فرانس اور اسلام: فرانسیسی کابینہ سے منظور ہونے والے شدت پسندی کی مخالفت کرنے والے قانونی مسودے میں کیا ہے؟

فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فرانسیسی کابینہ نے شدت پسندوں کے حالیہ حملوں کے بعد بنیاد پرست اسلام سے نمٹنے کے ایک بل کی منظوری دے دی ہے۔

یہ مسودہ قانون صدر ایمینوئل میکخواں کی طویل مدتی مہم کا حصہ ہے جس میں فرانس کی سکیولر اقدار کو برقرار رکھنے، گھر پر تعلیم اور نفرت انگیز تقاریر سے متعلق اصولوں کو مزید سخت کیا گیا ہے۔

فرانس میں اور بیرون ملک کچھ ناقدین نے ان کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذہب کو نشانہ بنانے کے لیے اس قانون کا استعمال کر رہی ہے۔

لیکن وزیر اعظم جین کاسٹیکس نے اسے ’تحفظ کا قانون‘ قرار دیا ہے جو مسلمانوں کو بنیاد پرستوں کی گرفت سے آزاد کرے گا۔

انھوں نے زور دیا کہ یہ قانون ’مذاہب کے خلاف یا خاص طور پر اسلام کے خلاف نہیں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

نئے قانون میں کیا ہے؟

رپبلکن نظریات کی حمایت کرنے والے اس بل کے ذریعے آن لائن نفرت انگیز تقاریر پر پابندیاں سخت کی جائیں گی اور برے ارادے سے کسی شخص کے بارے میں ذاتی معلومات افشا کرنے کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی لگائی جائے گی۔

اس بل کو اکتوبر میں فرانسیسی استاد سیموئیل پیٹی کے سر قلم کیے جانے کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیموئیل پیٹی کو ایک تنہا حملہ آور نے اپنے شاگردوں کو پیغمبرِ اسلام کے کارٹون دکھانے پر قتل کردیا تھا۔

Anti-Islamophobia rally in Paris, 27 Oct 20

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ ان کے خلاف ایک آن لائن مہم چلائی گئی تھی۔

اس قانون میں ’خفیہ طور پر چلائے جانے والے‘ سکولوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جو اسلام پسند نظریات کو فروغ دیتے ہیں اس کے علاوہ گھروں پر سکولنگ کی کڑی نگرانی شامل کی گئی ہے۔

اس بل کے ذریعے ازدواجی تعلقات کی بنیاد پر رہائشی پرمٹ حاصل کرنے والوں پر پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔ لڑکیوں کے کنوارے پن کے ٹیسٹ کروانے پر ڈاکٹروں کو جرمانہ یا ان پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔

مسلم انجمنوں کے لیے مالی شفافیت کے نئے اصول وضع کیے گئے ہیں اور مالی اعانت کے بدلے میں انھیں فرانس کی جمہوری اقدار پر دستخط کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔

کام پر مذہبی لباس پہننے والی پابندی کا دائرہ کار ٹرانسپورٹ کے کارکنان، سوئمنگ پولز کے ملازمین اور بازاروں میں کام کرنے والوں تک بڑھایا جارہا ہے۔

فرانس

،تصویر کا ذریعہAFP

یہ قانون کیوں لایا جارہا ہے؟

یہ مسودہ قانون کافی عرصے سے زیر غور تھا لیکن شدت پسندوں کی جانب سے حالیہ حملے اسے منظور کروانے کا سبب بنے ہیں۔

پیٹی کا قتل ان حالیہ تین حملوں میں سے ایک تھا جو فرانس میں اشتعال کا باعث بنے۔ اکتوبر میں شہر نیس کے ایک چرچ میں چاقو کے وار سے تین افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔

پیرس میں چارلی ہیبڈو میگزین کے سابقہ ​​دفاتر کے قریب دو افراد کو چاقو مار کر شدید زخمی کردیا گیا تھا۔ سنہ 2015 میں شدت پسندوں نے یہاں ایک خطرناک حملہ کیا تھا۔

صدر میکخواں ریاستی سیکولرازم سمیت فرانسیسی رپبلکن اقدار کے سخت محافظ ہیں۔ انھوں نے اسلام کو ایک ’بحران کا مذہب‘ کے طور پر بیان کیا ہے اور طنزیہ جریدہ چارلی ایبڈو کے پیغمبرِ اسلام کے کارٹون شائع کرنے کے حق کا دفاع کیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق فرانس میں 50 لاکھ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔

میکخواں اور فرانس کے خلاف عراق میں احتجاج

،تصویر کا ذریعہEPA

اب تک کیسا ردعمل سامنے آیا ہے؟

کئی مسلم اکثریتی ممالک نے صدر میکخواں اور ان کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ترکی، جس کے ساتھ فرانس کے پہلے سے کشید ہ تعلقات ہیں، حالیہ صورتحال اس کشیدگی میں اضافے کا سبب بنی ہے اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس قانون سازی کو ’کھلی اشتعال انگیزی‘ قرار دیتے ہوئے صدر میکخواں کو ’ذہنی مریض‘ کہا ہے۔

پاکستان، بنگلہ دیش اور لبنان سمیت دیگر اسلامی ممالک میں بھی فرانس اور صدر میکخواں کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔

مذہبی آزادی سے متعلق امریکی مندوب سیم براؤن بیک نے بھی اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے: ’صورتحال اور بھی خراب ہوسکتی ہے۔‘

فرانس میں ہی بائیں بازو کے کچھ سیاست دانوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ قانون سازی، مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

لیمونڈ اخبار کے مطابق یہ بل دوسرے مذہبی گروہوں پر بھی سختیوں میں اضافہ کرسکتا ہے جہاں ہوم سکولنگ کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے۔

لیکن پیرس میں بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ولیمسن کا کہنا ہے کہ صدر میکخواں پر کوئی ایکشن لینے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ فرانسیسی سیکولرازم کے نام پر اسلام پسندانہ اثر و رسوخ سے نمٹنا شاید ایک مقبول اقدام ہو، لیکن ریاست کے لیے ابھی بھی یہ ایک نازک عمل ہے۔