منسا موسیٰ: جیف بیزوس سے بھی زیادہ امیر افریقہ کی سلطنتِ مالی کے شہنشاہ

،تصویر کا ذریعہScott Olson
فوربز کی بلین ائر لسٹ یعنی ارب پتیوں کی فہرست کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے موجد جیف بیزوس دنیا کے امیر ترین آدمی ہیں۔ فوربز کے اندازے کے مطابق ان کے اثاثوں کی مالیت 131 ارب ڈالر سے زائد ہوگئی ہے۔
لیکن جیف بیزوس تاریخ کے سب سے امیر ترین انسان نہیں۔
یہ اعزاز چودھویں صدی کے مغربی افریقہ کے حکمران منسا موسیٰ کے سر جاتا ہے۔ موسا جتنے امیر تھے اتنے ہی سخی اور دریا دل بھی تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ ان کی سلطنت کی معیشت تباہ ہوگئی۔
امریکہ کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر روڈولف بچ وئیر بتاتے ہیں کہ موسیٰ کی دولت کے بارے میں جو معلومات اوراندازے ہیں وہ اتنے دیوہیکل ہیں کہ صحیع طرح سے یہ اندازہ لگانے میں مشکل ہے کہ افریقی حکمران کتنے امیر اور طاقتور تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معاشی جریدے منی ڈاٹ کام میں تحریر کیے گئے ایک آرٹیکل میں صحافی جیکب ڈیوڈ سن لکھتے ہیں کہ منسا موسیٰ اتنے امیر تھے کہ اسے بیان کرنا مشکل ہے۔
سنہ 2012 میں امریکی ویب سائٹ 'سیلیبریٹی نیٹ ورتھ' نے ان کی دولت اور ان کے اثاثوں کی مالیت 400 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی۔ لیکن معاشی تاریخ دان اس بات پر متفق ہیں کہ موسیٰ کی دولت کا درست اندازہ لگانا ناممکن ہے۔
تاریخ کے سب سے امیر ترین لوگ:

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منسا موسیٰ
سنہ 1280-1337
سلطنتِ مالی کے بادشاہ۔
اثاثوں کی مالیت: ناقابلِ فہم

،تصویر کا ذریعہHulton Archive/Getty Images
آگسٹس سیزر
قبلِ مسیح 63-14 سنہ عیسوی
سلطنتِ روم کے شہنشاہ
اثاثوں کی مالیت: 4.6 کھرب

،تصویر کا ذریعہAFP
شینگ زونگ
1048-1085
چینی سونگ شاہی گھرانے کے شہنشاہ
اثاثوں کی مالیت: ناقابلِ فہم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابو الفتح جلال الدين محمد اكبر
1542-1605
مغل سلطنت کے شہنشاہ
اثاثوں کی مالیت: ناقابلِ فہم

،تصویر کا ذریعہGaleforce Films/BBC Scotland
اینڈریو کارنئیگی
1835-1919
سکاٹش امریکی صنعتکار
اثاثوں کی مالیت: 372 ارب ڈالر

،تصویر کا ذریعہHulton Archive/Getty Images
جان ڈی راکیفیلر
1839-1937
امریکی تاجر
اثاثوں کی مالیت: 341 ارب ڈالر

،تصویر کا ذریعہNational Museum of Finland
نیکولائی ایلیکزینڈروِچ رومانوؤ
1868-1918
شہنشاہِ روس
اثاثوں کی مالیت: 300 ارب ڈالر

،تصویر کا ذریعہYouTube
میر عثمان علی خان
1886-1967
حیدر آباد کے آخری نظام
اثاثوں کی مالیت: 230 ارب ڈالر

،تصویر کا ذریعہHulton Archive/Getty Images
ولیم دی کانکرر
(1028-1087)
انگلستان کے بادشاہ
اثاثوں کی مالیت: 229 ارب ڈالر

،تصویر کا ذریعہAFP
معمر قذافی
1942-2011
لیبیا کے سابق رہنما
اثاثوں کی مالیت: 200 ارب ڈالر
ذریعہ : منی ڈاٹ کام
منسا موسیٰ کی پیدائش سنہ 1280 میں حکمرانوں کے گھرانے میں ہوئی۔ ان کے بھائی منسا ابوبکر سنہ 1312 تک سلطنت کے شہنشاہ رہے جس کے بعد انھوں نے تخت چھوڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ بحر اوقیانوس کی دوسری جانب کی سیر کرسکیں۔
چودھویں صدی کے شامی تاریخ دان شباب العمری کے مطابق منسا ابوبکر کو جنون کی حد تک یہ شوق تھا کہ وہ بحر اوقیانوس کے اس پار بسنے والے لوگوں اور چیزوں کی معلومات حاصل کریں۔
یہی وجہ تھی کہ ابوبکر نے دو ہزار سمندری جہازوں اور ہزاروں مرد، خواتین اور غلاموں کے ہمراہ ایک سمندری قافلہ لے کر بحر اوقیانوس کی سیر پر نکلے۔ یہ قافلہ واپس نہیں آ سکا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی تاریخ دان ایوان وان سرٹیما کا موقف ہے کہ یہ قافلہ شمالی امریکہ پہنچ گیا تھا۔ لیکن ان کی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں۔
ابوبکر کے جانے کے بعد منسا موسیٰ کو سلطنت وراثت میں ملی۔ ان کے دور میں 24 شہروں پر قبضہ کیا گیا، اس میں ٹمبکٹو بھی شامل تھا۔
ان کی سلطنت دو ہزار میل کے رقبے پر محیط تھی۔ اس میں نائیجر اور سینیگال، ماریٹینیا، مالی، برکینا فاسو، گیمبیا، گنی بساؤ، گنی اور آئوری کوسٹ کے متعدد علاقے شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتنے زیادہ رقبے پر حکومت کے دوران موسیٰ کی سلطنت کو نمک اور سونے جیسے قدرتی وسائل ملے۔ انھوں نے عوام کی فلاح و بہبود پر بھی کھل کر خرچ کیا اور بہت سی مسجدیں، سکول اور ہسپتال تعمیر کیے۔
اس عرصے میں سلطنتِ مالی دنیا کے آدھے سونے کی مالک تھی اور ان سب کے مالک، بادشاہ منسا موسیٰ تھے۔









