آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کابل یونیورسٹی میں استاد کی طالبہ کے بچے کو امتحان کے دوران دودھ پلانے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل
- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد
یہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کی کابل یونیورسٹی کے کمرہ امتحان کا منظر ہے۔ طلبہ پرچہ حل کرنے میں مصروف ہیں جبکہ ان کی نگرانی پر موجود استاد مستعد کھڑے ہیں۔
ذرا غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ استاد نے ایک نومولود بچہ بھی اٹھا رکھا ہے جسے وہ فیڈر کے ذریعے دودھ پلا رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے کو کابل یونیورسٹی میں ایک طالبہ کا چار ماہ کا بیٹا روتا رہا اور وہ پرچہ حل کرنے کی بجائے اپنے بچے کو چپ کرانے میں مصروف رہیں۔ ایسے میں کمرہ امتحان میں موجود ایک اُستاد آگے بڑھے، بچے کو گود میں لیا اور انھیں دودھ پلا کر بہلاتے رہے۔
یہ بھی پڑھیے
بچے کی ماں نے اس دوران سکون سے اپنا پرچہ مکمل کیا اورامتحانی ہال میں موجود کسی فرد نے یہ خوبصورت منظر اپنے کیمرے میں محفوظ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تصویر میں نظر آنے والے اُستاد دراصل کابل یونیورسٹی میں پشتو ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرر محمود مرہون ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس تصویر کے بعد دنیا بھر کے کئی ممالک سے انھیں پیغامات موصول ہوئے جن میں انھیں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
کئی سوشل میڈیا صارفین کو یہ تصویر اتنی پسند آئی کہ انھوں نے اسے سنہ 2020 میں افغانستان سے آنے والی سب سے اچھی تصویر قرار دیا ہے۔
’ہمیں بہت زیادہ محبت کی ضرورت ہے‘
اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد مرہون محمود نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہاں لوگ محبت کے لیے اتنے ترس رہے ہیں کہ میں نے ایک روتے ہوئے بچے کو بہلایا (جوکہ ایک چھوٹا کام ہے اور ہر افغان کو کرنا چاہیے) تو ہماری عوام حد سے زیادہ خوش ہوئی۔
'اگر جنگ ختم ہو جائے، ہم اسلحہ رکھ دیں اور ہر روز ایسے بچے یتیم نہ ہوں، تو ہم کتنے خوش ہوں گے؟ ہاں ہمیں بہت زیادہ محبت کی ضرورت ہے۔'
کابل یونیورسٹی کے اُستاد محمود مرہون نے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب انھوں نے بچے کو گود میں لیا اور اسے دودھ پلاتے رہے تو نہ صرف بچے کی ماں بلکہ امتحانی ہال میں موجود سارے طلبہ اور اساتذہ حیران تھے۔
محمود مرہون کہتے ہیں کہ یہ تصویر اس لیے بھی زیادہ وائرل ہوئی کیونکہ اس کی وجہ سے افغان باشندوں کے بارے میں مشہور تین باتوں کی نفی ہوئی۔
’پہلی بات تو یہ کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ افغان صرف جنگجو ہیں جبکہ اس تصویر میں محبت اور شفقت دکھائی دے رہی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ وہ محبت بانٹتے ہیں اور پوری دنیا سے بھی محبت چاہتے ہیں۔ ’ہم افغان پوری دنیا اور پوری انسانیت سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، ہم نہ صرف دیگر دنیا بلکہ اپنے ہمسایہ پاکستان اور انڈیا کے ساتھ بھی صرف اور صرف محبت دیکھنا چاہتے ہیں۔‘
ان کے مطابق افغانستان کے بارے میں دوسری اور تیسری بات یہ مشہور ہے کہ 'یہاں خواتین حصولِ علم سے محروم رہتی ہیں اور یہاں کے مرد خواتین کی عزت نہیں کرتے ہیں، جبکہ اس تصویر میں ان دو باتوں کی بھی نفی ہوئی ہے۔'
’ایسی تصاویر افغانستان کے لیے امید دیتی ہیں‘
محمد شفیق ہمدم، نرگس نورزئی سمیت دیگر سوشل میڈیا صارفین نے ٹوئٹر پر اس تصویر کو سنہ 2020 میں افغانستان سے سب سے اچھی تصویر قرار دیا ہے جبکہ ایک اور صارفہ مریم سلیمان خیل نے اسی تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ 'ایسی تصاویر مجھے افغانستان کے لیے اُمید دیتی ہیں۔'
افغان اُستاد کی یہ تصاویر نہ صرف افغانستان میں بلکہ کئی ممالک سے بھی قارئین نے سوشل میڈیا پر شئیر کی ہے۔
خالد امیری نامی ایک صارف نے لکھا کہ یہ تصویر انسانیت اور رحمدلی کی ایک بہترین مثال ہے۔
اسی طرح زبیر شرزاد نامی ایک صارف نے لکھا کہ مرہون بھائی آپ نے دنیا کو یہ پیغام پہنچایا کہ ہماری خواتین تعلیم سے اتنی محبت کرتی ہیں کہ وہ اپنا بچہ تک ساتھ لے آئی ہیں۔ آپ کے باعث ایک بہن نے پرسکون طریقے سے امتحان دیا۔
افغان اداکارہ فرشتے کاظمی نے کہا کہ یہ بھی افغان ’مردانگی‘ کی ایک مثال ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ آپ نے صرف ایک بچے کو بہلایا ہے لیکن ہم نے آپ سے انسانیت اور افغانیت سیکھ لی۔