آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اے کے 47 رائفل سے اپنے گھر کا دفاع کرنے والی افغان لڑکی: ’کیا نوریہ نے طالبان حملہ آوروں کو ہلاک کیا یا ان کے شوہر نے؟‘
- مصنف, کاوون خاموش
- عہدہ, بی بی سی فارسی
گذشتہ ماہ جب 15 سالہ نوریہ کے گھر پر حملے کیا گیا تو انھوں نے اے کے 47 رائفل سے دو افراد کو ہلاک کر دیا جبکہ تیسرے کو زخمی۔
انھیں اس وقت ایک ہیرو گردانہ جانے لگا لیکن اس رات جو ہوا اس کی کہانی خاصی پیچیدہ ہے۔
کیا نوریہ نے طالبان حملہ آوروں کو ہلاک کیا یا ان کے شوہر نے؟ یا دونوں نے مل کر؟
اس تحریر میں تمام کرداروں کی حفاظت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔
رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کچھ افراد گاؤں میں داخل ہوئے۔
نوریہ کے مطابق یہی کوئی ایک بجے کا وقت ہو گا جب یہ افراد ان کے والدین کے گھر کے سامنے والا دروازہ توڑتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔
زور دار آواز سے نوریہ بیدار تو ہو گئیں لیکن وہ ساکت اور خاموش رہیں۔ انھیں اپنے کمرے میں سوئے ہوئے 12 سالہ بھائی کا خیال آیا۔
ان کے والدین کا پہاڑوں کے قریب ایک چھوٹا سا گھر ہے۔ پھر انھیں آوازوں سے معلوم ہوا کہ یہ افراد ان کے والدین کو گھر کے باہر لے گئے ہیں۔ انھوں نے اس رات کے واقعات بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران بتائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد جو آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی وہ گولیوں کی تھی۔
’انھوں نے (میرے والدین کو) مار دیا۔‘
نوریہ افغانستان کے بدامنی کا شکار حصے میں موجود چھوٹے سے گاؤں میں پروان چڑھیں۔ وہ ایک انتہائی شرمیلی اور کم گفتار لڑکی ہیں لیکن اس کے باوجود انھوں نے بندوقوں کا استعمال اور انھیں نشانے پر فائر کرنے کا گر سیکھ رکھا تھا۔ یہ تربیت انھیں ان کے والد کی جانب سے ایک چھوٹی سی عمر میں دی گئی تھی۔
اس رات ڈر کر چھپنے کی بجائے نوریہ نے اپنے والد کی اے کے 47 رائفل اٹھائی اور گھر کے باہر موجود افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔
انھوں نے بتایا کے وہ تب تک گولیاں چلاتی رہیں جب تک ان کے پاس گولیاں ختم نہیں ہوئیں۔
انھوں نے کہا کہ آخرکار تقریباً ایک گھنٹے کے بعد یہ افراد رات کے اندھیرے میں ہی کہیں غائب ہو گئے۔ گھر کے باہر پانچ لاشیں موجود تھیں: دو لاشیں ان کے والدین کیں، ایک ان کے ہمسائے کی جو ان کے رشتہ دار بھی تھے اور دو حملہ آوروں کی بھی۔
’یہ انتہائی ہولناک (منظر) تھا۔ وہ بہت ظالم تھے۔ میرے والد معذور تھے۔ میری والدہ معصوم تھیں۔ اور انھوں نے بس انھیں ہلاک کر دیا۔‘
افغانستان میں پرورش پانے والی نوریہ جیسے دیگر نوجوانوں کو شاید جنگ کے سوا کچھ معلوم نہیں۔ حکومت کی اتحادی فورسز اور شدت پسند افغان طالبان گذشتہ 25 برس سے آمنے سامنے ہیں۔
حکومت کی اتحادی فورسز شہر اور بڑے قصبوں پر اپنا زور قائم رکھے ہوئے ہیں جبکہ طالبان نے دوردراز لیکن وسیع علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ نوریہ کے گاؤں جیسے دیگر علاقے عام طور اسی کشیدگی کے درمیان پھنس کے رہ جاتے ہیں۔
ان کا گاؤں صوبہ غور میں موجود ہے جہاں طالبان شدت پسند کی چھوٹی ٹولیوں کی جانب سے ایسے حملے جن میں حکومت کی اتحادی فورسز کو نشانہ بنایا جائے کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
نوریہ اور ان سے عمر میں بڑے سوتیلے بھائی جو ایک ملٹری پولیس افسر ہیں کہتے ہیں کہ ان کے والد کو شدت پسندوں نے اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ قبیلہ کے بااثر افراد اور حکومت کی اتحادی کمیونٹی کے سربراہ بھی تھے۔
تین ہفتے گزرنے کے بعد اس واقعے اور اس کے پسِ منظر سے متعلق مختلف کہانیاں سامنے آئی ہیں۔
نوریہ، ان کے بڑے بھائی، حملہ آوروں کے رشتہ داروں، مقامی پولیس، مقامی بااثر افراد، طالبان رہنماؤں اور افغان حکومت کے جانب سے پیش کی جانے کہانیاں اس دن کے واقعات کی یکسر مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
بی بی سی کو اس دن کے احوال کے حوالے سے معلوم ہونے والی متعدد کہانیوں کے مطابق اس دن حملہ آوروں پر فائرنگ کرنے والوں میں سے ایک نوریہ کے شوہر بھی تھے اور یہ کہ ایک لڑکی کا طالبان شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کی دلیرانہ کہانی دراصل ایک خاندانی جھگڑے کے باعث گھڑی گئی تھی۔
ان متضاد کہانیوں کے باعث یہ ڈر ضرور موجود ہے کہ کہیں نوریہ کے ساتھ اس رات جو ہوا وہ حقائق کہیں دفن نہ ہو جائیں۔
یہ صورتحال دراصل افغانستان کی دیہاتی زندگی کے حوالے سے ایک المناک حقیقت سے بھی پردہ اٹھاتی ہے اور وہ یہ کہ نوجوان خواتین اکثر ایک ایسی قبائلی تہذیب، روایتی رسم و رواج اور پدرشاہی نظام میں پھنس کے رہ جاتی ہیں جو ان کی زندگیوں پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔
نوریہ کی طرح ان کے پاس بھی اختیارات کی کمی ہے، انھیں تعلیم تک رسائی میں مشکلات ہیں اور کب یا کیسے انھیں اس پرتشدد ماحول میں گھسیٹ لیا جائے وہ اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتیں۔
اس حوالے سے جس بارے میں سب سے زیادہ متضاد کہانیاں سامنے آئی ہیں وہ گھر پر حملہ آوروں کی آمد اور ان کے وہاں ہونے کی وجوہات ہیں۔
نوریہ کے مطابق ان اجنبی افراد نے اپنا تعارف ’مجاہدین‘ کہہ کر کروایا اور یہ اصطلاح عام طور پر طالبان کی جانب سے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ وہ ان کے والد کے لیے آئے تھے۔
طالبان نے کسی بھی نوجوان لڑکی کے ساتھ مقابلے کی تردید کی ہے لیکن انھوں نے یہ ضرور تسلیم کیا ہے کہ ان کی جانب سے اس رات نوریہ کے ہی گاؤں میں حملہ کیا گیا تھا۔
انھوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ پولیس کی مقامی چوکی پر کیا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں دو طالبان ہلاک ہوئے تھے لیکن کوئی اور ہلاک نہیں ہوا تھا۔
افغان حکومت کے مقامی اور قومی رہنماؤں کی جانب سے ایک ’بڑے‘ طالبان حملے کے خلاف فتح کا اعلان کیا گیا اور نوریہ کو ایک ’ہیرو‘ بنا کر پیش کیا گیا۔
جب نوریہ اور ان کے چھوٹے بھائی کو فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کے ضلع سے ایک محفوظ مقام تک پہنچایا جا رہا تھا تو تب تک سوشل میڈیا پر ایک ایسی نوجوان لڑکی کے چرچے ہو چکے تھے جس نے اپنے دفاع میں بندوق اٹھائی تھی۔
افغانستان کے صدر کا طالبان حملوں کا کامیابی سے جواب دینے پر کسی کی تعریف کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن صدر اشرف غنی نے جب نوریہ کو دارالحکومت کابل آنے کی دعوت دی تو اس پر ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا۔
کچھ نے کہا کہ وہ ایک ہیرو ہیں جبکہ اکثر کا کہنا تھا کہ وہ ایک معصوم لڑکی ہیں جو دونوں اطراف سے پھنس چکی ہیں۔ ایک طرف سے ان پر حملہ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب سے انھیں ایک تشہیری مہم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا: ’سمجھ نہیں آتا کہ ایک ایسے ملک میں جس کے لوگوں نے اتنی اموات اور تشدد دیکھا ہے کہ وہ زندگی کی قدر جانتے ہیں، وہاں پر بھی تشدد کی عظمت گنوائی جا رہی ہے اور ہتھیار اٹھانے کی تعریف کی جا رہی ہے۔ تشدد کا جواب تشدد نہیں ہے۔‘
ایک اور صارف نے نوریہ کو ’اپنی جان بچانے میں کامیاب افغان خواتین کی علامت‘ قرار دیا۔
انھوں نے لکھا: ’کئی ایسے افغان متاثرین ہیں جو کچھ نہیں کر سکے۔ وہ ان زخموں کے درد سے نمٹ رہے ہیں جو انھیں طالبان کی مقدس جنگ کی وجہ سے لگے۔‘
اگلے دن مقامی پولیس نے حملے کی جگہ پر دو ہلاک افراد کی لاشوں سے شناختی کارڈ برآمد کیے۔ حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں ہی طالبان کے حامی تھے۔
پولیس کے مطابق ایک تیسرے شخص جو زخمی ہوئے مگر بھاگ نکلنے میں کامیاب رہے، وہ ایک اعلیٰ سطحی طالبان کمانڈر سید معصوم کامران تھے۔
بی بی سی دونوں ہلاک افراد کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے میں کامیاب رہا۔ یہ دونوں 20 کے پیٹے کے اواخر میں تھے، روایتی افغان لباس یعنی ڈھیلی شلواریں اور رنگین ویسٹ کوٹ پہنے ہوئے تھے۔ اب ان کی قمیضیں خون سے بھر چکی تھیں۔
اور طالبان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ جس کمانڈر کو پولیس نے نامزد کیا تھا اور جو مبینہ طور پر وہاں سے بھاگ نکلے تھے، وہ واقعتاً اس وقت زخمی تھے، تاہم ذرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ کب اور کہاں زخمی ہوئے۔
مقامی طالبان ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس مقام پر موجود افراد میں سے ایک کئی سال پہلے جنوبی افغانستان کے ہلمند صوبے میں ان کے نیٹ ورک سے منسلک تھے۔
نوریہ اور ان کے 12 سالہ بھائی صدر کی ایما پر دارالحکومت میں آ چکے ہیں اور ان کے والدین کے قتل کا مقدمہ صدمہ انگیز مگر کافی سیدھا سادہ لگتا ہے۔
حملے کے ایک ہفتے کے بعد یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ مردہ حملہ آوروں میں سے ایک شخص کوئی عام حملہ آور نہیں بلکہ نوریہ کے شوہر تھے۔
خاندان کے ارکان اور مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ نوریہ کے شوہر رحیم گاؤں آئے تھے تاکہ اپنی اہلیہ کو واپس لے جا سکیں، جنھیں ان کے والد ایک خاندانی جھگڑے کے بعد اپنے گھر لے آئے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ شوہر طالبان سے منسلک ہو چکے تھے اور وہ گھر پر طالبان جنگجوؤں کے ساتھ آئے تھے۔
جس شخص کو انھوں نے نوریہ کا شوہر بتایا وہ اس رات ہلاک ہونے والے لوگوں میں سے ایک تھے۔
نوریہ اس بات سے انکاری ہیں کہ ان کی کبھی شادی ہوئی تھی۔
کچھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوریہ ایک ’موکھی‘ معاہدے کا حصہ تھیں جس کے تحت دو خاندانوں کے درمیان شادیوں کے لیے دو خواتین رشتہ داروں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
رحیم کو نوریہ سے دوسری شادی کرنی تھی جبکہ نوریہ کے والد کو رحیم کی نوعمر بھتیجی سے دوسری شادی کرنی تھی۔ تاہم کیونکہ دونوں لڑکیاں ابھی انتہائی کم عمر تھیں اس لیے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وہ متعدد سال انتظار کرنے کے بعد شادی کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔
افغانستان کے دیہی علاقوں میں اس طرح کی کہانی کی سچائی جاننا آسان نہیں ہوتا۔ نوریہ کا گاؤں کھیتوں کے وسیع منظر میں موجود ہے اور اسے بلند و بالا پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے۔ صرف فون کے سگنلز کے حصول کے لیے گاؤں والوں کو کسی قریبی چوٹی پر چڑھنا پڑتا ہے۔
اس بارے میں سچائی معلوم کرنے کے لیے کہ کیا واقعی رحیم نوریہ کے شوہر تھے بی بی سی نے رحیم کی والدہ شفیقہ کو ڈھونڈا۔
وہ جنوب مشرقی افغانستان میں صوبہ نیمروز میں مقیم ہیں اور انھوں نے اس حوالے سے تصدیق کی کہ ان کے بیٹے نے نوریہ سے تین برس قبل شادی کی تھی جبکہ ان کی ایک پوتی جو رحیم کی بھتیجی تھیں کی نوریہ کے والد سے شادی ہوئی تھی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ دو برس قبل جب رحیم ہلمند میں کام کر رہا تھا تو نوریہ کے والد اچانک ان کی گھر آئے اور اپنی بیٹی لے گئے اور رحیم کی بھتیجی کو چھوڑ گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس تبادلے کا خاتمہ کر دیا۔
شفیقہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے بااثر افراد سے اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے مدد مانگی لیکن غریب ہونے کے باعث وہ نوریہ کے والد کو روکنے میں ناکام رہے۔
انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی رحیم حملے کی رات نوریہ کے گھر گئے تھے تاہم انھوں نے کہا کہ وہ قتل کرنے کی غرض سے نہیں گئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’وہ طاقتور لوگ ہیں۔ ہم غریب لوگ ہیں۔ وہ وہاں آدھی رات کو نہیں گیا تھا بلکہ شام میں نوریہ کے والد کی دعوت پر گیا تھا تاکہ مسائل کا حل نکال سکے اور اگر نوبت وہاں تک پہنچے تو طلاق کے حوالے سے معاملات طے کر سکے۔‘
انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ ان کا بیٹا طالبان جنگجو ہے لیکن ان کی کہانی میں رحیم کے ہلمند کام پر جانے کے اوقات طالبان ذرائع سے ملنے والے اوقات سے ضرور ملتے ہیں جس کے مطابق دو سال قبل نوریہ سے شادی کرنے سے پہلے وہ ہلمند میں ان کے نیٹ ورک کا حصہ تھے۔
شفیقہ نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا بیٹا طالبان کا رکن نہیں تھا بلکہ وہ تعمیرات کا کام کرتا تھا۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں بندوق کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ہم غریب لوگ ہیں، ہماری کوئی نہیں سنتا، کوئی بھی نہیں۔‘
شفیقہ نے 12 سال قبل رحیم کے بھائی جو کہ ایک پولیس افسر بھی تھے ان کے نیمروز میں ایک خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے کی کہانی بھی سنائی۔
اب ان کے خاندان میں کوئی کمانے والا مرد موجود نہیں۔ وہ ایک اور ایسی افغان خاتون ہیں جو پرتشدد دھارے میں پھنس کر رہ گئی ہیں اور ان کے پاس اس سے نکلنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
نوریہ کے صوبے میں مقامی پولیس سمیت گاؤں کی چند بااثر شخصیات اور مرکزی افغان حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کے رحیم اور نوریہ شادی شدہ نہیں تھے اور ان کے گھر پر ہونے والا حملہ طالبان کی جانب سے ایک معمول کا حملہ تھا اور ان کے والد کو نشانہ بنانے کا ہی ارادہ تھا۔
بہت کم افراد کو ٹھیک سے معلوم ہے کہ اس رات کیا ہوا تھا۔ شاید نوریہ، ان کے چھوٹے بھائی اور بچ جانے والا ایک حملہ آور ہی حقائق سے آشنا ہیں۔ شاید کسی کو بھی تمام حقائق کے بارے میں معلوم نہ ہو۔
اس پرتشدد رات کے بعد طلوع ہونے والی صبح نوریہ نے ہمسایوں کے ساتھ مل کر اپنے والدین کو گھر کے قریب ہی عارضی قبروں میں دفنایا۔ جب انھیں قبروں میں اتار رہے تھے تو افغانستان حکومت اور طالبان کے درمیان پہلے براہ راست امن مذاکرات کی تیاری کر رہا تھا۔
یہ مذاکرات اس بات کی امید فراہم کرتے ہیں کہ افغانستان میں زندگی گزارنے کے مختلف انداز کو پروان چڑھایا جا سکے گا لیکن پھر بھی سینکڑوں افغان باشندے ہر ماہ ہلاک کر دیے جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر معصوم خواتین اور بچے ہوتے ہیں۔
نوریہ کی طرح ان کے بھی محدود اختیارات اور آواز ہوتی ہے اور ان کے پاس جسمانی اور جذباتی طور پر اپنا کسی بھی انداز میں دفاع کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔