میڈیسن کاتھورن: 1965 کے بعد کانگریس کے سب سے کم عمر رکن کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
سیاست کے میدان میں نووارد میڈیسن کاتھورن کو سنہ 1965 کے بعد کانگریس کے اب تک منتخب ہونے والے سب سے کم عمر رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہوگا۔
انھوں نے اس سال جون کے مہینے میں صدر ٹرمپ کے نامزد کردہ امیدوار کو رپبلیکن پارٹی کے پرائمری انتخابات میں شکست دی تھی۔
میڈیسن کاتھورن نے ان انتخابات میں نارتھ کیرولائنا میں کانگریس کے گیارہویں ضلع سے 54 فیصد ووٹ حاصل کر کے اپنے مدمقابل ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کو واضح اکثریت سے شکست دی ہے۔
وہ ریئل اسٹیٹ کے سرمایہ کار اور مقرر ہیں اور اس سال اگست میں ہی 25 سال کے ہوئے ہیں۔ کانگریس کا رکن منتخب ہونے کے لیے کم سے کم عمر کی شرط 25 سال ہی ہے۔
ٹانگوں سے معذور یہ نوجوان سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہی تنازعات کا شکار بھی رہے ہیں۔
امریکہ کی تاریخ میں کاتھورن کانگریس میں منتخب ہونے والے تیسرے کم عمر ترین رکن ہوں ہیں۔ وہ سنہ 1965 میں ٹینیسی سے منتخب ہونے والے جیڈ جانسن جونیئر سے چند ماہ بڑے ہیں جنھوں نے اپنی 25ویں سالگرہ کے سات روز بعد اپنا عہدہ سنبھال لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال کیا جاتا ہے کہ امریکہ کی تاریخ میں ولیم چارلس کول کیلیبورن کانگریس کے رکن منتخب ہونے والے سب سے کم عمر شخص تھے۔ کانگریس کے ریکارڈ کے مطابق وہ ڈیموکریٹک - ریپبلیکن پارٹی کی طرف سے ٹینیسی سے 1797 میں صرف 22 برس کی عمر میں منتخب ہوئے تھے۔ بعض ذرائع کے مطابق اس وقت ان کی عمر 23 تھی جبکہ بعض کے مطابق 24 برس تھی۔ وہ کانگریس میں عمر کی شرط پر پورا نہ اترنے کے باوجود ایوان میں خدمات انجام دیتے رہے تھے۔
میڈیسن کاتھورن کون ہیں؟
میڈیس کاتھورن سنہ 2014 میں کار کے ایک حادثے میں اپنی ٹانگوں سے معذور ہو گئے تھے۔
کاتھورن صدر ٹرمپ کی نامزد کردہ امیدوار لیڈا بینٹ کو شکست دینے کے بعد رپبلیکن پارٹی میں اب ابھرتے ہوئے ستارے کے مترادف ہیں۔
رپبلیکن جماعت کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے ہونے والے پرائمری انتخابات کی مہم کے دوران اپنی مدمقابل کو ’ڈیبیٹ' یا سیاسی مباحثوں میں حصہ نہ لینے پر تنقید کا نشانہ بناتے تھے اور انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ اہم سیاسی شخصیات کے پیچھے نہیں چھپتے۔
اس کے باوجود وہ صدر ٹرمپ کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
کانگریس کی رکنیت کے انتخابات میں کاتھرون نے ڈیموکریٹک جماعت کے مو ڈیوس کو جو امریکہ فضائیہ کے سابق وکیل تھے، شکست دی ہے۔
کاتھرون نے کہا کہ انہوں نے سیاست میں حصہ لینے کا اس لیے فیصلہ کیا کہ وہ ڈیموکریٹک جماعت کی سپیکر نینسی پلوسی اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اس وقت کانگریس کی سب سے کم عمر رکن تھیں۔ سنہ 2018 میں وہ 29 برس کی عمر میں کانگریس کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔
کاتھرون کا کہنا ہے کہ 'ہمارے عقائد، ہماری اقدار اور ہماری آزادی سب کو ہماری ساحلی علاقوں میں بسنے والی اشرافیہ اور بائیں بازو کے نیسنی پلوسی اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے لوگوں کی طرف سے خطرہ ہے۔'
اپنی ویب سائٹ پر انھوں نے لکھا کہ وہ پیدائشی طور پر ہار ماننے والے نہیں اور اپنی نوجوانی میں انہوں نے ایک بڑے حادثے کے آگے ہار نہیں مانی اور اب وہ کانگریس میں لبرلز سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔'
یہ بھی پڑھیے
وہ اپنے آپ کو ایک آئینی قدامت پسند کہتے ہیں اور ان کا کہنا کہ وہ امریکہ کی آزادی، لبرٹی اور آگے بڑھنے کے مساواتی مواقعوں کے سنہری اصولوں کو آج کے مسائل حل کرنے کے لیے بروئے کار لائیں گے۔'
کاتھورن کہتے ہیں کہ کار کے حادثے کا شکار ہونے سے پہلے وہ امریکی بحریہ میں شامل ہونا چاہتے تھے۔
کاتھرون متنازع کیوں ہو گئے ہیں؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام
سنہ 2017 میں کاتھرون پر اس وقت تنقید کی گئی جب انھوں نے جرمنی میں ہٹلر کے ایگل نیسٹ نامی گھر پر جانے کے بعد ایک بیان دیا تھا۔
اپنے انسٹا گرام کے صفحے پر انھوں نے لکھا تھا کہ ’ایک عرصے سے ہٹلر کا یہ گھر دیکھنے کی خواہش تھی اور مایوسی نہیں ہوئی۔'
انہوں نے مزید لکھا تھا کہ یہاں انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا جہاں 79 سال پہلے ایک 'سپریم ایول' نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا ہوگا۔
کاتھرون کے مخالفین نے اس موقع کو فائدہ اٹھاتے ہوئے انھیں سفید فام انتہا پسند قرار دینا شروع کر دیا تھا۔ وہ ان الزامات کو رد کرتے رہے ہیں۔
اس سال کے شروع میں کئی خواتین نے ان پر طالب علمی کے زمانے میں جنسی طور پر ناروا سلوک روا رکھنے کے الزامات لگائے تھے۔ لیکن وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔












