فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا الجزیرہ پر انٹرویو: ’سخت گیر اسلام سب کے لیے خطرہ ہے۔۔۔ جنگ اسلام کے خلاف نہیں، دہشتگردی کے خلاف ہے‘

ایمانویل میکخواں، فرانس

،تصویر کا ذریعہEPA

فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں تاہم ’سخت گیر اسلام سب کے لیے خطرہ ہے۔‘

صدر میکخواں نے یہ باتیں قطر کے نیوز چینل الجزیرہ کو دیے ایک انٹرویو کے دوران کہیں۔ اس گفتگو میں انھوں نے پیغمبرِ اسلام کے متنازع خاکوں، نیس میں چاقو حملے سے ہونے والی ہلاکتوں، اور مسلم ممالک کی جانب سے ان کے بیانات پر سخت ردعمل کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

رواں ماہ فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے متنازع خاکے دکھانے پر ایک استاد کو قتل کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد فرانس میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ یہ خاکے طنزیہ فرانسیسی جریدے چارلی ایبڈو میں شائع ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ایمانویل میکخواں، فرانس، مسلمان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر ایمانویل میکخواں کی فرانسیسی حکومت اور ان کے ملک میں متنازع خاکوں کی تشہیر کے خلاف کئی مسلم اکثریتی ممالک میں مظاہرے کیے گئے ہیں

صدر میکخواں نے اظہارِ رائے کی آزادی کی بنیاد پر پیغمبر اسلام کے متنازع کی تشہیر کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلم انتہا پسند تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔

متنازع خاکوں پر فرانسیسی صدر کا کیا موقف ہے؟

صدر میکخواں نے کہا: 'میں ان مسلمانوں کے جذبات کو سمجھتا ہوں جنھیں پیغمبرِ اسلام کے خاکے دیکھنے پر صدمہ پہنچا ہے۔

’لیکن جس سخت گیر اسلام سے وہ لڑنے کی کوششیں کر رہے ہیں وہ سبھی لوگوں، خصوصاً مسلمانوں، کے لیے خطرہ ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں ان کے جذبات کو سمجھتا ہوں اور ان کا احترام کرتا ہوں۔ لیکن آپ کو بھی میرے کردار کو سمجھنا ہوگا۔ مجھے اس کردار میں دو کام کرنے ہیں: امن کا فروغ اور حقوق کا تحفظ۔‘

ایمانویل میکخواں، فرانس

،تصویر کا ذریعہReuters

فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے ملک میں بولنے، لکھنے، سوچنے اور خاکے بنانے کی آزادی کا دفاع کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ فرانس میں ایک اندازے کے مطابق 60 لاکھ مسلمانوں کی آبادی ہے اور اس میں ان کی ایک اقلیت سے 'کاؤنٹر سوسائٹی' پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ کاؤنٹر سوسائٹی یا کاؤنٹر کلچر کا مطلب ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جو اس ملک کے معاشرے کی اصل ثقافت سے مختلف ہو۔

ایمانویل میکخواں کے فیصلے پر کچھ مسلم اکثریتی ممالک میں غصے کا اظہار کیا گیا۔ بہت سے ممالک نے فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کی اپیل بھی کی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ اگر فرانس میں مسلمانوں پر دباؤ ہے تو عالمی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کی حفاظت کے لیے آگے آئیں اور فرانسیسی لیبل کا سامان نہ خریدیں۔ انھوں نے میکخواں کو دماغی علاج کا مشورہ بھی دیا تھا۔

اس کے بعد فرانس کے شہر نیس کے ایک گرجا گھر میں، پولیس کے مطابق، ایک شخص نے چاقو سے کیے گئے حملے میں تین افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

اردوغان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنترک صدر اردوغان نے فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے

اس کے بارے میں صدر میکخواں نے کہا ہے کہ: ’میرا یہ پیغام دہشت گردی کا شکار نیس اور اس کے لوگوں کے لیے ہے۔

’آپ کے شہر میں تیسری بار دہشت گردانہ حملہ ہوا ہے۔ پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ اگر ہم پر دوبارہ حملہ کیا جاتا ہے تو یہ ہمارے اقدار کے عزم، آزادی کے لیے ہمارے عزم اور دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکنے کی وجہ سے ہوگا۔

’ہم کسی بھی چیز کے آگے نہیں جھکیں گے۔ ہم نے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی سکیورٹی میں مزید اضافہ کیا ہے۔'

میکخواں: میرے بیانات غلط انداز میں پیش کیے گئے

صدر میکخواں نے مسلم ممالک پر اپنے بیانات کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں میرے الفاظ کے بارے میں کہے جانے والے جھوٹ کی وجہ سے انھیں توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے سبب اس طرح کا رد عمل سامنے آئے۔ اس سے لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ میں ان خاکوں کی حمایت کرتا ہوں۔‘

’وہ خاکے سرکاری منصوبے کا حصہ نہیں تھے لیکن آزاد اخبارات میں دیے گئے تھے جو حکومت سے وابستہ نہیں ہیں۔‘

ایمانویل میکخواں نے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ اسلام کو غلط طریقے سے پیش کرنے سے مسلمان سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے والے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ: 'آج دنیا میں بہت سارے لوگ اسلام کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ اسلام کے نام پر وہ اپنا دفاع کرتے ہیں، قتل کرتے ہیں۔

ایمانویل میکخواں، فرانس، مسلمان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفرانس کے صدر میکخواں نیس حملے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں

’آج کچھ انتہا پسند تحریکیں اور افراد اسلام کے نام پر تشدد کر رہے ہیں۔ یہ اسلام کے لیے پریشانی کا باعث ہے کیونکہ مسلمان اس سے سب سے پہلے تکلیف اٹھاتے ہیں۔

’دہشت گردی کا شکار 80 فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں اور یہ سب کے لیے پریشانی ہے۔‘

’یہ جنگ اسلام کے خلاف نہیں، دہشت گردی کے خلاف ہے

فرانس کے صدر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس انٹرویو کے ایک حصے کو شیئر کرتے ہوئے کچھ ٹویٹس بھی کیے۔

انھوں نے لکھا کہ ’میں کبھی بھی تشدد کو جائز تسلیم نہیں کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارا مقصد لوگوں کی آزادی اور حقوق کا تحفظ ہے۔

’میں نے دیکھا ہے کہ حالیہ دنوں میں بہت سارے لوگ فرانس کے بارے میں ناقابل قبول باتیں کہہ رہے ہیں۔ ہمارے بارے میں اور میرے بیان کے بارے میں پھیلائے جانے والے جھوٹ کی حمایت کر رہے ہیں اور صورتحال بدترین ہوتی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ: 'ہم فرانس میں اسلام سے نہیں بلکہ اسلام کے نام پر دہشت گردی سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس دہشت گردی نے ہمارے 300 افراد کو ہلاک کیا ہے۔‘

یاد رہے کہ مسلم ممالک اور فرانس کے بیچ یہ تناؤ اس وقت شروع ہوا جب اس یورپی ملک میں متنازع خاکوں کو لے کر پرانی بحث نے ایک مرتبہ بھر زور پکڑا۔ ’اظہار رائے کی آزادی‘ اور ’دوسرے مذاہب کے احترام‘ کے گرد گھومتی اس بحث میں کئی عالمی رہنماؤں نے اپنی رائے دی ہے۔

فرانس کے صدر کے گذشتہ بیانات پر صدر اردوغان اور دیگر مسلم رہنماؤں نے سخت ردعمل دیا تھا جس کے بعد فرانسیسی اشیا کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔