جہادی افریقہ میں اگلا وار کب کریں گے؟

ہمیں شاید اِس کا کبھی علم نہ ہو پائے کہ القاعدہ کے جنگجوؤں کو مالی کے دارالحکومت باماکو اور اُس کے ساتھ ساتھ برکینا فاسو کے دارالحکومت اواگاڈوگو میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے میں کتنا وقت لگا۔
دونوں حملوں کے درمیان چند ہفتوں کا فرق تھا اور یہ دونوں حملے مطلوبہ جہادی کمانڈر مختار بل مختار کی تنظیم نے کیے تھے۔
حملہ آوروں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اُن کے لیے مغربی افریقی ممالک میں جدید ہتھیاروں کی مدد سے بڑے پیمانے پر قتل عام انتہائی آسان بات ہے۔
باماکو اور اواگاڈوگو میں حملوں کے بعد اِس خطرے میں اضافہ ہو گیا ہے کہ دیگر علاقائی دارالحکومت بھی دہشت گردوں کے ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔
فرانس کی قیادت میں شمالی مالی کے اہم علاقوں میں جہادیوں کی حکومت کے خاتمے کی فوجی مہم کے تین سال بعد خطے میں القاعدہ کی شاخ ’القاعدہ فی بلاد المغرب‘ (اے کیو آئی ایم) اور دیگر اسلامی تنظیمیں اب مزید کسی علاقے پر قابض نہیں ہیں۔
اگرچہ الجزائری نژاد جہادی کمانڈر بل مختار اور اُن کے جنگجو جو المرابطون نامی تنظیم کے نام سے جانے جاتے ہیں خطے کے اہم شہروں پر حملے کرنے کے لیے مقامی طور پر جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کی پریشان کن صلاحیتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔
مزید یہ کہ یہ نئے نو عمر مغربی افریقی اسلامی ’شہیدوں‘ کو خودکش حملے کرنے کے لیے قائل کر رہے ہیں۔

باماکو کے ریڈیسن بلو ہوٹل میں حملہ کر کے وہاں کے عملے اور مہمانوں کا قتل عام کرنے والے حملہ آور نوعمر نوجوان تھے جب کہ اواگاڈوگو میں کیفے اور ہوٹل پر حملہ کرنے والے تینوں دہشت گرد بھی نوجوان تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اے کیو آئی ایم مغربی افریقی حکومتوں کی ناکامی کا فائدہ اُٹھا کر نوجوانوں کو اُمید کی کرن دکھا رہی ہے۔
یہ شدت پسند تنظیم نئی نسل کو زیادہ پر کشش سہولتیں دے رہی ہے جس کا بڑا حصہ غیر تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
تمام مغربی افریقی شہروں میں سے مالی کے دارالحکومت باماکو کو معروف اسلامی جنگجوؤں کی موجودگی کے لحاظ سے سب سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
جب تک برکینا فاسو کے سابق صدر بلیز کمپورے کو سنہ 2014 میں ہونے والی بغاوت کے بعد عہدے سے نہیں ہٹا دیا گیا اس وقت تک اوگاڈوگو میں بھی پریشانی کی کوئی صورت حال نہیں تھی۔
اپنے طویل دورِ اقتدار کے دوران مغربی افریقہ کے متعدد تنازعات میں کمپورے کا ہاتھ رہا ہے۔
کمپورے لائبیریا سے آئیوری کوسٹ اور مالی تک براہ راست یا بلاواسطہ کئی مسلح تنظیموں اور باغیوں سے رابطے میں تھے۔ یہاں تک کہ اکثر باغی رہنماؤں کی رہائش بھی اواگاڈوگو میں تھی جہاں اکثر امن مذاکرات منعقد کیے جاتے رہے ہیں۔
کمپورے کی حکومت نے اے کیو آئی ایم جیسی چند اسلامی تنظیموں سے بھی کسی نہ کسی طرح مصنوعی تعلقات قائم کر رکھے تھے۔

صدر کے چند آلۂ کار مغربی ممالک کے لیے کلیدی افراد تھے جو تاوان کے عوض اُن کے اغوا کیے گئے شہریوں کی رہائی میں کردار ادا کرتے تھے۔
لیکن کمپورے کے سیاسی نظام کے خاتمے کے ساتھ ہی اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں سے برکینا فاسو میں یہ رابطے کا ذریعہ بھی چلا گیا، اور اب یہ ملک ساحل (براعظم افریقا کی نیم صحرائی جغرافیائی پٹی) میں اُن کی موجودگی کے باعث خطرے سے دوچار ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اے کیو آئی ایم بھی ان حالات میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکتی ہے جب القاعدہ کی مخالف شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ دنیا بھر میں دیگر تنظیموں سے اتحاد بنا رہی ہے۔
گذشتہ سال ساحل میں دولتِ اسلامیہ نے بوکو حرام سے اتحاد کیا تھا۔
اِس مخالفت سے بھی اے کیو آئی ایم کی نئی پروپیگینڈا مہم کی وضاحت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ تنظیم نے اواگاڈوگو میں ہونے والے حملے کے دوران ہر قدم پر براہِ راست بیانات جاری کیے تھے۔
برکینا فاسو کی سرحد کے نزدیک ایک آسٹریلین جوڑے اور شمالی مالی میں ایک سوئس شہری کے حالیہ اغوا کے واقعے سے اے کیو آئی ایم کے طریقہ کار کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے۔

چند سالوں کے دوران اغوا برائے تاوان اسلامی شدت پسندوں کی کمائی کا اہم ذریعہ بن گیا ہے لیکن جہاں جہادیوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مغربی شہری اُن کا اہم ہدف ہیں، ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے خطے میں حملے کرنے کے ارادوں کا بھی اظہار کیا ہے۔
حالیہ چند مہینوں کے دوران سینیگال میں اسلامی تنظیموں سے تعلق کے شبے میں کئی شدت پسند نظریات رکھنے والے امام مسجدوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
گذشتہ سال کے آخر میں سینیگال کے حکام نے حملوں کی روک تھام کے لیے آتش بازی اور تہوار یا میلے کے موقعے پر اجتماعات کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی تھی۔
حملوں میں بچ جانے والے شہریوں کے پاس بیان کرنے کے لیے کئی خوفناک کہانیاں ہیں، جس سے خوف کی فضا میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ مغربی افریقی حکومتیں مضبوط درعمل دینے کی جدوجہد میں لگی ہیں لیکن اسی دوران بچ جانے والے شہریوں کی ڈرامائی کہانیوں سے علاقے میں سبھی واقف ہوگئے ہیں۔
ہر جگہ عوام اب ایک ہی خوفناک سوال کر رہے ہیں: اگلا وار کب اور کہاں ہو گا؟







