کیوبا کے تین شہری جو ویران جزیرے پر پھنسنے کے بعد ’33 دن تک ناریل کھا کر زندہ رہے‘

،تصویر کا ذریعہUS COAST GUARD DISTRICT 7
امریکی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ بہاماس میں ایک ویران جزیرے پر تین افراد 33 دنوں تک پھنسے رہے لیکن اب انھیں بچا لیا گیا ہے۔
کوسٹ گارڈ کا عملہ معمول کے مطابق فضائی گشت کر رہا تھا جب انھوں نے دیکھا کہ ’انگوئیلا کے‘ میں یہ افراد ان کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک جھنڈا لہرا رہے تھے۔
کیوبا کے ان شہریوں نے حکام کو بتایا کہ وہ اتنے دنوں تک ناریل کھا کر گزارا کرتے رہے ہیں۔
ریسکیو مشن میں شامل ایک اہلکار جسٹن ڈوہرٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حیران ہوگئے جب انھیں بتایا گیا کہ یہ لوگ اتنی دیر تک یہاں بغیر کسی مدد کے زندہ رہ پائے ہیں۔
پیر کو حکام نے اس گروہ کو فلوریڈا کِیز اور کیوبا کے درمیان ایک جزیرے پر دیکھا۔
کوسٹ گارڈ کے اہلکار رائلی بیچر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گشت پر تھے جب ایک چیز نے ’ان کی توجہ حاصل کی۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ اسے مزید دیکھنے کے لیے کم اونچائی پر فضائی گشت کرنے لگے۔ اس وقت انھوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ اس جزیرے پر بے یار و مددگار ہیں۔
عملے کے پاس انھیں وہاں سے لے جانے کے لیے سامان نہیں تھا۔ لیکن ریسکیو مشن سے قبل ان کے لیے کھانا، پانی اور ریڈیو بھیجا گیا اور ان کے ساتھ رابطہ قائم کیا گیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بیچر کہتے ہیں کہ ’بدقسمتی سے ہمارے ساتھ کوئی ہسپانوی زبان بولنے والا شخص نہیں تھا لیکن میں ٹوٹی پھوٹی ہسپانوی زبان بول پا رہا تھا۔ مجھے پتا چلا کہ وہ کیوبا سے ہیں اور انھیں طبی امداد کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اپنی بات پر اتنا زور ضرور دیا کہ وہ اس جزیرے پر 33 دن سے پھنسے ہوئے ہیں۔‘
اس گروہ میں دو مرد اور ایک خاتون تھیں۔ انھوں نے کوسٹ گارڈ کے عملے کو بتایا کہ جب ان کی کشتی ڈوب گئی تو وہ تیر کر اس جزیرے تک پہنچے۔
جسٹن ڈوہرٹی نے کہا ہے کہ گروہ نے بعد میں بتایا کہ انھوں نے زندہ رہنے کے لیے ناریل سے تمام تر غذائی ضروریات پوری کیں۔
’شروع مں دیکھ کر لگتا ہے کہ اس جزیرے پر کچھ نہیں ہے۔ یہاں پودے اور کچھ درخت ہیں اس لیے یہ لوگ بچ پائے۔‘
امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ چوہے اور سمندری حیات کھا کر زندہ رہے۔
منگل کو آخر کار اس گروہ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا۔ انھیں فلوریڈا میں فوراً ایک طبی مرکز لے جایا گیا تاہم ان افراد میں کوئی بڑا زخم یا چوٹ ظاہر نہیں ہوئی۔
کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انھیں امریکی امیگریشن اور کسٹمز ڈیپارٹمنٹ لے جایا گیا۔
ریسکیو ٹیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے پہلے کبھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی۔
ڈوہرٹی کا کہنا تھا کہ ’میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ اتنے طویل عرصے تک کوئی جزیرے پر زندہ پھنسا رہے۔‘












