فرانس اور متنازع خاکے: مسلم ممالک کی خواتین اب فرانسیسی مصنوعات کیوں نہیں خریدنا چاہتیں؟

،تصویر کا ذریعہArshad Tareen/Merve Ozdemir/Hiba Mohamed
- مصنف, سودابا حیدرے
- عہدہ, بی بی سی نیوز
فرانس کی جانب سے پیغمبر اسلام کے متنازع خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں کے مذہب اسلام سے متعلق بیانات کے بعد ترکی سے ملائیشیا اور اردن سے بنگلہ دیش تک مسلم ممالک میں عوام احتجاجاً فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے پر زور دے رہی ہے۔
مسلم اکثریتی ممالک میں سپر مارکیٹوں میں دکانداروں نے ’فرانسیسی مصنوعات‘ سے بھرے شیلف خالی کر دیے ہیں اور سوشل میڈیا پر ’بائیکاٹ فرینچ پراڈکٹس‘ (یعنی فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ) جیسے ہیش ٹیگس گذشتہ ایک ہفتے سے ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
اس ردعمل میں اضافہ اُس وقت ہوا جب صدر میکخواں نے ایک فرانسیسی استاد کے قتل کے بعد اسلام کے متعلق بیانات دیے۔ یاد رہے کہ ایک تاریخ کا مضمون پڑھانے والے فرانسیسی استاد نے آزادی اظہار کے تحت کلاس روم میں طلبا کو پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے دکھائے تھے۔
فرانس کے صدر میکخواں کا کہنا تھا کہ ’استاد کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ اسلامی انتہا پسند ہمارا مستقبل چھیننا چاہتے ہیں لیکن فرانس (متنازع) خاکوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔‘
وہ پیغمبر اسلام کے ان متنازع خاکوں کا حوالہ دے رہے تھے جو سنہ 2006 میں فرانس کے ایک جریدے چارلی ایبڈو نے شائع کیے تھے اور جس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔
فرانس میں جمعرات کو جنوبی شہر نیس میں ایک چرچ حملے میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد عوام میں مسلم مخالف جذبات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور فرانسیسی صدر نے اس حملے کو ’ایک اسلامی انتہا پسند حملہ‘ قرار دیا تھا جس کے بعد انھیں سکیولرزم اور آزادی رائے کے اظہار کا دفاع کرنے پر فرانس میں بہت پذیرائی مل رہی ہیں۔
مگر فرانسیسی صدر بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک میں نفرت کی علامت بن چکے ہیں جہاں ہزاروں افراد ان کی پوسٹرز اٹھائے مظاہرے کر رہے ہیں اور احتجاجاً فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی نیوز نے فرانس کے شہر نیس میں چرچ حملے سے قبل تین افراد سے بات کی تھی جن کا کہنا ہے کہ فرانس کے جانب سے اسلام مخالف بیانات اور پیغمبر اسلام کے متنازع خاکوں کی اشاعت کے بعد انھوں نے فرانسیسی مصنوعات نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستانی اداکارہ مشی خان

،تصویر کا ذریعہAhsan Waheed
میں فرانس کی بنی کئی کاسمٹیک مصنوعات استعمال کیا کرتی تھی، خاص کر لوریل جو پاکستان میں آسانی سے دستیاب ہیں لیکن اب میں کھانے کی چیزوں سے لے کر لگژری اشیا کی خریداری کے وقت مصنوعات پر لگے لیبل کو پڑھتی ہوں تاکہ یہ یقینی بنا سکوں کہ یہ ’فرانسیسی مصنوعات‘ تو نہیں ہیں۔
میں اب فرانسیسی مصنوعات کی جگہ پاکستانی مصنوعات خرید رہی ہوں۔
کیوں؟ کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک ملک کا صدر ایک دن اٹھے اور تمام دنیا کے مسلمانوں کی تضحیک کرنے کا فیصلہ کرے۔ میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی ہر کسی سے یہ مطالبہ کر رہی ہوں کہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ میرا ضمیر مطمئن ہے کیونکہ میں اسلام کا دفاع کرنے کے لیے کچھ کر رہی ہوں۔
بس بہت ہو گیا دنیا نے ہمارے مذہب اور ہمارے پیغمبر کی بہت توہین کر لی، اب مزید برداشت نہیں ہو گا، ہم انھیں معاف کرتے رہے جنھوں نے ہمارے مذہب اسلام کا مذاق اڑایا لیکن اب ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب ہم اس متعلق اقدام اٹھا رہے ہیں۔
مجھے لگتا ہے کہ فرانسیسی صدر میکخواں جان بوجھ کر ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایسا ہے کہ آپ کسی کو چٹکی کاٹیں اور پھر پوچھیں ’کیا تمھیں درد ہو رہا ہے۔‘
مجھے لگتا ہے کہ یہ کسی بڑی سازش کا حصہ ہے، مجھے لگتا ہے وہ نفرت پیدا کر رہے ہیں وہ لوگوں کو اُکسا رہے ہیں اور اُن میں تفریق پیدا کر رہے ہیں۔
اُن کے بُرے اعمال اور بیانات لوگوں کو اسلاموفوبیا کے متعلق اشتعال دلا سکتے ہیں، اس ملک کے صدر کو کیا کہا جائے جو اپنی عوام پر اثر انداز ہوں، ان کا کام اپنے ملک کے تمام شہریوں کی برابری کی سطح پر عزت کرنا اور انھیں متحد کرنا ہے۔
جب میں نے پہلی مرتبہ فرانسیسی جریدے میں شائع ہونے والے متنازع خاکے دیکھے تھے تو میرے پاس اس کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں تھے، میں نے بہت عرصہ تک ان خاکوں کو دیکھنے سے خود کو بچایا لیکن جب میں نے انھیں دیکھا، میں صدمے سے دوچار ہو گئی، میں روئی اور میں نے خدا سے پوچھا ’میں نے یہ کیوں دیکھے؟‘

ترک طالب علم لطیفے ازدمیر

،تصویر کا ذریعہMerve Ozdemir
لنیکومے، گارنیئر اور بی آئی سی وہ چند برانڈز تھے جو میں روزمرہ زندگی میں لازمی استعمال کرتی تھی، لیکن اب جو کچھ فرانس میں ہوا ہے، میں ان مصنوعات کو مزید نہیں خرید رہی۔
میں فرانس کی مصنوعات کا اس لیے بائیکاٹ کر رہی ہوں کیونکہ میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ اب ہم اسے مزید قبول نہیں کریں گے۔ میں فرانس کے اسلاموفوبیا کا جواب دینا چاہتی ہوں۔
ہم مسلمانوں کے لیے یہ اہم ہے کہ ہم بہت عرصہ خاموش رہے ہیں لیکن اب ہم آواز اٹھائیں۔ اس وقت ہم صرف ان مصنوعات کا بائیکاٹ ہی کر سکتے ہیں۔
فرانس کے جریدے چارلی ایبڈو نے ترک صدر اردوغان کا ایک اور قابل اعتراض خاکہ شائع کیا ہے جس میں انھیں بنا ٹراؤز ٹی شرٹ پہنے، ہاتھ میں بیئر کا کین تھامے، ایک حجاب والی مسلمان خاتون کی سکرٹ کو اٹھاتے دکھایا گیا ہے۔
وہ خواتین جو حجاب پہنتی ہیں ان کے لیے مسلمان خاتون کو اس طرح دیکھنے سے بہت دُکھ پہنچے گا۔
میری طرح کی مسلمان خواتین اپنی روز مرہ زندگی میں اسلام کے مثبت عکاسی کرنے کی کوشش اور معاشرے میں اپنے لیے برابری کی سطح پر وہ مقام لینے کی جدوجہد کر رہی ہیں جہاں ہمیں سنجیدہ لیا جائے۔
لیکن اس قسم کے متنازع خاکے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ اس سب کا کوئی فائدہ نہیں اور یہ کہ یورپ کبھی ہمیں ایک غیر مسلم خاتون کے برابر نہیں سمجھے گا اور یہ ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے۔
خاکے اور تتنقید معاشرے میں فکری سوچ اور بحث و مباحثے کو جنم دینے کے لیے ہونے چاہیے مگر یورپ اس کی بجائے انھیں مسلمانوں کی قدامت پسند عکاسی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
اس طرح کے خاکے بنا کر وہ ہمیشہ جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں اور میں حیران ہوں کہ کیا ہم یہ چاہتے ہیں: ایک ایسی دنیا جہاں ہم آزادی اظہار رائے کے نام پر ایک دوسرے کی تضحیک کریں اور ایک دوسرے سے نفرت کریں؟

موریطانیہ کی طالبہ حبا محمد موسیٰ

،تصویر کا ذریعہHiba Mohamed Moussa
میں نے موریطانیہ کے دارالحکومت نواکشوط میں فرانس مخالف ہونے والے مظاہروں میں اپنے اہلخانہ اور دوستوں کے ہمراہ شرکت کی ہے۔
میں فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ اس امید سے کر رہے ہیں کہ اُن کی معیشت بیٹھ جائے گی اور فرانسیسی صدر میکخواں اپنے قابل اعتراض اور مسلم مخالف بیانات پر دنیا کے دو ارب مسلمانوں سے معافی مانگیں گے۔
ہم اب فرانسیسی کمپنی ہیپی کاؤ کی پنیر استعمال کرنے کی بجائے ترک مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔ میرے پاس فرانسیسی برانڈ لاکوسٹے کا پرفیوم ہے لیکن ایک بار بوتل ختم ہو جانے کے بعد میں دوبارہ اسے نہیں خریدوں گی۔
میں نے صدر میکخواں کو خط لکھا ہے جس میں، میں نے ان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ اگر ایک استاد قابل عزت ہے تو ہمارے پیغبر بھی قابل احترام ہیں کیونکہ وہ بھی معلم تھے۔
جس بات نے ہمیں سب سے زیادہ غصہ دلایا وہ ان کے اسلام مخالف بیانات تھے جس میں انھوں نے اسلام کو جنونیت اور انتہا پسندی سے جوڑ دیا۔ یہ سراسر نا انصافی اور اشتعال انگیزی ہے اور ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے۔
حقیقت یہ ہے کہ فرانس جیسے ایک ملک کا صدر ایسی تصاویر لے جو کسی ایک گروہ کے لیے قابل اعتراض اور تضحیک آمیز ہوں اور انھیں غیر ضروری طور پر کوریج دے اور پراپیگنڈا کرے۔ یہ آزادی اظہار رائے نہیں ہے بلکہ میں ایک خاص مذہبی گروہ پر حملہ ہے۔ وہ چاہیے اس کو کسی منصوبے کے لیے استعمال کریں یا سیاسی فائدہ کے لیے لیکن یہ ایک گھٹیا حرکت ہے۔
میں اس وقت بہت چھوٹی تھی جب فرانس کے جریدے چارلی ایبڈو نے پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے شائع کیے تھے لیکن مجھے وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب اس کے دفتر پر حملہ ہوا تھا۔ اس وقت سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی پروفائل تصویر پر چارلی ایبڈو کی تصویر لگا رہا تھا۔
میں نے بہت عرصہ تک ان متنازع خاکوں کو نہ دیکھنے کی کوشش کی لیکن ایک دن میں نے انھیں اپنے ٹوئٹر پر دیکھ لیا، میں نے جب انھیں دیکھا تو مجھے بے عزتی اور تضحیک کا احساس ہوا۔ کیوں مذہب اسلام کو بھی یہودیت اور عیسائیت کی طرح عزت نہیں دی جاتی؟











