آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغانستان کی نہ ختم ہونے والی جنگ میں مستقبل کو سنوارنے کی جدوجہد
- مصنف, لیز ڈوسیٹ اور محفوظ زبیدے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کابل
اس قسم کے لمحوں میں جہاں اتنے سارے امکانات ہوں وہاں آپ یہ بھول سکتے تھے کہ جنگ میں جکڑے ہوئے ملک میں یہ محض کوئی ایک اور معمول کا دن تھا۔
پروفیسر سید راطب مظفری تقریباً 50 افغان نوجوان طلبہ سے بھری کلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: 'آپ اپنے بیچلر ڈگری کے پانچویں سمسٹر کا آغاز کر رہے ہیں تو اسی کے مطابق سلوک کریں۔' انھوں نے طنز کرنے والے انداز میں متبنہ کیا کہ 'کوشش کریں کہ آپ کسی کار سے نہ ٹکرائیں۔'
20 سالہ فرشتہ ہاشمی نے اپنی میز کے ساتھ ایک طرف جھکتے ہوئے اپنی جماعت کی سہیلی سے کہا: 'شاید وہ خودکش حملوں کو بھول گئے ہیں۔'
یہ بھی پڑھیے
اس دن کے اختتام تک کم از کم 22 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں یونیورسٹی کے طلبا اور پروفیسر بھی شامل تھے۔ چھ گھنٹے تک جاری رہنے والے وحشیانہ محاصرے کے دوران کم از کم 22 افراد زخمی ہوگئے تھے جس کا آغاز ایک خودکش بمبار کے کیمپس کے گیٹ پر خود کو اڑانے سے ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان کی سب سے بڑی اور قدیم یونیورسٹی میں دو نومبر کو ہونے والے اس خونی حملے کو ختم کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو سخت جدوجہد کا سامنا رہا۔ اس حملے کی ذمہ داری نام نہاد عسکریت پسند گروپ دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔ خیال رہے کہ اس گھنی چھاؤں والی یونیورسٹی نے دہائیوں تک ملک کے طول و عرض سے آنے والے امیر اور غریب ہر طرح کے طلبہ کو تعلیم دی ہے۔
یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ کونسل کی رکن فرشتہ اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: 'میں نے چیخ چیخ کر کہا کھڑکی سے چھلانگ لگاؤ نہیں تو سب مارے جاؤ گے۔'
اس درمیان راہداری میں اور کلاس روم میں گولیوں کی آواز گونج رہی تھی، کلاس رومز میں گرینیڈ پھینکے جا رہے تھے۔کابل یونیورسٹی میں درختوں کی قطاریں اس دن خزاں کی سنہری دھوپ میں نہا رہی تھیں اور اس کی ترچھی کرنیں کھڑکیوں سے کلاس روم میں آ رہی تھیں۔ وہ امن اور جنگ کے حل پر کورس کا پہلا دن تھا۔
بھاگنے کی جلدی اور افراتفری کے عالم مین فرشتہ کے دو قریبی دوست پہلی منزل کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگانے والے آخری طلبہ تھے۔ لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
زیبا اشگاری نے اپنی آخری سانس اس وقت لی جب وہ زندگی کے لیے چھلانگ لگا رہی تھیں۔ ان کا جسم کھڑکی سے نیچے سڑک آیا جبکہ حسینہ ہمداد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں۔
فرشتہ نے بتایا: 'زیبا کی ابھی ابھی منگنی ہوئی تھی اور وہ ہمیشہ کہتی رہتی تھی کہ 'ایک دن میں سفارتکار بنوں گی'۔ "اور حسینہ تو ہماری کلاس کی ذہین ترین لڑکی تھی۔'
اگر چہ افغانستان میں تشدد کے درمیان زندگی گزارنا ایک طرح سے معمول ہے لیکن اس حملے سے پورے افغانستان اور اس کے باہر بھی صدمے کی لہریں پہنچی تھی اور ہم نے اس حملے کے کچھ دن کے بعد ہی بات کی۔
امید کی نسل کو نشانہ بنایا گیا
اس حملے کے متاثرین کی کہانی افغانستان کی 20 سال کی عمر والی نسل کی کہانی ہے۔ یہ اس نسل کی کہانی ہے جو سنہ 2001 میں امریکی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد کی تھی اور اس نے سنہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں افغانستان کی خانہ جنگی یا اس کے بعد کی طالبان کی سخت حکمرانی کی کہانیاں صرف اپنے والدین یا دادا دادی اور نانا نانی سے ہی سنی تھی۔
افغانستان میں آزاد انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ شہرزاد اکبر نے کہا کہ 'یہ وہ نسل ہے جو ملک میں امن کی بحالی کی صورت میں تبدیلیاں لاتی اور تعمیر نو کرتی کیونکہ ان کا سابقہ پرانے زمانے سے نہیں تھا۔'
انھوں نے کہا: 'وہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں بات کرتے ہیں، وہ مریخ پر زندگی کے بارے میں بات کرتے ہیں، وہ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ وہ ہماری گفتگو کے معیار کو بلند کرنے، حساس سیاسی امور سے آگے بڑھنے اور عالمی خاندان کا حصہ بننے کے بارے غور و فکر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔'
ایک ایسے ملک میں جہاں کی 70 فیصد آبادی25 سال سے کم عمر ہے۔ اور یہ آبادی ہی مستقبل ہے۔ یہاں تک کہ بہت کم وسائل والے خاندان بھی اعلی تعلیم میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
کابل یونیورسٹی میں حملے کے اگلے ہی دن صوبائی یونیورسٹیوں کے کیمپس میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ قدامت پسند اضلاع میں بھی نوجوان مرد اور خواتین پلےکارڈز لے کر سڑکوں پر نکل پڑے جن پر 'طلبا کا قتل مستقبل کا قتل ہے' اور 'طلبا پر حملے غیر اسلامی ہیں' جیسے نعرے جلی حروف میں لکھے ہوئے تھے۔
اس خام صلاحیت کو اساتذہ سے زیادہ واضح طور پر کوئی نہیں دیکھتا۔ ان اساتذہ میں شامل کابل یونیورسٹی کے پالیسی اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے شعبے کے ایک لیکچرر سمیع مہدی بھی اس حملے کی زد میں آئے۔ انھوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اپنے دلخراش قلم سے ایک کے بعد ایک اپنے 16 شاگردوں کو جذباتی انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔
ان میں گہری آنکھوں والا، کتاب کا دلداہ 24 سالہ احمد علی بھی تھا جو 'تقریباً ہر روز کلاس کے بعد میرے پیچھے آتا تھا اور اپنے تیز سوالات پوچھتا تھا۔'
روقیہ کو ان کے 'پرسکون چہرے اور نرم مسکراہٹ' کی وجہ سے یاد کیا گیا۔ وہ فورتھ ایئر کی طالبہ تھی جو ایک پرائمری سکول میں اپنے 'غریب کنبے' کی کفالت کے لیے پڑھاتی بھی تھی۔
پچھلی کلاس میں سہیلہ وہ طالبہ تھی جس کے لمبے سوالات کو صرف اس لیے مختصر کر دیا گیا تھا تاکہ لیکچر کے لیے بھی وقت بچایا جا سکے۔
مسٹر مہدی جو آزادی ریڈیو کے کابل بیورو کے سربراہ بھی تھے وہ لکھتے ہیں کہ 'کاش میں نے تمہیں کبھی بات کرتے ہوئے نہ روکا ہوتا۔ تمہیں سننے کا موقعہ ہم سے ہمیشہ کے لیے چھین لیا گیا ہے۔'
اس پوسٹ میں سہیلہ کی ایک واضح تصویر بھی شامل کی گئی تھی جس میں انھوں نے بالکل سیاہ ہیڈ سکارف اور چمکیلے سفید رنگ کا لباس پہن رکھا ہے اور وہ اپنی گول عینک سے باہر غور سے دیکھ رہی ہیں۔
لیکن جس تصویر نے افغان سوشل میڈیا پر لوگوں کو اس دن شدید صدمہ پہنچایا وہ سہیلہ کی وہ تصویر تھی جس میں وہ سیاہ دوپٹے اور سفید لباس میں خون میں لت پت فرش پر پڑی ہوئی تھیں اور ان کے ہاتھ میں جنوبی امریکی انقلابی سائمن بولیور کے بارے میں ایک سرخ کتاب تھی۔
یہ ان متعدد تصاویر میں سے ایک تھی جو قوی قاتل مشین کے ساتھ سیکھنے کے جنون کی غماز تھیں۔ یعنی ایک خالی کارتوس کے ساتھ ایک ٹوٹا ہوا قلم، ایک خون میں ڈوبی ہوئی کھلی کتاب، کلاس روم پر لگی دیوار گھڑی جن میں گولیوں کے سوراخ تھے۔
جذبات سے مغلوب سمیع مہدی نے رک رک کر وقفے کے ساتھ مجھے بتایا: 'جب بھی میں کلاس میں جاتا مجھے ان کی ہمت، ان کی صلاحیت اور اپنے ملک اور اپنی تعلیم کے لیے ان کی لگن کا سامنا ہوتا۔
'یہ نسل ہماری تاریخ کی کسی بھی دوسری نسل سے بہت مختلف ہے۔ پہلے ہی دن سے وہ ایک بہت ہی مختلف ماحول میں پروان چڑھے ہیں، جہان انھیں اظہار رائے کی آزادی، انتخابات، سوشل میڈیا، اور سیاست یا دوسرے سماجی اور ثقافتی امور پر انھیں کھل کر بولنے کا موقع ملا ہے۔
ان کی ایک پوسٹ جس نے سب کے دلوں کے تار کو چھوا وہ ایک چمکیلی آنکھوں اور چہرے پر بڑی سی مسکراہٹ والے کرشماتی طالب علم کا ایک مختصر ویڈیو تھا۔ اس میں محمد راہد اپنے ہم جماعت طلبہ سے کہتے نظر آتے ہین کہ 'مسکرانا نہ بھولیں۔'
لیکن جو نسل ابتدائی روکاوٹون سے نکل آئی ہے اور اپنی دور کے آخر پر ہے اسے پھر سے واپس کھینچا جا رہا ہے۔
حملے کا ذمہ دار کون ہے؟
افغانستان کے آزاد انسانی حقوق کمیشن کے شہرزاد اکبر نے کہا کہ 'جب میں نے مسکراہٹ کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی بات کہنے والے اس ویڈیو کو سنا تو میں نے سوچا کہ وہ کوئی خیالی بات نہیں کہہ رہا ہے بلکہ بنیادی بات کہہ رہا ہے یعنی زندگی کے حق کے بارے میں بات کر رہا ہے۔
'اس جنگ کے تمام فریق عام شہریوں کی حفاظت کے متعلق اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہو رہےہیں کیونکہ انھیں کبھی بھی کسی حالت میں بھی نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔'
یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نئی نسل ماضی کی آگ بھڑکانے والی سیاست سے محفوظ نہیں ہے اور اب تعفن انگیز الزام تراشی کا کھیل اس غم پر حاوی ہو رہا ہے۔
بعض 20 سے 30 سال کی عمر کے نوجوان جو طالبان کی حمایت کرتے ہیں یا بعص ایسے جو طالبان کے زیر اقتدار اضلاع میں رہتے ہیں انھوں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے حکومت پر انگلی اٹھا رہے ہیں اور ان پر'شر پسند عناصر' کے ساتھ کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔
حقانی نیٹ ورک کے جلال الدین حقانی (انتقال کر چکے ہیں) کے چھوٹے بیٹے 26 سالہ انس حقانی نے ٹویٹ کیا کہ 'کابل یونیورسٹی پر حملہ اسلام، امن اور علم کی روشنی کے دشمنوں کا کام ہے۔ خیال رہے کہ حقانی نیٹ ورک اب طالبان کا حصہ ہے لیکن ماضی میں یہ نیٹ ورک شہریوں پر بدترین حملوں کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔
"افغان نائب صدر امراللہ صالح نے سوشل میڈیا پر جلی حروف میں پوسٹ کیا کہ 'یہ طالبان کا کام ہے۔' انھوں نے دولت اسلامیہ (آئی ایس) گروپ کی جانب سے ذمہ داری کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقانی نیٹ ورک کی جانب سے اپنائی جانے والی حکمت عملی کے طرز کی چیز قرار دیا۔
سمیع مہدی نے زور دے کہا کہ کہ 'اس جنگ کو رکنا ہے۔ اس سفاکی کا واحد حل یہی تدارک ہوسکتا ہے۔'
فی الحال قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کیا یہ انتہا پسند دولت اسلامیہ کی کارستانی ہے جس نے اس کی فخریہ انداز میں ذمہ داری قبول کی ہے اور جو ماضی میں دارالحکومت میں ایک ٹیوشن سنٹر سمیت سکولوں پر حملہ کرتا رہا ہے؟ چار سال پہلے مشتبہ طالبان حملہ آوروں نے افغانستان میں امریکی یونیورسٹی کے کابل کیمپس میں حملہ کیا تھا۔ یا یہ اندرونی حملہ تھا جس کو یونیورسٹی کے ہی اندر سے اسلام پسندوں نے مدد فراہم کی ہو؟
اس بے رحم جنگ کے دوران بھی افغانی اس بات کو سمجھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کہ یونیورسٹی کے بے گناہ طلبا کو کیونکر دشمنی میں بھی اس طرح مارا جاسکتا ہے۔
فورتھ ایئر کے شعبۂ معاشیات کے طالب علم جمشید روشن گار نے کہا: 'وہ تعلیم سے خوفزدہ ہیں، وہ ہم سے خوفزدہ ہیں کیونکہ ہم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہم اپنے قلم اور اپنی کتابوں اور نئے خیالات کے ساتھ ان سے لڑتے رہیں گے۔'
'کبھی بھی پہلے جیسا نہیں ہوگا'
لیکن نوجوان افغانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ملک سے باہر نکلنے کے لیے جو اسمگلروں کا سہار لیتی ہے اور ان سے رجوع کرتی ہے وہ بھی خوف اور ناامیدی کی تصدیق کرتی ہے۔ ستمبر میں یونان کے دورے پر بی بی سی نے پایا کہ کس طرح اب نوجوان افغان میں ایک نئی لہر نظر آتی ہے جو ایک نئی زندگی کی تلاش میں یورپی ملک جانے کے لیے بالکان کے راستے کا انتخاب کر رہے ہیں۔
ستمبر کے مہینے میں جنوبی یونان کے ایک جزیرے پر ہماری ملاقات ایک نوجوان افغان سے ہوئی تھی۔ انھوں نے رواں ہفتے ایک واٹس ایپ پیغام میں بتایا: ' کابل یونیورسٹی میں میرے دوستوں نے مجھے بتایا کہ میں نے اچھا کیا جو وہاں سے نکل آیا'۔ اب وہ شمالی یونان میں اپنی اگلی منزل شمالی مقدونیا کی سرحد کے قریب رہ رہے ہیں۔
سرحدیں بند ہیں اور راہ میں حائل رکاوٹیں بڑھتی جا رہی ہیں لیکن پھر بھی نوجوان افغان کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
جمشید روشنگر نے کہا کہ 'یہاں افغانستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں، یہاں تک کہ کلاس روم میں بھی محفوظ نہیں ہے۔'
انھوں نے مزید کہا: میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے بیرون ملک جانا چاہتا ہوں لیکن میں افغانستان کو خوشحال بنانے میں مدد کرنے کے لیے واپس بھی آنا چاہتا ہوں۔ ایک بار پھر عظیم بننے کے لیے، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا، کیونکہ ہم کبھی عظیم نہیں تھے اور اسی وجہ سے ہم صرف اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔'
کابل یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر رقم ہے: 'تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جو دنیا کو بدل سکتی ہے۔' لیکن علم سے بہرہ مند ایک نسل اب اپنے سب سے مشکل امتحان کا سامنا کر رہی ہے۔
جمشید اب بھی رات کو ٹھیک سے سو نہیں سکتے کیونکہ ان کا دماغ ابھی بھی ان کے دوست محمد علی دانش کے بارے میں سوچتا رہتا ہے جنھیں ان کی لا کی کلاس کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا جبکہ جمشید اپنی معاشیات کی کلاس سے بھاگ کر اپنی زندگی بچانے میں کامیاب ہو گۓ تھے۔ انھوں نے کہا: 'علی اور میں نے ایک ہی خواب دیکھے تھے۔ مجھے اب بھی یقین نہیں آتا کہ میں اسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھ سکوں گا۔'
فرشتہ ہاشمی بھی آدھی رات کو جاگ پڑتی ہیں۔ انھوں نے کہا: 'میں نے ایسی چیزیں دیکھی ہیں جن کے بارے میں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں دیکھوں گی اور جب یونیورسٹی جاؤں گی تو پہلے جیسا کبھی بھی محسوس نہیں کروں گی۔' انھوں نے مزید کہا: 'اب ہم اس جنگ کی آگ میں جلنے والی لکڑیاں ہیں۔'