روس میں حزب اختلاف کے رہنما اور صدر پوتن کے مخالف کے جسم سے ’مہلک مادہ‘ برآمد

،تصویر کا ذریعہReuters
روس میں حزب اختلاف کے اہم رہنما الیکسی نوالنی کے معاون ایوان نے دعویٰ کیا ہے کہ کریملن کے ناقد کے جسم سے 'مہلک مادہ' برآمد ہوا ہے۔ انھیں گذشتہ روز مبینہ طور پر چائے میں زہر دیے جانے پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ایوان نے کہا ہے کہ ایک ٹرانسپورٹ سکیورٹی اہلکار، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔
ٹوئٹر پر الیکسی نوالنی کے پریس سیکریٹری کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ 'یہ مادہ مہلک ہے۔ اس سے نہ صرف الیکسی کی جان کو خطرہ ہے بلکہ ان تمام لوگوں کو بھی جو ان کے اردگرد ہیں۔ ان کے گرد تمام افراد کو حفاظتی لباس پہننا ہوں گے۔'
معاون کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس مادے کا نام جاری کرنے سے اجتناب کیا ہے تاکہ تحقیقات کی رازداری برقرار رکھی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ جمعرات تک وہ ہسپتال میں بے ہوش پڑے تھے اور یہ شک ظاہر کیا جا رہا تھا کہ انھیں مبینہ طور پر زہر دیا گیا۔
’چائے میں زہر دیا گیا‘
ان کی ترجمان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ وہ ایک فلائٹ کے دوران بیمار پڑ گئے اور ان کے طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کو شک ہے کہ الیکسی نوالنی کو ان کی چائے میں زہر ملا کر دیا گیا ہے۔
الیکسی نوالنی صدر ولادیمیر پوتن کے سخت ترین ناقدین میں سے ایک ہیں اور بدعنوانی کے خلاف ایک تحریک چلا رہے ہیں۔
جون میں آئینی ترامیم پر ایک ووٹ کو انھوں نے بغاوت اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اس ترمیم کے تحت صدر پوتن مزید دو بار صدر بن سکتے ہیں۔
الیکسی نوالنی کی ترجمان کرا یرمش نے بتایا کہ آج صبح الیکسی نوالنی ٹومسک سے ماسکو واپس آ رہے تھے جب پرواز کے دوران وہ بیمار ہونے لگے۔ طیارے کو اومسک میں ہنگامی لینڈگ کرنا پڑی۔ الیکسی کو ٹاکسک پوائزنگ کی شکایت ہے۔ ہم اس وقت ہسپتال جا رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں شک ہے کہ الیکسی کی چائے میں کچھ ملایا گیا تھا۔ آج صبح سے وہ واحد چیز ہے جو انھوں نے پی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زہریلا مواد گرم اشیا کے ذریعے زیادہ تیزی سے جذب ہوا ہے۔ اس وقت الیکسی بے ہوش ہیں۔‘
ترجمان نے بعد میں کہا کہ الیکسی نوالنی اس وقت انتہائی نگہداشت یونٹ میں ہیں۔ ان کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
پوتن کے سخت مخالف

،تصویر کا ذریعہReuters
الیکسی نوالنی کی وجہ شہرت صدر پوتن کے خلاف آواز اٹھانا اور ان کی مبینہ بدعنوانی کو منظرِ عام پر لانا ہے۔
2011 میں انھیں 15 دن کے لیے گرفتار کیا گیا جب انھوں نے صدر پوتن کی پارٹی کی جانب سے پارلیمانی انتخابات میں مبینہ طور پر دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
2013 میں بھی انھیں مالی بدعنوانی کے الزامات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا تاہم اس مرتبہ بھی کیس کو بطور سیاسی انتقام دیکھا گیا تھا۔
انھوں نے 2018 میں صدارتی دوڑ میں حصہ لینے کی کوشش کی لیکن انھیں ماضی کی سزا کی بنا پر روک دیا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی بنیاد پر کیا گیا۔
جولائی 2019 میں الیکسی نوالنی کو غیر منظور شدہ مظاہرے کرنے پر 30 دن کی قید سنائی گئی تھی۔ اس قید کے دوران بھی ان کی صحت خراب ہوئی تھی اور انھوں نے کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ انھیں زہر دیا گیا ہو۔
2017 میں ان کی دائیں آنکھ کیمیائی مادے سے جل گئی تھی۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انھیں کوئی الرجی نہیں تھی اور ہوسکتا ہے کہ ان پر زہریلے مواد سے حملہ کیا گیا ہو۔









