ڈیتھ ویلی: 'دنیا کے گرم ترین مقام' پر زندگی کیسی ہے؟

Brandi Stewart poses in front of a temperature reading of 130F

،تصویر کا ذریعہBrandi Stewart

،تصویر کا کیپشنبرینڈی سٹیورٹ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ڈیتھ ویلی نیشنل پارک میں کام کرتی ہیں

'میرے خیال میں ہم سب ہی اتنی گرمی کی وجہ سے اپنا صبر کھو بیٹھتے ہیں۔' یہ کہنا ہے برینڈی سٹیورٹ کا جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ڈیتھ ویلی نیشنل پارک میں کام کرتی ہیں۔

'جب آپ باہر جاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ کے چہرے پر ہئیر ڈرائیرز مارے گئے ہوں۔'

اتوار کے روز دنیا بھر میں مصدقہ طور پر ریکارڈ کیا جانے والا انتہائی درجہ حرارت 54.4 سینٹی گریڈ ہو سکتا ہے جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کی 'ڈیتھ ویلی' میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تاہم برینڈی کی اس تصویر میں نظر آنے والا یہ درجہ حرارت ریکارڈ درجہ حرارت سے بھی زیادہ ہے۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن(ڈبلیو ایم او) کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس ریکارڈ کی تصدیق کر رہے ہیں لیکن برینڈی کو ماہرین کی ضرورت نہیں جو انھیں یہ بتائیں کہ کتنی گرمی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

برینڈی ان چند افراد میں شامل ہیں جن کے لیے یہ مقام، جس کا شمار 'دنیا کی گرم ترین جگہ' میں ہوتا ہے، ان کا گھر ہے۔

برینڈی سٹیورٹ پارک کے شعبہ مواصلات سے وابستہ ہیں اور تقریباً پانچ برس سے یہاں رہ رہی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'اتنی گرمی محسوس ہوتی ہے کہ مجھے ایک چیز کا عادی بننے میں خاصا وقت لگا اور وہ یہ کہ آپ اپنی جلد پر پسینہ محسوس نہیں کر سکتے کیونکہ یہ بہت جلد بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ آپ اپنے کپڑوں پر پسینہ محسوس کر سکتے ہیں لیکن اپنی جلد پر نہیں کیونکہ یہ بہت جلد خشک ہو جاتا ہے۔'

A sign at Badwater Basin in Death Valley National Park

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنڈیتھ ویلی عمومی طور پر کرہ ارض کے گرم ترین علاقوں میں شامل ہے

سٹیورٹ کہتی ہیں کہ موسم گرما میں زیادہ تر وقت اندر ہی گزر جاتا ہے لیکن کچھ لوگ پہاڑوں پر جانے کا انتخاب کرتے ہیں جہاں درجہ حرارت قدرے کم ہوتا ہے۔

'جب ایک بار لوگ اس (گرمی) کے عادی ہو جاتے ہیں تو ہمیں یہ نارمل لگنے لگتا ہے اور پھر 26 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت خوشگوار لگتا ہے۔'

سونے کے لیے لوگوں کے گھروں میں ایئر کنڈیشنگ کا انتظام ہے جو ان کے گھروں کو اس وقت تک ٹھنڈا رکھتا ہے جب تک بجلی نہ چلی جائے۔ یہ مسئلہ ہو سکتا ہے جب درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے اور ہر کوئی اپنے گھر کو آرام دہ درجہ حرارت پر رکھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔

اس پارک میں کام کرنے والے زیادہ تر لوگ فرنس کریک میں رہتے ہیں جہاں یہ حالیہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

یہ قصبہ سطح سمندر سے 280 فٹ نیچے طویل اور تنگ بحری طاس میں واقع ہے جو چاروں طرف سے اونچے پہاڑی سلسلوں میں گھرا ہوا ہے۔

جیسن ہیسر جن کا تعلق مینیسوٹا سے ہے، وہ فرنس کریک میں رہتے ہیں اور یہاں گالف کے ایک میدان میں کام کرتے ہیں۔

سابق ملٹری فوجی اہلکار جیسن ہیسر کہتے ہیں 'میں دو بار عراق گیا۔ اگر میں عراق کا موسم برداشت کر سکتا ہوں تو ڈیتھ ویلی بھی۔'

وہ گالف کے میدان میں صبح پانچ بجے سے پہلے کام شروع کرتے ہیں اور دوپہر ایک بجے تک کام کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'ہمیں بتایا گیا ہے کہ جب گرمی میں اضافہ شروع ہو گا، جیسے کہ اب ہو رہا ہے، تو ہمیں صبح چار بجے کام شروع کرنا ہوگا۔ چار بجے درجہ حرارت 37 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔'

Jason Heser hiking in Death Valley National Park

،تصویر کا ذریعہJason Heser

،تصویر کا کیپشنجیسن ہیسر اکتوبر 2019 سہ یہاں ہیں اور کچھ عرصہ مزید یہںا رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں

جیسن ہیسر اس ٹیم کا حصہ ہیں جو گالف کے میدان کو اچھی حالت میں رکھنے میں مدد کرتی ہے۔

'ہم ہر روزگھاس کاٹ رہے ہوتے ہیں، تراش رہے ہوتے ہیں، بنکرز کو کھڑچ رہے ہوتے ہیں۔'

'ہم ان درختوں کو اٹھاتے ہیں جو گر چکے ہوتے ہیں کیونکہ یہاں بہت خشکی ہے۔ درخت گرمی سے اس قدر خشک ہو جاتے ہیں کہ بھاری ہو کر گر جاتے ہیں۔ ہمارے دن کا بڑا حصہ انھیں اٹھانے میں گزر جاتا ہے۔'

ہیسر اکتوبر 2019 میں یہاں آئے اور انھیں اپنے کام سے محبت ہے۔ وہ یہاں کئی برس رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

فارغ وقت میں وہ اس میدان پر گالف کھیلنا پسند کرتے ہیں جس کی دیکھ بھال کے لیے وہ بہت محنت کرتے ہیں۔

لیکن اس کا مطلب ہے کہ گرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے انھیں صبح سات بجے اغاز کرنا پڑتا ہے یا کم از کم اس سے بدترین، اور گالف کورس کے 18 ہولز سے گزرنا۔

کرہ ارض پر گرمی کی حدت بڑھنے کے بارے میں مزید پڑھیے

وہ کہتے ہیں 'مجھے گالف بہت پسند ہے۔ میں جب یہاں آیا تو درجہ حرارت کمال تھا۔ شارٹس، پولو، ایک ٹھنڈا بیئر یا ٹھنڈا سوڈا لیکن اگر اب آپ کے پاس کوئی مشروب ہے تو سبزے تک پہنچنے تک وہ گرم ہو جائے گا۔ آپ کو اسے جلدی سے پینا ہو گا جو کہ گالف کو دلچسپ بنا دیتا ہے۔'

اتوار کے درجہ حرارت کو ممکنہ طور پر زمین پر 'مصدقہ طور پر' ریکارڈ کیا گیا گرم ترین درجہ حرارت بتایا گیا ہے۔

ریکارڈ کی کتابوں میں دو درجہ حرارت سب سے زیادہ ہیں۔۔۔ ایک سنہ 1913 میں فرنس کریک میں 56 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ دوسرا درجہ سنہ 1931 میں تیونس میں 55 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن ماہرین کو اس پر اختلاف ہے۔

Furnace Creek Golf Course

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہیسر گالف کلب مںی کام کرتے ہیں اور فارغ وقت میں وہ اس میدان پر گالف کھیلنا پسند کرتے ہیں

بی بی سی میں موسمیات کے ماہر سائمن کنگ کہتے ہیں 'دور حاضر کے سائنسدان اور ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ریڈنگ درست نہیں۔ جب اس طرح کا درجہ حرارت ہوتا ہے تو ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن اس کی مزید تحقیق کرتی ہے اور بہت سی اور معلومات کے ذریعے ریکارڈ کی تصدیق کرنے کی کوشش کرتی ہے۔‘

موسمیات کے مورخ کرسٹوفر برٹ کے خیال میں سنہ 1913 میں ڈیتھ ویلی کا جو درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا وہ مشکوک ہے اور اس کی وجہ اس علاقے میں لی جانے والی دوسری ریڈنگز ہیں۔

وہ کہتے ہیں فرنس کریک میں لی جانے والی ریڈنگ ارد گرد کے علاقوں سے دو تین درجے زیادہ تھی۔

Death Valley landscape

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنڈیتھ ویلی ایک وسیع صحرائی علاقہ ہے

یہی وجہ ہے کہ اتوار کے درجہ حرارت کو، اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے، امریکہ کے ماہرین مصدقہ طور پر ریکارڈ کیا جانے والا سب سے زیادہ درجہ حرارت قرار دے رہے ہیں۔

ڈبلیو اہم او کا کہنا ہے کہ وہ اس تصدیق کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ اب تک دنیا میں ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہو گا۔

اس بارے میں بھی بحث کی گئی ہے کہ کچھ دیگر مقامات میں ڈیتھ ویلی سے بھی زیادہ درجہ حرارت ہو سکتا ہے لیکن موسم پر نظر رکھنے والوں کو اس کی خبر نہیں ہو سکی کیونکہ ان علاقوں کے نزدیک کوئی موسمیاتی سٹیشن موجود نہیں۔

تو اب تک فرنس کریک ہی دنیا کا گرم ترین علاقہ ہے۔

ہیسر کہتے ہیں 'لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیسا ہے۔ میرے خیال میں اس کے بارے میں بتانے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ جب آپ اوون میں کچھ بنا رہے ہوں اور آپ اسے چیک کرنا چاہیں اور اس کے لیے آپ اوون کا دروازہ کھولیں اور آپ کو اوون سے گرم ہوا کا جھونکا ملے، یہ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔'