بیروت دھماکہ: پارلیمان کی عمارت کے قریب حکومت مخالف مظاہرین پر آنسو گیس شیلنگ، دھماکے کے بعد عوام میں شدید رنج و غم

،تصویر کا ذریعہReuters
جمعرات کے روز لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حکومت مخالف مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پارلیمان کے قریب اس قدر بدامنی پیدا ہو گئی کہ حکام کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔
مظاہرین کو منگل کے روز شہر میں ہونے والے دھماکے کے حوالے سے شدید غم و غصہ ہے۔ حکام کے مطابق دھماکہ 2750 ٹن امونیئم نائٹریٹ کو غیر محفوظ انداز میں رکھنے کی وجہ سے ہوا تھا۔ یہ دھماکہ خیز مواد اس مقام پر 2013 سے رکھا تھا۔
ملک میں بہت سے لوگ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ دھماکہ حکومتی نااہلی کا نتیجہ تھا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ شہر کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور کئی کلومیٹر دور تک عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک اندازے کے مطابق اس دھماکے سے 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور واقعے میں 137 افراد ہلاک اور پانچ ہزار زخمی ہوئے ہیں جبکہ درجنوں افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بندرگاہ کے حکام سمیت 16 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دو سینیئر حکام نے استعفے بھی دیے ہیں۔
دھماکے کے بعد ملک میں دو ہفتے کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے جبکہ تین روزہ سوگ بھی منایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امدادی کارروائیاں کہاں تک پہنچی ہیں؟
ملک کے سکیورٹی حکام نے دھماکے کے نزدیک ایک بڑا علاقہ سیل کر دیا ہے اور ملبے میں پھنسے افراد کو ڈھونڈا جا رہا ہے۔
وزیر برائے صحت عامہ حماد حسن نے کہا ہے کہ لبنان کے ہسپتالوں میں بستر کم پڑ گئے ہیں اور ایمرجنسی کا سازوسامان بھی بہت کم ہے جو انتہائی نگہداشت کے مریضوں کے لیے ضروری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا: 'بیروت کو کھانے پینے کی اشیا چاہییں۔ بیروت کو پہننے کے لیے کپڑے چاہییں۔ بیروت کو گھر چاہییں اور گھر بنانے کا سامان چاہیے۔ بیروت کو جگہ چاہیے جہاں وہ شہر میں موجود پناہ گزین کی مدد کر سکیں۔'
اسے بارے میں مزید پڑھیے
کئی ممالک نے لبنان کو مدد کی پیشکش کی ہے۔ فرانس کے تین طیارے امدادی کارروائیاں کرنے والے 55 افراد کو لے کر آ رہے ہیں جن کے ساتھ طبی امداد کا سامان بھی ہے۔
جمعرات کو فرانس کے صدر ایمنیوئل میکخواں پہلے عالمی سربراہ ہوں گے جو اس دھماکے کے بعد لبنان کا دورہ کریں گے۔
مختلف یورپی ممالک، ترکی، ایران، قطر، تیونس اور روس امدادی سامان بھیج رہے ہیں۔

دھماکہ ہوا کب تھا؟
یہ دھماکہ بیروت کی بندرگاہ کے علاقے میں ایک گودام میں چار اگست کو منگل کی شام مقامی وقت کے مطابق چھ بجے کے بعد ہوا اور یہ اتنا شدید تھا کہ پورا شہر ہل کر رہ گیا۔
اس کی شدت اتنی تھی کہ اس کے اثرات 240 کلومیٹر دور مشرقی بحیرۂ روم کے ملک قبرص میں بھی محسوس کیے گئے جہاں لوگوں نے اسے زلزلہ سمجھا۔
برطانوی یونیورسٹی شیفیلڈ سے منسلک ماہرین کا اندازہ ہے کہ بیروت دھماکے کی شدت اس جوہری بم کی شدت کا دسواں حصہ تھی جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کے شہر ہیروشیما میں گرایا گیا تھا۔ اور بلاشبہ یہ تاریخ کا سب سے شدید غیر جوہری دھماکہ تھا۔
دھماکے سے قبل بندرگاہ میں متاثرہ مقام پر آگ لگی دیکھی گئی جس کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا اور جائے حادثہ پر نارنجی رنگ کے بادل چھا گئے۔
اس دھماکے سے بندرگاہ اور اس کے نواح میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور کاروباری اور رہائشی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
معاشی بحران اور سیاسی کشیدگی میں گھرا لبنان
لبنان میں اس وقت سیاسی کشیدگی جاری ہے۔ حکومت کے خلاف زبردست عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ عوام موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
1975 سے 1990 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد لبنان میں آنے والا یہ بدترین معاشی بحران ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت سرحد پر اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی سے بھی نمٹ رہی ہے۔
اسرائیل نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے حزب اللہ کی طرف سے لبنان کی جانب سے اسرائیلی سرحدوں میں گھسنے کی کوشش ناکام بنا دی۔









