احمد رضا جلالی: اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے ایرانی ڈاکٹر کے خاندان کی دکھ بھری کہانی

احمد رضا جلالی

،تصویر کا ذریعہCENTER FOR HUMAN RIGHTS IN IRAN

،تصویر کا کیپشناحمد رضا جلالی تر موساد کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات ہیں
    • مصنف, کاؤن خاموش
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

یہ کام کے سلسلے میں ایک معمول کا سفر تھا۔ تہران میں دو ہفتے گزار کر سٹاک ہوم واپس اپنے گھر آنا تھا لیکن چار سال گزرنے کے بعد ودا مہرانیا کو اب بھی اس بات پر افسوس ہے کہ وہ اپنے شوہر کو 'مناسب طور سے الوداع' بھی نہ کہہ سکی تھیں۔

ہنگامی طبی امداد میں مہارت رکھنے والے ڈاکٹر احمد رضا جلالی کو ایران میں حکام مدعو کرتے رہتے تھے اور وہ باقاعدگی سے سیمینار کی میزبانی کرتے اور لیکچر دینے جاتے تھے۔ لیکن سنہ 2016 میں جب وہ ایئرپورٹ کے راستے پر تھے تو کسی خیال کے تحت ودا نے انھیں خیروعافیت کی دعا کے لیے فون کیا۔

مرکزی سٹاک ہوم کے ایک کیفے میں کافی پیتے ہوئے انھوں نے مجھے بتایا: 'دو ہفتوں کا ہجر بھی برداشت کرنا بہت زیادہ تھا۔'

وہ مجھ سے گھر پر نہیں مل سکتی تھیں کیونکہ ان کا چھوٹا بیٹا نہیں جانتا کہ ان کے والد ایران میں ایک قیدی ہیں۔ اب بھی اس کا خیال ہے کہ اس کے والد کام کے سلسلے میں سفر پر گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹر جلالی کے پاس اب دوہری، یعنی سویڈش اور ایرانی شہریت ہے۔ انھیں چار سال قبل ایران کی انٹیلیجنس سروس نے گرفتار کیا تھا اور انھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری سائنسدانوں کے قتل میں مدد کرنے کے لیے وہ اسرائیلی ایجنسی موساد کو خفیہ معلومات فراہم کر رہے تھے۔

ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کا اعتراف تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔

24 اکتوبر کو احمد رضا کو تہران کی سب سے بڑی جیل ایون کے شعبہ نمبر 209 میں رکھا گیا تھا۔ اسی جیل میں ایران کے زیادہ تر سیاسی قیدی قید ہیں۔

احمد رضا جلالی

،تصویر کا ذریعہVIDA MEHRAN-NIA

،تصویر کا کیپشناحمد رضا جلالی کو سزائے موت سنائی گئی ہے

یکم دسمبر کو انھیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک مختصر فون کال کی اجازت دی گئی جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ودا نے شور مچا دیا کہ ایرانی حکام ان کے 45 سالہ شوہر کو پھانسی دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ودا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ 'انتہائی پریشان تھے اور انھوں نے مجھے پھانسی سے بچانے میں مدد مانگی تاکہ ان کی جان بچ سکے۔'

'وہ بہت لاچار محسوس کر رہے تھے کیونکہ تہنا ایک سیل میں پھنسے رہ کر وہ کچھ نہیں کر سکتے اور ان میں خود کو بچانے کی کوئی طاقت نہیں رہی۔'

اس کے بعد انھوں نے اپنی بیٹی سے بات کی جو اب 18 سال کی ہو چکی ہے۔

ودا نے بتایا کہ 'اس وقت سے وہ روتی جا رہی ہے اور تمام سیاستدانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو اپنے والد کی جان بچانے کے لیے فون کر رہی ہیں۔

'یہ بہت مشکل ہے اور ہم سب بہت تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ہے کہ ہم پر کیا گزر رہی ہے۔ یہ کسی اذیت کی طرح ہے۔'

اور اہل خانہ پر اس کا اثر بہت زیادہ ہے۔

ودا مہرانیا اپنے شوہر احمد رضا جلالی اور بچے کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہVIDA MEHRAN-NIA

،تصویر کا کیپشنودا مہرانیا اپنے شوہر احمد رضا جلالی اور بچے کے ساتھ

ودا نے کہا: 'جب احمد رضا ایران کے لیے روانہ ہوئے تھے تو میرا چھوٹا بیٹا محض چار سال کا تھا۔ اب اس کی عمر آٹھ سال ہے۔

'وہ ہمیشہ اپنے والد کے بارے میں پوچھتا ہے اور اسے ان کی یاد آتی ہے کہ کس طر ان کے والد اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے اور انھیں بہت مزہ آتا۔

احمد رضا اعلی تعلیم کے لیے سنہ 2009 میں سویڈن منتقل ہو گئے۔

سٹاک ہوم کے کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں پی ایچ ڈی کے لیے قبول ہونے کے ایک سال بعد ان کی فیملی ان کے ساتھ رہنے آ گئی۔

اس کے بعد وہ اٹلی چلے گئے جہاں انھوں نے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور پھر سنہ 2015 میں وہ سب سویڈن واپس آگئے۔

ایران کے ان کے اس تقدیر کے لکھے سفر سے قبل ان کی فیملی سادہ زندگی بسر کر رہی تھی۔

سنہ 2018 میں جب وہ ابھی جیل میں ہی تھے تو سویڈن نے انھیں اپنے ملک کی شہریت دی۔ ایران میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ 'مغرب کا اثاثہ' ہیں یعنی مغرب کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

احمد رضا جلالی
،تصویر کا کیپشناحمد رضا جلالی نے ہسپتالوں کو آفت سے محفوظ کس طرح بنایا جائے پر تحقیق کی تھی

ان کی اہلیہ نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا احمد رضا کو پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد ہی مستقل رہائش کا اجازت نامہ تھا۔

وہ سویڈن میں ایک قابل قدر سائنسدان تھے جنھوں نے اس چیز پر تحقیق کی کہ ہسپتالوں اور خطوں کو تباہی سے محفوظ مقام کس طرح بنایا جائے۔

ان کی تصویر ابھی بھی سودرخیوست ہسپتال کے نوٹس بورڈ پر موجود ہے جہاں کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی ایک شاخ قائم ہے۔ اس کے ساتھ ان کے پی ایچ ڈی مقالے کا عنوان بھی ہے 'تیاری اور محفوظ ہسپتال: آفات کا طبی رسپانس'

وہ اپنی پی ایچ ڈی کے سپروائزر پروفیسر لیزا کورلینڈ سے رابطے میں رہے۔

ان دونوں کے درمیان اپریل سنہ 2017 میں ایک ریسرچ میٹنگ ہونا تھی لیکن وہ کبھی بھی نہ ہو سکی۔

کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں ایمرجنسی میڈیسن کی پروفیسر لیزا کورلینڈ کا کہنا ہے کہ 'اس کا وہاں نہ ہونا اور نظر نہ آنا اس کی شخصیت کے خلاف تھا اسی لیے مجھے حیرت ہوئی کہ اس کے ساتھ کچھ ہو تو نہیں گیا۔

'میں نے ہر دورے سے پہلے اور بعد میں اس سے پوچھتی کہ یہ اس کے لیے محفوظ تو ہے اور وہ کہتے کہ ہان ہے۔'

جب احمد رضا کو ایران میں گرفتار کیا گیا تو ان کے اہل خانہ نے ابتدائی طور پر دوستوں اور ساتھی محققین کو بتایا کہ وہ ایک کار حادثے کی وجہ سے وہاں ہسپتال میں ہیں۔

پروفیسر لیزا کرلینڈ
،تصویر کا کیپشناحمد رضا جلالی نے پروفیسر لیزا کی نگرانی میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی تھی

ان کا خیال تھا کہ اس سے انھیں رہائی میں مدد ملے گی، لیکن فائدہ نہیں ہوا۔ پھر انھوں نے عوامی سطح پر جانے کا فیصلہ کیا۔

لیزا کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے یہ سنا کہ اسے موت کی سزا سنائی گئی ہے تو یہ ان کے لیے ایک 'ناقابل تصور صدمہ' تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ 'مجھے اس کا جنون یاد ہے کہ وہ کس طرح کچھ فرق لانا چاہتے تھے۔

وہ پی ایچ ڈی کے لیے سائنسی ٹولز اور طریقہ کار کو استعمال کرنا چاہتے تھے اسی کے ذریعے ایران میں لوگوں کی مدد بھی کرنا چاہتے تھے۔'

احمد رضا کے دوستوں اور ساتھیوں نے میرے ساتھ ان کی تصاویر شیئر کیں جن میں وہ پورے یورپ اور ایران میں سیمینار دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی ایسوسی ایٹ پرفیسران کیٹرینا بوہم اور ورونیکا لنڈسٹروم نے احمد رضا کے ساتھ سٹیج شیئر کیا تھا۔

انھوں نے ڈاکٹر رضا کو ایک 'شائستہ، منکسر مزاج اور مہذب شخص' کے طور پر یاد کیا جو ہمیشہ ایران کے بارے میں بات کرتے تھے اور وہ سیاسی صورتحال کے باوجود 'اپنے علم کو شیئر کرنے اور لوگوں کی مدد کرنے' کے لیے وہ وہاں کی یونیورسٹیوں کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔

سنہ 2017 میں 75 نوبل انعام یافتہ لوگوں ایرانی حکام کے نام ایک کھلا خط لکھا جس میں احمد رضا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

دو ہفتے قبل 150 نوبل انعام یافتہ افراد نے ایک اور خط ایرانی رہبرِ اعلی علی خامنہ ای کو بھیجا، جس میں انھیں مداخلت کرنے اور ڈاکٹر کو رہا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

گذشتہ ماہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران سے ان کی پھانسی پر عمل درآمد روکنے کے لیے کہا تھا۔ سویڈن کے وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے بھی بات کی ہے اور سزائے موت روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

احمد رضا جلالی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناحمد رضا جلالی کی رہائی کے لیے 150 نوبل انعام یافتہ گان نے ایران کو خط لکھا ہے

لیکن ایران نے سویڈن کی اپیل مسترد کردی اور 'ہر قسم کی مداخلت' کے خلاف متنبہ کیا۔

جاسوسی کے الزام میں غیر ملکیوں اور دوہری شہریت رکھنے والے ایرانوں کو قید کیے جانے کی فہرست لمبی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپس نے تہران پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر ملکی حکومتوں سے مراعات حاصل کرنے کے لیے ان قیدیوں کو بطور پیادہ استعمال کرتا ہے۔

پچھلے مہینے ہی ایران نے تین ایرانی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں ایک برطانوی آسٹریلیائی لیکچرر کو رہا کیا ہے۔ انھیں جاسوسی کے الزام میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

احمد رضانے اپنا پی ایچ ڈی مقالہ کا انتساب ایران کے لوگوں کے نام کیا ہے اور پہلے صفحے پر یہ تحریر کیا ہے: ان لوگوں کے نام جو دنیا بھر میں آفات سے مرے یا متاثر ہوئے، بطور خاص ایرانی شہر بام کے لوگوں کے نام'

سنہ 2003 میں بام میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 26 ہزار 271 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بات کبھی ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ گزری ہو گی کہ ایمرجنسی میڈیسن میں ان کی ڈگری ان کی موت کی سزا ہوگی۔ ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ اس قسم کے آفات میں جانیں ضائع نہ ہوں اور انھیں دوبارہ ہونے سے روکا جا سکے۔

احمد رضا کی بیٹی نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اب اسی یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے جہاں ان کے والد نے کامیابی سے اپنی پی ایچ ڈی کا دفاع کیا تھا۔

یہ ودا کے لیے ایک کڑوی گولی تھی کہ انھوں نے اپنی زندگی میں اتنے بڑے خلا کے باوجود اپنی بیٹی کا ساتھ دیا۔

ودا نے روتے ہوئے کہا: 'جب اس نے اچھے نمبروں کے ساتھ ہائی اسکول پاس کیا تو اس کے والد جشن منانے کے لیے ساتھ نہیں تھے۔

'جب وہ کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں داخلے کے لیے منتخب ہوئی اور اپنے والد کی طرح اس نے دوبارہ میڈیسن کا انتخاب کیا تو اس کے والد وہاں نہیں تھے۔'