید انصاف نہ ہی ملے۔ اور ان میں سے بہت سوں کا خیال ہے کہ برطانوی حکام کو اپنی پبلک کی حفاظت کرنی چاہیے تھی یا کم از کم اپنی وارننگ سے واپس نہیں لینا چاہیے تھا۔

ڈاکٹر روجا زیر زمین چلی گئی تھیں یعنی غائب۔ سنہ 2019 کے شروع میں امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی کی جو دستاویزات سامنے آئی تھیں ان کے مطابق 25 اکتوبر 2017 کو وہ صوفیہ سے ایتھنز جانے والی رائن ایئر کی ایک پرواز پر سوار ہوئی تھیں۔ اور اس کے بعد وہ بالکل غائب ہو گئیں۔ یہ آخری دن تھا جب کسی نے ڈاکٹر روجا کو دیکھا یا ان کے بارے میں سُنا۔

بٹ کوائن

،تصویر کا ذریعہReuters

کرپٹو کرنسی کیا ہوتی ہے؟

اس چیز کو سمجھنا خاصا مشکل ہے۔ آپ انٹرنیٹ پر جائیں تو آپ کو کرپٹو کرنسی کے بارے میں سینکڑوں مختلف آرا نظر آئیں گی جن میں کچھ کو پڑھ کر آپ حیران رہ جاتے ہیں اور کچھ ایسی ہیں جو صاف دکھائی دیتا ہے کہ کسی ماہر کی لکھی ہوئی نہیں ہیں۔

رائے میں اختلاف اپنی جگہ، لیکن ایک بات آپ کو فوراً سمجھ آ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی بھی کرنسی کی قیمت یا قدر اتنی ہی ہوتی ہے جتنی لوگ سمجھتے ہیں۔ چاہے یہ بینک آف انگلینڈ کے جاری کردہ کرنسی نوٹ اور سِکّے ہوں، قیمتی پتھر ہوں یا اس قسم کی کوئی اور چیز۔ کوئی بھی کرنسی اسی وقت کام کرتی ہے جب ہر کوئی اسے تسلیم کرتا ہے۔

کافی عرصے سے لوگ اس کوشش میں رہے ہیں کہ وہ کوئی ایسی ڈیجیٹل کرنسی بنائیں جو ملکی سرحدوں کی محتاج نہ ہو اور اس کا انحصار کسی خاص ملک کی کرنسی پر نہ ہو۔

لیکن ان لوگوں کو ہمیشہ ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا کیونکہ کوئی بھی ان پر یقین نہیں کرتا تھا۔ لوگوں کو ہمیشہ اس بات کی ضرورت رہتی تھی کہ کوئی ایسا ادارہ یا شخص ہونا چاہیے جو اس کرنسی کی سپلائی کو اوپر نیچے کر سکے اور دوسرا یہ کہ ڈجیٹل کرنسی کی نقل بنانا بھی بہت آسان ہوتا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ بِٹ کوائن کے آنے پر بہت سے لوگ خوش ہوئے اور انھیں یقین ہونے لگا کہ اس میں کسی قسم کے مسائل کا سامنا نہیں کرنے پڑے گا۔

بِٹ کوائن کا انحصار ایک خاص قسم کے ڈیٹا بیس پر ہے جسے بلاک چین کہا جاتا ہے۔ بلاک چین ایک قسم کی بہت بڑی کتاب ہے اور اگر آپ بِٹ کوائن خریدتے ہیں تو اس کتاب کا ایک نسخہ یا کاپی آپ کو بھی مل جاتی ہے۔

مثلاً میری طرف سے جب بھی ایک بِٹ کوائن کسی دوسرے شخص کو بھیجا جاتا ہے، یہ چیز اس کتاب میں نوٹ ہو جاتی ہے جس کی ایک کاپی بِٹ کوائن کے تمام صارفین کے پاس موجود ہوتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو کوئی حکومت، کوئی بینک اور نہ ہی وہ شخص جو اس بِٹ کوائن کو ایجاد کرتا ہے، اس سکے کو تبدیل کر سکتا۔ اس ساری چیز کے پیچھے ریاضی کے اصول کارفرما ہیں، لیکن نہ تو بِٹ کوائن کی نقل بنائی جا سکتی ہے، نہ ہی بِٹ کوائن کی کتاب کو ہیک کیا جا سکتا ہے اور کسی بِٹ کوائن کو دو مرتبہ خرچ بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔

میں نے یہ ساری بات اپنے خاندان میں اس فرد کو بھی سمجھائی جو ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہو جاتا ہے، یعنی میری والدہ۔ ان کا جواب تھا کہ بیٹا کچھ سمجھ نہیں آئی، پھر سے بتاؤ۔