کابل یونیورسٹی پر حملے میں کم از کم 22 افراد کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں سوگ

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں یونیورسٹی میں ہونے والے حملے میں 22 افراد کی ہلاکت کے بعد منگل کو ملک بھر میں یومِ سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ افغان صدر نے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے خون کا حساب لینے کا اعلان کیا ہے۔

کابل یونیورسٹی میں پیر کو ایرانی کتب میلے کے افتتاح سے قبل ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ اساتذہ، طلبہ اور سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

منگل کو اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق پیر کی صبح 11 بجے افغان فوج کی وردیوں میں ملبوس تین حملہ آور کابل یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور وہاں موجود طلبہ اور اساتذہ کو نشانہ بنایا۔

افغانستان میں اعلیٰ تعلیم کی وزارت کے ترجمان حمید عبیدی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حملہ اس وقت شروع ہوا جب چند اعلیٰ سرکاری اہلکار یونیورسٹی میں کتب میلے کے افتتاح میں شرکت کے لیے پہنچنے والے تھے۔

کابل میں بی بی سی کے محفوظ زبیدے کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ تین حملہ آور یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور انھوں نے فائرنگ شروع کر دی۔

یہ بھی پڑھیے

ان حملہ آوروں کے خلاف سکیورٹی فورسز کا آپریشن پانچ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا۔ ترجمان کے مطابق کئی گھنٹوں کے آپریشن کے بعد تین حملہ آوروں کو ہلاک کر کے صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ایک علاقائی گروہ نے قبول کی ہے۔

اس سے قبل طالبان کی طرف سے اس حملے سے لا تعلقی کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس کے چند گھنٹے بعد دولتِ اسلامیہ نے ٹیلی گرام نامی ایپ پر ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے ’مرتد افغان حکومت کے لیے کام کرنے والے ججز اور تفتیشی افسران کی گریجوایشن کو نشانہ بنایا‘۔

افغانستان میں تعلیمی مراکز کو اکثر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ ماہ ایک تعلیمی مرکز کے باہر بھی حملہ کیا تھا جس میں 24 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تنظیم نے 2018 میں کابل یونیورسٹی کے باہر بھی ایک دھماکہ کیا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حملے میں بہنے والے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے

افغان صدر اشرف غنی نے اس حملے کے بعد سرکاری ٹی وی پر قوم سے مختصر خطاب میں کہا کہ ایسے حملے افغان عوام کے ارادے کمزور نہیں کرسکتے اور وہ اس حملے میں بہتے ہوئے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے۔

’طالبان سمیت تمام دہشت گرد گروہوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ایسے حملوں سے عظیم افغان عوام کے ارادے کمزور نہیں کرسکتے اور ہم اس حملے کا بدلہ لیں گے۔‘

عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

23 سالہ طالب علم فریدون احمدی اس وقت کلاس میں موجود تھے جس وقت یہ حملہ شروع ہوا۔ انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’لڑکے اور لڑکیاں چیخیں مار رہے تھے، دعائیں کر رہے تھے اور مدد کے لیے آوازیں لگا رہے تھے۔‘

ایک اور عینی شاہد فتح اللہ مرادی نے روئٹرز کو بتایا کہ حملہ آوروں نے جس طالب علم کو دیکھا اسے گولی مارنے کی کوشش کی اور ان طلبہ کو بھی نشانہ بنایا جو ان سے دور بھاگ رہے تھے۔

دوحہ معاہدے کے بعد جنگ میں تیزی

رواں برس فروری میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد طالبان نے امریکہ پر حملے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم افغان فوج اور حکومت کے خلاف طالبان کے حملوں شدید اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ ماہ کی 21 تاریخ کو افغانستان کے شمال میں صوبہ تخار میں طالبان کے ایک حملے میں کم از کم 34 افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ صوبہ ہلمند اور قندھار میں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی کی وجہ سے سینکڑوں گھرانے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

افغانستان کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات کے ساتھ ساتھ اُدھر دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے مذاکراتی ٹیموں میں کئی ملاقاتوں کے بعد بھی ابھی تک باضابطہ طور پر بین الافغان مذاکرات شروع نہیں ہوئے ہیں۔