’کیو اینون‘ نظریات کے پیرو کار: امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی جو ہار تسلیم نہیں کر رہے

’کیو اے نان‘ سے وابستہ رکن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’کیو اینون‘ سے وابستہ انفلوئنسرز ان لوگوں میں شامل تھے جو کیپیٹل ہل کی عمارت میں داخل ہو گئے تھے
    • مصنف, شایان سرداری زادے اور اولگا رابنسن
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ

بے بنیاد سازشی نظریات پھیلانے والی تنظیم ’کیو اینون‘ کے پیروکار جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد سے انتشار کا شکار ہیں کیونکہ اس سے ان کی یہ پیشگوئی غلط ثابت ہوئی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عہدہِ صدارت پر قائم رہیں گے تاکہ وہ ’ریاستی انتظامیہ‘ میں اپنے دشمنوں کو سزا دے سکیں۔

’کیو اینون‘ سے وابستہ انفلوئنسرز (عوامی رائے پر اثر انداز ہونے والے ارکان) ان لوگوں میں شامل تھے جو چھ جنوری کو کیپیٹل ہل کی عمارت میں داخل ہوگئے تھے۔

ان میں بہت ساروں کو اپنی مایوسی کی وجہ سے انتہائی حیرت ہوئی جب جو بائیڈن نے 20 جنوری کو 46 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔

ان میں سے ایک پیروکار نے ’ٹیلیگرام‘ نامی سوشل میڈیا ایپ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’میرا قے کرنے کو دل چا رہا ہے۔ مجھے ان ساری گمراہ کن اطلاعات اور جھوٹی امیدوں پر سخت غصہ آرہا ہے۔‘

ایک اور نے اصرار کیا کہ ’منصوبہ‘ ناکام نہیں ہوا، اس طرح وہ نئے سازشی نظریات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کئی ہفتوں سے ’کیو اینون‘ کے پیروکار اس نظریے کو پھیلاتے رہے تھے کہ 20 جنوری ’یومِ حساب‘ ہے جب ڈیموکریٹ پارٹی کی اہم شخصیات اور دیگر ’بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والے شیطانی درندوں‘ کو گرفتار کر لیا جائے گا اور انھیں صدر ٹرمپ کے حکم پر سزائے موت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

’کیو اینون‘ کیا ہے؟

جب جو بائیڈن نے عہدہِ صدارت کا حلف اٹھا لیا اور کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی تو ’کیو اینون‘ کمیونٹی کو ’ناپسندیدہ حقائق‘ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک پیغام میں کہا گیا کہ ’یہ تو ہو گیا اور ہمیں کسی نے بیوقوف بنایا۔‘

ٹیلیگرام ایپ پر ایک مقبول چینل نے اپنے کئی پیروکاروں کو اُس وقت غصہ دلا دیا جب اُس پر عارضی طور پر تبصروں کو معطل کردیا گیا۔

حلف کی تقریب کے بعد کے چند گھنٹوں میں مزید ہزاروں پیروکاروں نے ٹیلیگرام جیسے دیگر ایپس جیسے کے ’گیب‘ پر اسی قسم کے پیغامات بھیجنا شروع کردیے۔

ان ایپس پر ان سازشی نظریات پر یقین کرنے والے ایسی گفتگو کرنے آتے ہیں کیونکہ انھیں کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے بعد مین سٹریم میڈیا سے خارج کردیا گیا تھا۔

'کیواےنان' حامی پیغام

،تصویر کا ذریعہGAB

اس تحریک کے چند ایک بڑے بڑے انفلوئنسرز کے دلوں میں بھی اب شک پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے کیونکہ ان میں اب کئی ایک نے ’کیو اینون‘ کے ایک کلیدی نعرے ’منصوبے پر یقین کرو‘ پر سوالات اٹھائے ہیں، جسے ایک نامعلوم کیو (Q) استعمال کر رہا تھا اور پیروکاروں کو یقین تھا کہ یہ کوئی حکومت کے اندر کا اہم اہلکار ہے۔

ایک ایسا انفلوئنسر جس کے ٹویٹر پر دو لاکھ فالوور ہیں اور سازشی نظریات پھیلانے کی وجہ سے اس کا اکاؤنٹ معطل کردیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ہمارے لیے بہت مشکل دن ہیں۔‘

’آج کی حلف برداری کی تقریب محب وطن مسیحیوں کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے اور ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ منصوبے پر عمل جاری ہے اور ہم اپنا ملک واپس حاصل کر لیں گے۔‘

ٹوئٹر نے ’کیو اینون‘ سے وابستہ ستر ہزار سے زیادہ اکاؤنٹس معطل کیے ہیں۔

انتہائی دائیں بازو کی ملیشیا کا بڑھتا ہوا خطرہ

ایک خاتون، جن کے شوہر ’کیو اینون‘ تحریک کا حصہ ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ حلف برداری والا دن ان کے شوہر کی زندگی کا سب سے زیادہ مایوس کن دن تھا۔

اُنھیں امید ہے کہ بدھ کے روز کے واقعات سازشی نظریات کے بارے میں اُس کے عقائد کو جھنجوڑ دیں گے لیکن وہ ڈرتی ہیں کہ پھر اُس کے بعد کیا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ان خیالات کی وجہ سے ان کی شادی بھی حالیہ مہینوں سے ایک دباؤ کا شکار ہے۔ ’میں اپنی بات جتلانے والی نہیں ہوں اور نہ کسی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہوں۔‘

ایک اور انفلوئنسر نے کہا ہے کہ ’کیو اینون‘ کمیونٹی کے اب حصے تقسیم ہونے کے امکانات ہیں۔ اس نے کہا کہ ’اب حقیقی دوستی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا کیونکہ اب یہ سب بہت غصے میں ہیں۔‘

’کیو اینون‘ کے چند انفلوئنسرز نے صدر بائیڈن کی تقریبِ حلف کے بعد بھی ہار تسلیم نہیں کی ہے۔

اس تحریک میں زیادہ مقبول نظریہ یہ تھا کہ جو بائیڈن کے حلف اٹھانے سے پہلے کسی ایک موقع پر، امریکی فوج میں سے کوئی۔۔۔ غالباً صدر ٹرمپ کے حکم پر۔۔۔ مداخلت کرے گا اور مسٹر بائیڈن، ان کی بیوی، کملا ہیرس، نینسی پلوسی، چک شومر، براک اوباما، میشل اوبامہ، ہیلری اور بل کلنٹن، لورا بش اور ’ڈیپ سٹیٹ‘ کے دیگر اہم ارکان سمیت گرفتار کر لے گا۔

ٹیلیگرام پر فعال کئی ایک انتہا پسند اور نازی خیالات کے حامی چینلز نے ’کیو اینون‘ کمیونٹی کے پیروکاروں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔

یہ چینلز اپنے ارکان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اس کمیونٹی کے مایوس عناصر سے رابطہ کریں اور اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کریں۔

جو بائیڈن کی حلف برداری

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایک نے تو یہ دعویٰ کیا کہ مسٹر بائیڈن اپنی حکومت ایک فوجی عمارت کے اندر ایک قیدی کے طور پر چلا رہے ہیں اور یہ انھیں 'ابھی تک معلوم ہی نہیں ہے۔'

چند بااثر اکاؤنٹ ہولڈرز نے اپنے پیروکاروں کو کہا ہے کہ وہ اپنا ایمان مضبوط رکھیں اور اتنی آسانی سے ہار تسلیم نہ کریں۔

ٹیلیگرام پر سوا لاکھ سے زیادہ صارفین رکھنے والے ایک چینل نے اپنے فالورز کو یقین دلایا ہے کہ مسٹر ٹرمپ اور ’Q‘ کی ٹیم کے ہاتھ میں اب بھی کنٹرول ہے اور وہ پسِ پردہ کام کریں گے اور ڈیپ سٹیٹ کے ’شیطانی اعمال‘ کو ’اگلے چار برسوں میں طشت از بام کریں گے۔‘

ایک نے تو یہ دعویٰ کیا کہ مسٹر بائیڈن اپنی حکومت ایک فوجی عمارت کے اندر ایک قیدی کے طور پر چلا رہے ہیں اور یہ انھیں ’ابھی تک معلوم ہی نھیں ہے۔‘

بعد میں ’کیو اینون‘ کمیونٹی کے ایک اور معروف انفلوئنسر ران وٹکِنز نے اپنے پیروکاروں سے یہ کہہ کر سب کو حیران کردیا کہ وہ اپنا سفر جاری رکھیں۔

جِم وٹکِنز جن کا ’8 چن‘ اور ’8کن‘ تحریکوں کے پیچھے ہاتھ ہے، اس کے اکاؤنٹ پر ’Q‘ کی پوسٹوں پر تشدد اور جنسی گالیوں والے انتہائی شدید زبان میں کہے گئے خیالات کے پیغامات سے اس کا میسج بورڈ بھر گیا تھا۔

اس پر نوجوان وٹکِنز جو انتخابات میں دھاندلی کے نظریات فروخ دینے والوں میں سے ایک تھا، وہ ’کیو اینون‘ کے حامی لوگوں کو چھ جنوری کو کیپیٹل ہل جانے کی ترغیب دینے والوں میں سے ایک تھے۔

اُنھوں نے ٹیلیگرام پر اپنے ایک لاکھ بیس ہزار فالورز سے کہا ’ہم نے اپنا سب کچھ لٹا دیا ہے۔‘

’اب ہمیں اپنے حوصلے بلند رکھنے ہیں اور جتنا بھی بہتر انداز میں ہو سکتا ہے اتنے ہی اچھے انداز سے ہمیں واپس اپنی معمول کی زندگیوں میں لوٹنا ہے۔‘

’کیو اینون‘ کے ایک انفلوئنسر ران وٹکنز تقریبِ حلف برداری کے بعد اپنا تولیہ پھینکتے ہوئے نظر آئے۔

تقریبِ حلف برداری کی تقریب کے روز بھی 'کیواےنان' کمیونٹی کے ارکان کے جذبات ملے جلے نظر آرہے تھے۔

کچھ کہہ رہے تھے کہ وہ ’Q‘ کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ کچھ پوسٹ کرے تاکہ انھیں ان کے کئی سارے سوالات کے جوابات مل سکیں لیکن وہ اب تک خاموش تھا اور کچھ کو یہ امید تھی کہ صدر ٹرمپ براہ راست اُن سے خطاب کریں گے۔

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کمیونٹی کا ایک بڑا حصہ اب بھی اپنے نظریات پر قائم ہے اور ایک دوسرے کو تاکید کر رہے ہیں وہ صبر کریں اور اپنے ایمان پر قائم رہیں۔ اس وقت یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ یہ تحریک آگے کیا شکل اختیار کرتی ہے۔

تاہم چند ماہرین اور محققین کا خیال ہے کہ ’کیو اینون‘ جس نے بہت کامیابی کے ساتھ لاکھوں لوگوں کو ’بے وقوف‘ بنا کر یہ سوچنے پر قائل کیا ہے کہ صرف وہ ہی دنیا پر حکومت کرنے والے مجرموں کے اس گروہ پر قابو پانے میں کامیاب ہوں گے، یہ موومنٹ آسانی سے غائب نہیں ہو گی۔

انتہا پسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے مارک آندرے ارجنٹینو کہتے ہیں کہ اس موومنٹ کے پیروکار ’اُس وقت تک خطرہ رہیں گے جب تک ’کیو اینون‘ کی سوچ کے لیے جگہ کم نہیں ہو جاتی ہے۔‘

’یہاں تک کہ ’کیو اینون‘ کے بغیر، ’Q‘ کے بغیر، صدر ٹرمپ کے بغیر، ان کا وہ اصل اندرونی گروہ جو ان پیروکاروں کی ’کیو اینون‘ کے نظریات کو ماننے میں ان کی قیادت کر رہا ہے، وہ اپنی سازشی سوچ والی ذہنیت اور جمہوریت دشمن سوچ کے اظہار کے لیے مواقع تلاش کرتا رہے گا۔'