امریکی صدارتی انتخاب: اگر بائیڈن باضابطہ طور پر فاتح قرار پاتے ہیں تو میں وائٹ ہاؤس چھوڑ دوں گا، صدر ٹرمپ

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر نومنتخب صدر جو بائیڈن کو باضابطہ طور پر امریکہ کا اگلا صدر قراد دے دیا جاتا ہے تو وہ وائٹ ہاؤس چھوڑ دیں گے۔

صدر ٹرمپ تین نومبر کو ہونے والے صدارتی الیکشن میں شکست ماننے سے انکار کرتے رہے ہیں تاہم جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ شکست تسلیم کرنا ’مشکل‘ ہو گا۔

انھوں نے ایک مرتبہ پھر الیکشن میں مبینہ دھاندلی سے متعلق غیر مصدقہ دعوے بھی کیے ہیں۔

جو بائیڈن کو اس وقت صدر ٹرمپ پر واضح برتری حاصل ہے۔ اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق الیکٹورل کالج میں جو بائیڈن کے 306 ووٹوں کے مقابلے میں ٹرمپ کو صرف 232 ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی الیکشن میں فتح حاصل کرنے کے لیے 270 یا اس سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ جو بائیڈن کو مجموعی ووٹوں کے اعتبار سے بھی صدر ٹرمپ پر 60 لاکھ ووٹوں کی مجموعی برتری حاصل ہے۔

انتخاب کنندہ (الیکٹرز) اگلے ماہ ووٹوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے اور اگلے برس 20 جنوری کو نومنتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہو گی۔

امریکی صدر اور ان کے حامیوں کی جانب سے پہلے ہی الیکشن سے متعلق مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں تاہم ان مقدمات میں سے اکثر کو عدالتیں مسترد کر چکی ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں صدر ٹرمپ نے نومنتخب صدر جو بائیڈن کی ٹیم کو بالآخر اقتدار منتقل کرنے کے عمل کے آغاز پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اس فیصلے کے بعد سے بائیڈن اب ان خفیہ میٹنگز میں بیٹھ سکتے ہیں یا ان اہم حکومت عہدیداروں اور لاکھوں ڈالر کی فنڈ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جو انھوں 20 جنوری سے قبل تیاری میں مدد دے سکیں گی۔

بائیڈن اور ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹرمپ نے کیا کہا؟

جب صدر ٹرمپ سے جمعرات کو پوچھا گیا کہ کیا وہ اس وقت وائٹ ہاؤس چھوڑنے پر راضی ہو جائیں جب انھیں الیکٹورل کالج ووٹوں میں شکست ہوتی ہے، تو انھوں نے جواب دیا کہ ’بالکل میں ایسا ہی کروں گا اور آپ کو بھی یہ معلوم ہے۔‘

تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ جو بائیڈن کو منتخب کرتے ہیں تو وہ غلطی کریں گے۔‘ انھوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ شاید وہ کبھی بھی شکست تسلیم نہ کریں۔

انھوں نے ایک مرتبہ پھر غیر مصدقہ الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے لیے شکست تسلیم کرنا اتنہائی مشکل ہو گا کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ بہت بڑا فراڈ کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ آیا وہ بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں شریک ہوں گے یا نہیں۔