ایران میں سی آئی اے کے لیے جاسوسی کے الزام میں عامر رحیم پور نامی شخص کو سزائے موت

،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کی عدالتِ عالیہ نے اس شحص کی سزائے موت کی تصدیق کر دی ہے جس پر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے جاسوسی کرنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔
عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیل کا کہنا تھا کہ عامر رحیم پور نے امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اطلاعات فراہم کر کے ’بہت رقم کمائی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ مزید دو امریکی جاسوسوں کو جاسوسی کرنے کے لیے دس سال اور قومی سلامتی کو خطرہ پہنچانے کے لیے پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
مسٹر اسماعیل نے ان لوگوں کے نام ظاہر نہیں کیے تاہم اتنا بتایا کہ یہ لوگ ایک خیراتی ادارے کے لیے کام کرتے تھے۔
ابھی تک اس بارے میں امریکی حکومت یا سی آئی اے کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن جولائی کے مہینے میں امریکی افسران نے ایران کے اس اعلان کے بعد شبہ ظاہر کیا تھا کہ ایسے 17 جاسوسوں کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر سی آئی اے کے لیے ایران کے جوہری پروگرام اور فوج کے بارے میں اطلاعات جمع کر رہے تھے۔ وزارت کا کہنا تھا کہ ان میں سے کچھ کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔
اس وقت امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ’دنیا سے جھوٹ بولنا آیت اللہ علی خامنہ ای کی فطرت میں شامل ہے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ایران جو بھی کہہ رہا ہے میں اس کا تنقیدی جائزہ لوں گا۔‘
اس سے ایک ماہ قبل ایران کی وزارتِ دفاع کے سابق کنٹریکٹر جلال حاجی زوار کو جاسوسی کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی۔ حاجی زوار نے مبینہ طور پر اعتراف کیا تھا کہ وہ سی آئی اے کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔
2016 میں ایران نے ایک جوہری سائنسداں کو سزائے موت دی تھی۔ ان پر بھی امریکہ کے لیے جاسوسی کا الزام تھا۔شاہرام امیری مبینہ طور پر 2009 مییں امریکہ چلے گئے تھے لیکن ایک سال بعد ہی وہ واپس ایران واپس آگئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں اغوا کر کے ان کی مرضی کے بغیر روکا گیا تھا۔
عامر رحیم پور کی موت کی سزا کی خبر کی تصدیق ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان زبردست کشیدگی جاری ہے۔
جنوری میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے جنرل قاصم سلیمانی بغداد میں امریکی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے جس کے جواب میں ایران نے بھی عراق میں دو امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کے لیے جاسوسی کے الزام میں تین ایرانی گرفتار
پیر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ڈنمارک میں ایران سے تعلق رکھنے والے عرب حزب اختلاف گروپ کے تین سرکردہ افراد کو سعودی عرب کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈنمارک میں مقیم ان تینوں افراد پر ایک طویل عرصے سے ایران میں ان باغیوں سے تعلقات کا شبہ تھا جنہوں نے ستمبر 2018 میں ایران میں ایک فوجی پریڈ پر حملہ کیا تھا جس میں 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ڈنمارک کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان تینوں افراد کا عرب گروپ سے تعلق تھا جو ایران کے علاقے اہواز کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
اس گروپ کا نام ’عرب سٹرگل موومنٹ فار دی لیبریشن آف اہواز‘ یا ’اے ایس ایم ایل اے‘ ہے۔
عرب نسل کے لوگ تیل سے مالا مال ایران کے جنوب مغربی صوبے اہواز میں آباد ہیں۔
ڈنمارک کی خفیہ سروس (پی ای ٹی) نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ تینوں ڈنمارک میں سنہ 2012 سے سنہ 2018 کے درمیان کچھ لوگوں کی جاسوسی کرتے رہے ہیں اور ان لوگوں کی معلومات سعودی عرب کو فراہم کرتے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گرفتار کیے جانے والوں میں سے ایک شخص کو سنہ 2018 میں ایران کی خفیہ ایجنسی نے مروانے کی کوشش بھی کی تھی جسے ڈنمارک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناکام بنادیا تھا۔
پی ای ٹی کے ڈائریکٹر جنرل فن بروچ اینڈرسن کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ ہم بیرونی ریاستوں کو اپنے آپس کے جھگڑوں کو ڈنمارک کے اندر پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔
نومبر 2018 میں اے ایس ایم ایل اے کے مشتبہ کارکنوں کو کوپن ہیگن سے 60 کلومیٹر دور علاقے رِنگسٹڈ سے حرسات میں لیا گیا تھا۔










