مالی میں فوجی بغاوت، صدر ابراہیم بوبکر کیتا زیر حراست: ’اگر فوج مداخلت کرنا چاہے تو میرے پاس اور چارہ ہی کیا ہے؟‘

مالی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنباغی فوجیوں کے ترجمان نے اسے اقتدار کی 'سیاسی منتقلی' کا نام دیا۔ ان کا کہنا تھا اس کے بعد ہونے والے عام انتخابات قابلِ اعتماد ہوں گے

مغربی افریقہ کے ملک مالی کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر ابراہیم بوبکر کیتا فوجی بغاوت کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

مقامی ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ساتھ ہی حکومت اور پارلیمان کو بھی تحلیل کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’میں نہیں چاہتا کہ مجھے اقتدار میں رکھنے کی خاطر خون کی ایک بھی بوند بہائی جائے۔‘

اس اعلان سے چند گھنٹوں قبل ہی ملک کے صدر اور وزیر اعظم بؤبو سیسے کو باغی فوجیوں کی جانب سے حراست میں لے کر ایک فوجی کیمپ منتقل کیا گیا تھا۔ فرانس اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

باغی فوجیوں کے ترجمان نے اسے اقتدار کی ’سیاسی منتقلی‘ کا نام دیا۔ ان کا کہنا تھا اس کے بعد ہونے والے عام انتخابات قابلِ اعتماد ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

صدر بوبکر کیتا نے کہا: ’آج اگر ہماری فوج کے چند عناصر مداخلت کرکے یہ معاملہ ختم کرنا چاہتے ہیں تو میرے پاس اور کوئی چارہ ہی کیا ہے؟‘

انھوں نے مزید کہا ’مجھے کسی سے نفرت نہیں ہے، میرے ملک سے میری محبت مجھے اس کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ خدا ہماری حفاظت کرے۔‘

Ibrahim Boubacar Keïta, file picture 30 June 2020

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر بوبکر کیتا نے کہا: 'آج اگر ہماری فوج کے چند عناصر مداخلت کرکے یہ معاملہ ختم کرنا چاہتے ہیں تو میرے پاس اور کوئی چارہ ہی کیا ہے؟'

اس سے قبل باغی فوجیوں نے کاٹی فوجی کیمپ پر بھی قبضہ کر لیا تھا جو دارالحکومت بماکو سے صرف 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

مالی کے عوام صدر سے تو ناخوش تھے ہی تاہم فوج کو درپیش مسائل، مثلاً کم تنخواہ اور ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں میں جاری جہادی گروہوں کے خلاف خطرناک کارروائیوں کی وجہ سے فوج بھی ان کے خلاف ہو گئی۔

2018 کے انتخابات میں کامیابی کی بعد کیتا دوسری بار صدر منتخب ہوئے تھے تاہم سرکاری سطح پر بدعنوانی، ملک کے معاشی استحصال اور کچھ علاقوں میں شروع ہونے والے فسادات کے باعث سابق صدر کے خلاف عوام کا غصہ عروج پر تھا۔

اس کے باعث گذشتہ چند ماہ میں ملک کے کئی حصوں میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔

صدر نے اپنے اقتدار کے بدلے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو بھی اقتدار میں شراکت کی پیشکش کی تھی تاہم دائیں بازو کی حزب اختلاف کی جماعت سے تعلق رکھنے والے امام محمود ڈیکو نے حال ہی میں صدر کی جانب سے کی جانے والی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔

مالی بغاوت

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنباغی فوجی منگل کو صدر کی رہائش کگہ میں داخل ہوئے اور وہاں موجود صدر اور وزیراعظم دونوں کو حراست میں لے لیا

باغی فوجیوں کا کیا کہنا ہے

بدھ کے روز قومی ادارہ برائے عوامی نجات کی جانب سے ٹیلیویژن پر ایک بیان پڑھ کر سنایا گیا۔

ایئر فورس کے ڈپٹی چیف آف سٹاف کرنل میجر اسماعیل واگو نے کہا: ’سول سوسائٹی اور سیاسی و سماجی تحریکوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اقتدار کی سیاسی منتقلی کے لیے بہترین حالات بنائیں جس کے نتیجے میں ایک روڈ میپ کے ذریعے ایسے عام انتخابات منعقد کیے جائیں گے جو معتبر ہوں گے اور ملک میں جمہوری حکومت آئے گی۔ اور ایک نئی مالی کی بنیاد رکھی جائے گی۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’آج سے، تمام فضائی اور زمینی سرحدیں بند رہیں گی اور صبح 9 سے شام 5 بجے تک کرفیو کا اطلاق ہو گا۔‘

فوجیوں میں گھرے کرنل واگو نے کہا: ’ہمارا ملک افراتفری، انارکی اور عدم تحفظ کے باعث ڈوب رہا ہے اور اس کے لیے برسرِ اقتداد لوگ ذمہ دار ہیں۔‘

فوجی بغاوت کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ فوجی بغاوت کا آغاز کس نے کیا، کتنے فوجیوں نے حصہ لیا یا اب کون اس کی ذمہ داری سنبھالے گا۔

بی بی سی افریقہ کے مطابق اس بغاوت کی قیادت بظاہر کاٹی فوجی کیمپ کے نائب کمانڈر کرنل ملک ڈیا اور ایک اور کمانڈر، جنرل سادیو کمارا، کر رہے تھے۔

Soldiers patrol after gunshots were heard Tuesday at a military camp near Kati area in Bamako, Mali on 18 August 2020

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندارالحکومت کی سڑکوں پر فائرنگ سنائی دی اور کئی مقامات پر فوجی گشت کرتے دیکھے جا سکتے ہیں

باغی کاٹی کیمپ پر قبضہ کرنے کے بعد دارالحکومت بماکو کی جانب بڑھے۔ یہاں کئی سو مقامی افراد پہلے سے ہی صدر کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع تھے۔ انھوں نے نعروں اور تالیوں سے باغی فوجیوں کا استقبال کیا۔

فوجیوں نے منگل کی دوپہر سابق صدر کی رہائش گاہ پر قبضہ کیا اور وہاں موجود صدر اور وزیراعظم دونوں کو حراست میں لے لیا۔

اطلاعات کے مطابق صدر کے صاحبزادے سمیت مالی کی قومی اسمبلی کے سپیکر، وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ بغاوت میں حصہ لینے والے فوجیوں کی تعداد کیا ہے۔

اس سے قبل 2012 میں بھی کاٹی کیمپ میں تعینات فوجیوں نے جہادیوں اور عسکریت پسندوں کے ہاتھوں شکست کے بعد سینیئر افسران کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔

صدر ابراہیم بوبکر کیتا کون ہیں؟

ابراہیم بوبکر کیتا نے ستمبر 2013 میں اقتدار سنبھالا اور ملک کو بغاوت اور عسکریت پسندی کے بعد متحد کرنے کا وعدہ کیا۔

واضح رہے کہ وہ سنہ 2012 میں طویل المدتی صدر امادو تومانی تور کا تختہ الٹنے کے بعد ہونے والے انتخابات جیت کر اقتدار میں آئے تھے۔

ایک سرکاری ملازم کے بیٹے، ابراہیم بوبکر سنہ 1945 میں جنوبی صنعتی شہر کوٹیالہ میں پیدا ہوئے،جو ملک میں کپاس کی پیداوار میں کمی کا مرکز ہے۔

مالی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمالی کے صدر ابراہیم بوبکر کیتا نے 2018 میں انتخاب جیتے تھے تاہم کرپشن کے الزامات اور ملک کے معاشی استحصال کے باعث عوام میں ان کے خلاف غصہ بھی پایا جاتا تھا

ابراہیم بوبکر سنہ 1994 سے سنہ 2000 تک ملک کے وزیر اعظم بھی رہے جبکہ سنہ 2002 سے 2007 تک وہ قومی اسمبلی کے سپیکر بھی رہے اور اگست 2018 میں انھیں دوسری بار ملک کا صدر منتخب کیا گیا۔

صدر، وزیراعظم کی نظر بندی پر عالمی ردعمل

مالی میں فوجی بغاوت کی خبر آتے ہی اقوام متحدہ اور افریقی یونین نے تمام زیر حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کر دیا تھا۔

خطے کے ممالک کی اقتصادی تنظیم اکنامک کمیونٹی آف ویسٹ افریکن سٹیٹس کے 15 اراکین نے بھی مالی کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کرنے اور مالی کی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہی تنظیم صدر اور ان کے مخالفین کے درمیان ثالثی کرنے کی کوششیں کر رہی تھی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی بدھ کو اس معاملے پر غور کرے گی۔

نقشہ

مالی کا پس منظر

مغربی افریقی ملک مالی کا شمار براعظم کے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ صدیوں تک اس کا شمالی شہر تمبکتو ایک اہم علاقائی تجارتی خطہ اور اسلامی ثقافت کا مرکز تھا۔

لیکن اس کی یہ اہمیت طویل عرصے سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔

سنہ 1960 میں فرانس سے آزادی حاصل کرنے کے بعد مالی کو خشک سالی، بغاوتوں اور 23 سال کی فوجی آمریت کا سامنا رہا اور 1992 میں پہلی بار ملک میں جمہوری انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔

سنہ 2013 میں حکومت کی درخواست پر فرانس نے مالی میں فوجی مداخلت کی اور کونہ کے قصبے پر قبضہ حاصل کرتے ہوئے اسلام پسندوں کے گڑھ ختم کر دیے۔

حکام نے سنہ 2015 میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام تواریگ علیحدگی پسندوں کے ساتھ جنگ بندی کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا لیکن ملک کے کچھ حصوں میں کشیدگی برقرار رہی اور تواریگ باغی بھی وقتاً فوقتاً متحرک رہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مالی کے شمالی اور مرکزی خطوں میں القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسندوں کے حملے بھی جاری ہیں۔