کووڈ 19: کیا افریقہ میں غربت کورونا وائرس کے خلاف ایک ڈھال بن گئی ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, اینڈریو ہارڈنگ
- عہدہ, بی بی سی افریقہ نامہ نگار، جوہنسبرگ
کیا غربت اور گنجان بستیوں کا افریقہ میں کورونا کی وبا کے کم پھیلاؤ اور کم اموات سے کوئی تعلق بنتا ہے؟
جوں جوں جنوبی افریقہ اور براعظم افریقہ میں کووڈ 19 کے نئے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، ماہرین ایک حیران کن مفروضے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
گنجان آبادیاں، صفائی کا ناقص انتظام
غربت کی وجہ سے ایک کمرے کے مکان میں رہنے پر مجبور خاندان جہاں سماجی فاصلے برقرار رکھنا ناممکن ہے، یہ ساری وہ چیزیں جو ماہرین کی نظر میں کورونا کی وبا کے پھیلاؤ میں مددگار ہوتی ہیں۔
ماہرین مہینوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ افریقہ کی غریب آبادیوں کے حالات کورونا وائرس کے بے دریغ پھیلاؤ کا موجب بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنوبی افریقہ کے وزارتی مشاورتی بورڈ کے سربراہ پروفیسر عبد الکریم کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ میں آبادی کی کثافت ایک اہم عنصر ہے۔ ان کے مطابق جہاں سماجی فاصلے برقرار رکھنا ممکن نہیں وہاں وائرس تیزی سے پھیلے گا۔
لیکن اگر حقیقت اس کے بالکل الٹ ہو تو پھر کیا؟
ماہرین اب یہ سوچ رہے ہیں وہ حالات جنھیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب سمجھا جاتا ہے، کہیں وہی اس مسئلے کا حل بھی تو نہیں ہیں؟
اگر میں سادہ الفاظ میں بیان کروں، کیا غربت ہی کورونا سے دفاع کا بہترین ذریعہ تو نہیں۔
’یہ ایک معمہ ہے'
پہلے اس معمے سے شروع کرتے ہیں۔
وبا کے ابتدائی دنوں میں ماہرین اس پر متفق تھے کہ افریقہ میں اس وبا پر قابو پانا بہت مشکل ہو گا؟

جنوبی افریقہ میں وبائی امراض کے ماہر پروفیسر شبیر مہدی کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا تھا کہ ہم تباہی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
تمام اندازوں کے مطابق جنوبی افریقہ کے ہسپتال اور براعظم افریقہ کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ صحت عامہ کے نظام بہت جلد کورونا کی وبا کے دباؤ میں آکر گھٹنوں پر آ جائیں گے۔
لیکن آج جنوبی افریقہ کورونا کی اس وبا سے کامیابی سے نمٹتا ہوا نظر آتا ہے جہاں نئے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ جنوبی افریقہ میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد برطانیہ میں اسی وبا سے مرنے والوں کے مقابلے میں سات گنا کم ہے۔

- اگر یہ مان لیں کہ افریقہ میں کووڈ 19 سے مرنے والوں کی اصل تعداد کا نصف بتائی جاتی ہے تب بھی جنوبی افریقہ اور براعظم افریقہ کی کورونا کے خلاف کامیابی بہت متاثر کن ہیں جہاں ہسپتالوں میں بیڈ مسلسل خالی پڑے ہیں۔
- جنوبی افریقہ اور براعظم افریقہ میں کورونا کے پھیلاؤ کے تمام اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں جبکہ یہ باقی دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
پروفیسر مہدی کہتے ہیں: ’یہ ناقابل یقین ہے، یہ ایک معمہ ہے۔‘
اب کچھ ماہرین براعظم افریقہ میں کووڈ کی وبا کے کم پھیلاؤ کی ایک وجہ افریقہ کی نوجوان آبادی کو قرار دے رہے ہیں۔ افریقہ میں اوسط عمر یورپ کی نسبت نصف ہے۔ افریقہ میں بہت کم لوگ 80 برس کی عمر پاتے ہیں لہٰذا ان کے کورونا سے متاثر ہونے کا امکان کم ہے۔
ٹونی بلیئر انسٹیٹوٹ فار گلوبل چینج کے ریجنل ڈائریکٹر ٹم برومفیلڈ کے مطابق کورونا سے متاثر ہونے میں عمر ایک بڑا عنصر ہے اور افریقہ کی جوان آبادی اس کا دفاع کر رہی ہے۔
لیکن جب وبا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، وہاں اب تجزیے بھی بدلنا شروع ہو گئے اور نوجوان آبادی کے جواز کو کم مانا جانے لگا ہے۔
پروفیسر کریم کہتے ہیں کہ اس وبا سے بچاؤ میں عمر اتنا بڑا عنصر نہیں ہے۔
پروفیسر کریم کے مطابق کورونا پھیلاؤ کے ابتدائی مہینوں میں ہی جنوبی افریقہ اور براعظم افریقہ میں لاک ڈاؤن نے اس کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
چہرے ڈھانپنے اور آکسیجن کی دستیابی نے اہم کردار ادا کیا ہے.
اس کے علاوہ گرم موسم اور سطح سمندر سے بلندے کے حوالے سے تمام نظریے اب پٹ گئے ہیں۔
کچھ ماہرین اب بھی خبردار کر رہے ہیں کہ براعظم افریقہ میں کورونا وائرس کے حملے میں دیر ہو سکتی ہے لیکن یہ کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتا ہے۔
پروفیسر کریم کہتے ہیں کہ میں یہ کہنے کی جسارت نہیں کروں گا کہ کورونا کی وبا افریقہ سے گذر گئی ہے۔ ’کیا معلوم کسی روز یہ وبا پھر تیزی سے پھیلنے لگے۔‘
کورونا کے دوسرے وائرسوں سے سبق
یہاں سائنسدانوں نے سویٹو کے ہسپتال میں وبائی امراض کے تجزیاتی یونٹ کے فریزر میں منجمد کیے ہوئے خون کے کچھ نمونوں سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ شاید فریزر میں پڑے پانچ سال پرانے خون کے نمونے اس معمے کو حل کرنے میں ان کی مدد کر دیں۔
اس فریزر میں جس کا درجہ حرارت منفی 180 درجہ حرارت رکھا جاتا ہے، دھات کے کچھ ڈبے رکھے ہیں جن میں پانچ سال پرانے خون کے نمونے ہیں۔ اگر بہت ہی تفصیل میں جائیں تو یہ خون سے نکالے گئے خلیے ہیں جنھیں پی بی ایم سی (PBMC) کہا جاتا ہے۔ انھیں انفلوینزا کی ویکسین کے ٹرائل کے دوران حاصل کیا گیا تھا۔
![Quote card. Professor Shabir Madhi: "The protection might be much more intense in highly populated areas, in African settings. It might explain why the majority [on the continent] have asymptomatic or mild infections"](https://ichef.bbci.co.uk/ace/ws/640/cpsprodpb/4DDB/production/_114213991_582e7b78-fee5-45f6-b228-e649c598eff5.png.webp)
کورونا وائرس کی کئی اقسام ہیں جو نزلہ زکام کا سبب بنتی ہیں۔
سائنسدانوں کی کوشش ہے ک پی بی ایم سی کا مطالعہ ایسی شہادتیں حاصل کی جائیں کہ وہ لوگ جو کورونا وائرس کی دوسری اقسام سے متاثر ہوئے ہیں اور شاید اس وجہ سے ان کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوا ہو۔
یہ ایک مفروضہ ہے۔ جسم کے مدافعاتی نظام کا کورونا وائرسوں سے مقابلے کا سابقہ تجربہ شاید اس وبا کے افریقہ میں کم پھیلاؤ کے کچھ جوابات مہیا کر دے۔
پروفیسر مہدی کہتے ہیں کہ امریکہ میں سائنسدانوں کے پاس موجود ڈیٹا اس مفروضے کو دوام بخشتا ہے۔
نزلہ زکام کا وائرس دنیا کے ہر کونے میں پایا جاتا ہے۔ لیکن افریقہ میں سائنسدان یہ سوچ رہے ہیں افریقہ کے گنجان آباد علاقوں میں یہ تیزی سے پھیلتا ہے اور زیادہ لوگوں کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے شاید اسی وجہ سے انھوں نے قوت مدافعت پیدا کر لی ہے۔
لیکن یہ ہی مثال تو انڈیا جیسا گنجان آباد ملک میں لاگو ہو سکتی ہے جس کو ایسے ہی چیلنجز کا سامنا ہے۔
افریقی ممالک میں کورونا سے تحفظ کا مدافعاتی نظام شاید زیادہ مضبوط ہو جس کی وجہ سے افریقہ میں کووڈ 19 کے مثبت مریضوں میں بیماری کے آثار ظاہر نہ ہونے کی وجہ بھی شاید یہ ہی ہو۔
پروفیسر مہدی کہتے ہیں کہ جتنے لوگوں میں کورونا پازیٹو ہونے کے باوجود ان میں بیماری کے آثار ظاہر نہ ہونے کی کوئی اور وجہ ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ’ایسے لوگوں کی تعداد ناقابل یقین ہے۔‘
شاید ایک بار غربت اس براعظم کی مدد کو آئی ہے۔
کچھ لوگ شاید برازیل کا حوالہ دیں جہاں کے گنجان آباد علاقوں میں حالات افریقہ سے مختلف نہیں لیکن وہاں کووڈ کا پھیلاؤ انتہائی درجے کا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جوہانسبرگ کے سوویٹو کے ہسپتال میں جب سائنسدان پی بی ایم سی کو ٹیسٹ کرنے کے لیے نمونے تیار کرنے لگے تو انھیں ایک مسئلہ پیش آ گیا۔
ڈاکٹر گورو کواترا کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے پی بی ایم سی کو محفوظ رکھنے کے لیے جس درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کمی پیشی ہوتی رہی ہے لہٰذا پی بی ایم سی کے نمونے ٹیسٹ کے موزوں نہیں رہے۔
اس کے لیے آپ کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ جنوبی افریقہ میں لوڈ شیڈنگ کو بھی نہیں۔ یہ کچھ ایسی چیز جو ہو جاتی ہے۔
سائنسدانوں کی یہ ٹیم اب نئے نمونے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن اس میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔
لیکن افریقہ میں کورونا کی وبا کے کم پھیلاؤ کا راز اپنی جگہ برقرار ہے۔










