جنوبی لندن سے تین بچے اغوا، پولیس کو والد کی تلاش

،تصویر کا ذریعہMetropolitan Police
جنوبی لندن میں پولیس کے 100 سے زیادہ اہلکار ان تین بچوں کی تلاش میں مصروف ہیں جنھیں مبینہ طور پر ان کے اپنے ہی والد سے اغوا کر لیا ہے۔
بچوں کو پہلے ہی ایک نگران والدہ کے پاس چھوڑا گیا تھا۔ اب ان تینوں بچوں کی گمشدگی کی تحقیقات پر معمور ماہر سراغرسانوں نے عوام سے معلومات کی فراہمی کے لیے اپیل کی ہے۔
بچے کب اور کیسے اغوا ہوئے؟
لندن میٹرو پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق چھ سالہ بلال صافی، پانچ سالہ محمد ابرار صافی اور تین سالہ محمد یٰسین صافی کو کولسڈن روڈ، کولسڈن میں واقع ان کے گھر سے 20 اگست بروز جمعرات اغوا کیا گیا تھا۔
بچے گھر کے بیرونی باغ میں کھیل رہے تھے جبکہ ان کی رضاعی نگران گھر کے اندرونی حصے میں موجود تھیں۔
حکام کی جانب سے موصول ہونے والی تحریری تفصیلات میں درج ہے کہ بچوں کی خاتون نگران نے قدموں کی چاپ سن کر پیچھے دیکھا تو بچوں کا والد عمران صافی نظر آیا۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خاتون نگران کے پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق عمران نے ایک چاقو سے اسے نقصان پہنچانے کے دھمکی دی اور بتائے گئے مقام سے بچوں کو بزورِ قوت اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد سے ان بچوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے رضاعی نگران کسی سنگین نوعیت کے جسمانی نقصان سے محفوظ رہیں لیکن بہر حال وہ دماغی صدمے کا شکار ہوئی ہیں۔
عمران کون ہے؟

،تصویر کا ذریعہMETROPOLITAN POLICE
عمران جن کا مکمل نام عمران صفی ہے اور وہ افغان شہری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عمران کے پاکستان میں بھی روابط موجود ہیں۔ اُس وقت تک اُس کے ممکنہ بیرونِ ملک سفر سے متعلق کوئی اطلاع نہیں تھی۔
اغوا سے متعلق جرائم کی تحقیقات کے ماہر سراغرسانوں نے فوری طور پر عمران کی تلاش کا آغاز کر دیا۔ عمران کی آمد و رفت پر نظر رکھنے کے لیے سراغرساں اس نوعیت کی وارداتوں کے سدِ باب کے لیے قائم کیے گئے ایک خصوصی مرکز میں بغیر کسی وقفے کے مصروفِ عمل رہے ہیں۔
بچوں کے اغوا کے کچھ ہی دیر میں ملک میں داخلے اور ملک سے روانگی کے تمام مقامات پر حکام کو خبر دار کر دیا گیا۔ عمران کی تصویر اور مکمل تفصیلات تمام ہوائی اڈوں، بندر گاہوں اور سرحدی راستوں پر اہلکاروں کے پاس پہنچ چکی تھیں۔
قانون نافذ کرنے والے اہل کار بیرون ممالک میں کسی بھی طرح کی نقل و حرکت کی نشاندہی کو یقینی بنانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔
پولیس کت تحقیقات اور 8 گرفتاریاں
مقامی اہل کار اغوا کی واردات سے متعلق تحقیق میں مصروف تھے۔ انہوں نے اغوا میں ملوث ہونے کے شبہے میں آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔
ایک پچیس سالہ خاتون اور ایک بتیس سالہ مرد کو 21 اگست بروز جمعہ جنوبی لندن سے گرفتار کیا گیا، دو بیس سالہ اور ایک سترہ سالہ مردوں کی گرفتاری جنوبی لندن سے 23 اگست بروز اتوار عمل میں آئی، ایک پچیس سالہ خاتون اور ایک سینتیس سالہ مرد کو جنوبی لندن سے 25 اگست بروز منگل گرفتار کیا گیا، 25 اگست بروز منگل کو ہی جنوبی لندن سے ایک اور تینتیس سالہ مرد کی گرفتاری ہوئی۔
کچھ دنوں کے بعد مذکورہ آٹھ افراد کو جنوبی لندن کے ایک پولیس اسٹیشن میں واپسی کے لیے ضمانت جاری کر دی گئی۔
اس تحقیق کے گولڈ کمانڈر، کمانڈر جون سیویل نے کہا ہے کہ'اس وقت ہماری اولین ترجیح ان تینوں بچوں کی سلامتی اور فلاح ہے۔ انہیں ایک محفوظ جگہ سے اغوا کیا گیا اور ہم ان کی صحت و سلامتی کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہورہے ہیں، خاص طور پر جب دنیا بھر میں ہم صحت سے متعلق عالمی سطح کے ایک بحران کا شکار ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ اگرچہ اس وقت ہمیں بچوں کو جسمانی طور پر کسی قسم کے نقصان کے پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہے، البتہ ہم ان کے موجودہ مقام، رہائش، صحت کی سہولیات اور دیگر ضروری دیکھ بھال سے متعلق معاملات سے مکمل طور پر لاعلم ہیں۔ پیش آنے والے ان حالات کے باعث ہم ان تینوں بچوں پر پڑنے والے طویل المدّتی تفسیاتی اثرات کا سوچ کر فکر مند ہیں۔'
بتایا گیا ہے کہ اس اغوا کی منصوبہ سازی اور انجام دہی کی تفصیلی تحقیقات جنوبی لندن میں ماہر سراغرسانوں کی سربراہی میں کی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ میٹرو پولیٹن پولیس کے ماہر اہل کار ان بچوں کی تلاش میں مصروف ہیں اور 100 سے زائد عہدیداران اِن بچوں کو تلاش کر کے ان کی با حفاظت گھر واپسی کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔
’ہم تحقیقات کے ہر ممکن پہلو کو مدِّ نظر رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بعید القیاس حد تک مل کر کام کر رہے ہیں۔'
'اس نوعیت کی تفتیش ناقابل یقین حد تک پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت تیزی سے تبدیل ہوتی ہے۔ ان ہی وجوہات کے باعث ہم اکثر ایسے معاملات کے بارے میں کھل کر بیان جاری نہیں کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس مرحلے تک عوام سے مدد کی درخواست نہیں کی ہے۔ لیکن اب ہم سب سے درخواست کر رہے ہیں کہ ہماری پیش قدمی میں مدد گار ہونے والی کسی بھی قسم کی معلومات دستیاب ہونے کی صورت میں ہم سے رابطہ کریں۔'
سائوتھ ایریا بیسِک کمانڈ یونٹ کے کمانڈر چیف سپرانٹنڈنٹ، ڈیو اسٹرنگر نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 'ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ان بچوں کے اغوا سے ہماری عوام کو صدمہ پہنچ سکتا ہے۔ اس پُر تشدد حادثے میں ایک تیز دھاری ہتھیار کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہمیں ان تینوں معصوم بچوں کے لیے خصوصی طور پر تشویش ہے جنہیں اغوا کر کے چھپانے والا فرد تیز دھاری ہتھیار سے مسلح ہوسکتا ہے۔
'اس واقعہ کی نوعیت سے متعلق تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔ ہم نے اس اغوا میں شریک یا مدد گار ہونے کے شک میں آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بچوں کے ٹھکانے سے متعلق تفصیلی معلومات رکھنے والے لوگ موجود ہیں ۔ اور ہم پوری طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ان افراد کی خاموشی کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن اب میں ایسے افراد سے درست نقطہ نظر اپنا کر بچوں کی تلاش میں ہماری مدد کرنے کی پُر زور گذارش کروں گا۔'
اطلاع کے لیے رابطہ نمبر
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے عمران صفی یا اس کے تینوں بچوں کو 20 اگست بروز جمعرات کے بعد کہیں دیکھا ہو یا ان سے متعلق کوئی اطلاع ہو تو فوری طور پر تفتیشی کنٹرول روم کے فون نمبر +447942599374 پر پولیس کو اطلاع دیں۔ اس نمبر پر ہفتے کے سات دن چوبیس گھنٹوں کے دوران رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر اطلاع فراہم کرنے کے خواہش مند کرائم اسٹوپرز کے فون نمبر +44800555111 پر کیس نمبر 6143/20AUG20 کے حوالے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔









